جدید ٹیکنالوجی سے ایکواکلچر کامعیار اور پیداوار میں اضافہ ممکن ہے: ڈاکٹر محمد ایوب

جدید ٹیکنالوجی سے ایکواکلچر کامعیار اور پیداوار میں اضافہ ممکن ہے: ڈاکٹر ...

لاہور ( جنرل رپورٹر)ڈائریکٹر جنرل ماہی پروری پنجاب ڈاکٹر محمد ایوب نے کہا ہے کہ ایکواکلچر کے شعبہ میں نئے رجحانات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اس کی کوالٹی اور پیداوار میں اضافہ ممکن ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں 158 ملین ٹن سالانہ سے زائد مچھلی قدرتی طور پر اور فش فارمنگ کے ذریعے پیدا ہوتی ہے جس سے 136 ملین ٹن کھانے والی مچھلی حاصل ہوتی ہے جبکہ 66 ملین ٹن سے زائدمچھلی فش فارمنگ کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے جو کہ کل پیداوار کا نصف سے زائد ہے۔انہوں نے یہ بات فشریز ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ مناواں میں ماہی پروری کے عالمی دن کے حوالے سے فش کلچر ٹیکنیکس کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پرسندھ یونیورسٹی جا مشورو کے پروفیسر ڈاکٹر نعیم طارق نوریجہ،اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شائستہ اور ورچوئل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ایم شریف مغل، محکمہ کے اعلی افسران کے علاوہ ماہی پر وری کے شعبہ سے وابستہ افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ دنیا میں 50 ملین سے زائد افراد مچھلی کی صنعت سے وابستہ ہیں اوراس وقت مچھلی تقریبا ساڑھے چار ارب لوگوں کی غذا کا حصہ بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مچھلی کے گوشت کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لئے ایکواکلچر کے لئے نئی نئی اقسام متعارف کروانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر محمد ایوب نے کہا کہ مچھلی کی افزائش کے لئے فش فارمنگ کے شعبہ میں کیج کلچر Cage Culture) ) اور ریس وے کلچرRace Way Culture) ) کے طریقوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں بائیو فلاک ٹیکنالوجی Bio Floc Technology) ) پرو بائیوٹکس ٹیکنالوجیPro Biotics Technology) ) اور جی ایم او Genetically Modified Organism)) یعنی جنیاتی تبدیلیوں کے ذریعے پیداوار میں بڑھوتری پر تیزی سے کام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مچھلی کی معدوم ہوتی نسلوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور پورے ریجن میں پہلی بار مہاشیر مچھلی کی بریڈنگ کروائی گئی ہے جس میں محکمہ کو بڑی کامیابی ملی ہے اور اس کا فش سیڈ تیار کر کے واپس دریاؤں میں چھوڑا جا رہا ہے۔ڈی جی فشریز نے کہا کہ انٹینسو فش سیڈ رےئرنگ Intensive Fish Seed Rearing)) کے ذریعے کم جگہ پر زیادہ سے زیادہ بچہ مچھلی پیدا کی جا سکتی ہے اور اس سلسلہ میں میاں چنوں ور فیصل آباد میں کامیاب تجربات کیئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بائیو ڈائیورسٹی ہیچری چشمہ بیراج میں تمام قسم کی مچھلیوں کی مصنوعی نسل کشی کے ذریعے ان کی افزائش کر کے واپس انڈس ریور سسٹم میں چھوڑا جا رہا ہے تاکہ ان کی نسل کو محفوظ بنایا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ مچھلی کی کوالٹی ایشورنس کے لئے مناواں میں جدید تقاضوں کے مطابق بین الاقوامی معیا ر کی لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور اس سہولت سے فش فارمرز احسن طریقے سے مستفید ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبہ میں بچہ مچھلی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لئے 400 ملین روپے کی لاگت سے لاہور میں ایک بڑی ہیچری اور صوبہ کے مختلف اضلاع میں پانچ نئی نرسریاں بنائی جا رہی ہیں جس سے زیادہ تعداد میں فش سیڈ کی تیاری ممکن ہو سکے گی۔ایکواکلچر کو سٹیٹ آف دی آرٹ بنانے کے لئے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائیزیشن کے تکنیکی تعاون سے گڈ ایکواکلچر پریکٹسزes) Good Acquaculture Practis)کو متعارف کروایا جا رہا ہے تاکہ فش فارمنگ کے شعبہ کو مزید بہتر بنا کر مچھلی کی کوالٹی پیداوار حاصل کی جا سکے۔

مزید : کامرس