سعودی خواتین اب ہر قسم کی ملازمت کر سکتی ہیں؛آئی ایل او نے پرخطر شعبے بھی خواتین کے لئے کھلوا دیئے

سعودی خواتین اب ہر قسم کی ملازمت کر سکتی ہیں؛آئی ایل او نے پرخطر شعبے بھی ...

ریا ض(آن لائن)اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے دباؤ میں آ کر سعودی عرب میں خواتین کے لئے ہر قسم کی ملازمتوں کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں۔سعودی اخبار روزنامہ 'مکہ' کے مطابق اس سے قبل سعودی وزارت لیبر نے پرخطر ملازمتوں کے دروازے خواتین پر بند کر رکھے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی وزارت محنت نے آئی ایل او کے لیبر قانون کی دفعہ 149 کی توثیق اس شق کے اضافے کے ساتھ کی تھی جس میں خواتین کو برابری کی بنیاد پر ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کی ضمانت دی گئی تھی بشرطیکہ اختیار کیا جانے والا پیشہ خواتین کے لئے خطرناک نہ ہو۔لیکن عالمی ادارے نے سعودی ترمیم پر ناخوشی کا اظہار کرتے ہوئے دعوی کیا کہ اس سے خواتین کے لئے ملازمتوں کے مواقع محدود ہونے کا تاثر ملتا ہے۔سعودی وزیر محنت نے آئی ایل او کے کی رائے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارے لیبر قانون میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے خواتین کو مردوں کے مقابلے میں غیر مساویانہ سلوک کا سامنا ہو۔

، بلکہ یہ خواتین کی نسوانیت کا تحفظ کرتا ہے۔" مملکت میں سعودی خواتین مکمل بااختیار ہیں۔ وہ آزادانہ انتظامی عہدوں پر کام اور اپنا کاروبار کر سکتی ہیں۔ وہ تمام شعبوں میں کلیدی عہدوں پر کام کر سکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خواتین سرکاری شعبے اور سیاسی معاملات میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ "خواتین بلدیہ کا انتخاب لڑ سکتی ہیں اور ووٹ دے سکتی ہیں۔ وہ مملکت کے اعلی پالیسی ساز ادارے 'شوری کونسل' اور دیگر اہم اداروں کی رکن ہیں۔"یاد رہے سعودی حکومت نے مشرقی صوبے ھفوف میں ایک 'خواتین دوست' شہر بسانے کا منصوبہ بنا رکھا ہے تاکہ مذہبی تعلیمات کا لحاظ رکھتے ہوئے خواتین کے لئے ملازمتوں کے مواقع بڑھائے جا سکیں۔ نیز وزارت محنت نے ایک خصوصی پروگرام کے تحت خواتین کے زیر جامہ فروخت کرنے والی دکانوں پر مرد سیلز مین کی جگہ صرف سیلز گرلز مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔آکسفورڈ اسٹریٹیجک کونسل کے مطابق 28 ملین سعودی آبادی 45 فیصد خواتین پر مشتمل ہے۔ ان 45 فیصد خواتین میں 57 فیصد اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔#/s#

مزید : کامرس