وزیراعظم کا دورہ چین

وزیراعظم کا دورہ چین
وزیراعظم کا دورہ چین

  



ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری پاک چین دوستی اپنی مثال آپ ہے۔ ہر کڑے اور کٹھن وقت میں چین نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے ۔ اقتصادی ترقی ہو یا سائنس و ٹیکنالوجی چین نے ہر شعبے میں پاکستان سے تعاون کیا ہے۔ عالمی سیاست میں بھی چین نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔ امریکہ اور بھارت کے ساتھ مختلف معاملات اور پاکستان کو دھمکیوں کی صورت میں چین نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا اور ایک قابل اعتماد دوست کی طرح ہماری پُشت پر کھڑا رہا جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

وزیراعظم محمد نواز شریف کاکامیاب دورہ چین پاک چین دوستی کو مزید بلندیوں پر لے جائے گا۔ ایک ایسے وقت میں جب بیرونی سرمایہ کار پاکستان آنے سے گریز کررہے ہیں چین نے دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے انقلابی قدم اٹھایا ہے۔

وزیراعظم پاکستان کا چین کے تعاون سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اورنوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا عزم انتہائی خوش آئند بات ہے ۔وزیراعظم کے دورہ چین کے دوران 42 ارب ڈالر کے 19 معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت تمام منصوبوں پر چین سرمایہ کاری کرے گا۔توانائی کے ان منصوبوں پر کوئی قرضہ یا امداد نہیں لی جائے گی۔ اتنی خطیر سرمایہ کاری کی کوئی دوسری مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔

چین کے تعاون سے توانائی اور انفراسٹرکچر کے بیشتر منصوبے 2017 تک مکمل ہوں گے۔جن سے کئی میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی اور ہزاروں نوجوانوں کو روزگارملے گا۔ لہذا یہ حقیقت عیاں ہے کہ وزیراعظم کے دورے کے نتیجہ میں چین کی طرف سے ان معاہدوں پر عمل درآمد کے آغاز کے ساتھ ہی ملک میں بہت بڑے پیمانے پر معاشی سرگرمیاں شروع ہو جائیں گی بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار ملے گا۔ اس کے نتیجے میں مایوسی کے بادل چھٹیں گے ملک کے مستقبل پر عوام کا اعتماد بحال ہو گا ۔ نوجوان نئے عزم سے آگے بڑھیں گے پوری قوم کو ذہنی خلفشار اور نااُمیدی کی کیفیت سے نجات ملے گی۔

وزیراعظم نوازشریف کا دورہ چین تین دن سے بھی کم وقت پر محیط ہے لیکن نتائج کے اعتبار سے پچھلے ساٹھ برسوں پر حاوی ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان معاہدوں کی رو سے تھر کول معاہدے کاذکر ضروری سمجھتا ہوں ۔ اس وقت تھر کے عوام جس کسمپرسی اور مشکلات سے دو چار ہیں اس معاہدے پر عمل درآمدکی صورت میں اُن کی قسمت بدل جائے گی تھر میں خوشحالی آئے گی۔ وزیراعظم کے حالیہ دورہ چین کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ چین ہمارا ایسا دوست ثابت ہوا ہے جس نے ضرورت کے وقت پاکستان کا ساتھ دیاہے۔ دنیا کے کئی ممالک کی آنکھوں میں پاک چین دوستی کھٹک رہی ہے۔ جس کے لئے وہ پاکستان میں سیاسی بحران پید ا کرکے چینی سرمایہ کاری روکنے کی کوشش کررہے ہیں ملک کے اندر حالیہ سیاسی بحران اسی سلسلے کی کڑی ہے لہذا یہ ذمہ داری پاکستانی عوام کی ہے کہ وہ سیسہ پلائی دیوار بن کر ان سازشوں کو ناکام بنائیں۔

ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے اور سیاسی استحکام کیلئے ہمیں حکومت کے ساتھ مل کر اُ ن عناصر کا راستہ روکنا ہو گا جو سیاسی عدم استحکام کے ذریعے ملک کی ترقی روکنا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کی سیاسی قیادت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

باہمی اختلافات کو دھرنوں اور جلاؤ گھراؤ کی سیاست کی بجائے جمہوری اور آئینی حدود میں رہ کر حل کیا جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو ملک و قوم کے لئے نقصان دہ ثابت ہوں۔

وزیر اعظم کے دورہ چین سے ترقی کی راہیں آسان ہوجائیں گی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ چین کو دیکھ دنیا کے دوسرے صنعتی اور امیرممالک کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب ملے گی۔ حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں چین کے تعاون سے پاکستان کی معشیت پٹڑی پر چڑھ گئی تونہ صرف عوام کی ضروریات احسن طریقے سے پوری ہوں گی اور پاکستان خوشحالی کے سفر پر گامزن ہوگا بلکہ اُن لوگوں کے عزائم پر بھی اوس پڑجاے گی جو سیاسی عدم استحکام کے ذریعے ملک و قوم کی ترقی روکنا چاہتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک چین قیادت اُن عناصر پر کڑی نگاہ رکھیں جو دونوں ممالک میں فاصلے پیدا کرنا چاہتے ہیں بالخصوص پاکستانی عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی تمام سازشوں کو ناکام بنائیں تاکہ پاکستان اپنے مخلص دوستوں سے محروم نہ ہونے پائے۔ *

مزید : کالم