مسلح افواج ملک میں دہشت گردی کے خلاف بر سرپیکار ہے باہر کیسے بجھوائیں:طارق فاطمی

مسلح افواج ملک میں دہشت گردی کے خلاف بر سرپیکار ہے باہر کیسے بجھوائیں:طارق ...
مسلح افواج ملک میں دہشت گردی کے خلاف بر سرپیکار ہے باہر کیسے بجھوائیں:طارق فاطمی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے کہا ہے کہ ہماری مسلح افواج اپنے ملک میں دہشتگردی کے خلاف برسر پیکار ہیں، پاکستان کو خود بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کیلئے حکومت اور مسلح افواج ایک ساتھ کھڑی ہے، ایسی صورت میں ہم اپنی افواج کیسے کہیں باہر بھجوا سکتے ہیں، ہم اپنی مشکلات چھوڑ کر کہیں آگے تو نہیں جا سکتے، نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اور مسلح افواج نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ضرب عضب کے تحت ملک سے دہشتگردی و انتہاءپسندی کے جڑ سے خاتمے کیلئے کوشاں ہیں، پاکستان نے دہشتگردی و انتہاءپسندی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں جنہیں قومی اور عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پیرس جیسے واقعات برداشت کر چکے ہیں اس لئے پیرس کے لوگوں کی تکلیف اور دکھ کی اس گھڑی کو سمجھ سکتے ہیں، یورپی یونین کے ساتھ تارکین وطن کے معاہدے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میںطارق فاطمی کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے ساتھ تارکین وطن کا معاہدہ معطل نہیں ہوا بلکہ فعال ہے، ا وزیر داخلہ چوہدری نثار نے تارکین وطن کے حوالے سے یورپی یونین سے جن تحفظات کا اظہار کیا وہ بالکل درست اور جائز تھے جن میں ان سے یہ کہا گیا کہ پاکستانی حکومت سے رابطہ کئے بغیر کوئی ایسا فیصلہ نہ لیا جائے جس سے پاکستانی امیج متاثر ہو۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے کرکٹ بورڈ کو بھارت کی طرح کھیلنے کیلئے حکومت اجازت کی کوئی ضرورت نہیں البتہ چند معاملات پر تجاویز لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ، شہریار خان خود ایک اچھے سفارتکار ہیں جو معاملات کو بہتر طریقے سے ہینڈل کر سکتے ہیں۔ طارق فاطمی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے پی سی بی سے بھارت کے ساتھ کھیلنے کے لئے اجازت کا نہیں کہا تھا بلکہ یہ کہا تھا کہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے پاکستان کے وقار یا امیج کو کوئی نقصان ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ کرکٹ سمیت تمام معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو تیار ہیں لیکن بھارت کی جانب سے پیشگی شرائط قابل قبول نہیں۔ شدت پسند تنظیم داعش کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میںطارق فاطمی کا کہنا تھا کہ داعش انسانی رویے کی ایک بدترین شکل ہے جسے کسی بھی صورت پاکستان میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اسے کوئی ایسا موقع فراہم کیا جائے گا کہ وہ اپنے پاﺅں یہاں جما سکے۔ انہوں نے کہا کہ ویسے بھی ہماری انسداد دہشتگردی پالیسی میں کسی بھی دہشتگرد کو خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں سے بھی ہو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بنگلہ دیش کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم بنگلہ دیش میں امن کے خواہاں ہیں اور بنگلہ دیش میں امن ہوگا تو ہمیں خوشی ہوگی، ہم بنگلہ دیش کو بہتری کیلئے تجاویز دے سکتے ہیں جنہیں وہ قبول کرے یا نہ کرے یہ اسکی مرضی ہے، ہم بنگلہ دیش کے ساتھ 1974ءمیں کئے جانے والے معاہدے کے تحت آگے بڑھنے کے خواہاں ہیں۔

مزید : قومی /اہم خبریں