ریٹنگ کی اس دوڑ میں اصل ڈرامہ پیچھے رہ گیاہے

ریٹنگ کی اس دوڑ میں اصل ڈرامہ پیچھے رہ گیاہے

عائزہ خان ٹی وی کی بہت باصلاحیّت اورخوب صورت اداکارہ ہیں۔اگرچہ اب تک کئی ڈراموں میں کام کرچکی ہیں لیکن ان کاایک ڈرامہ ’’پیارے افضل‘‘ہی سب پربھاری ہے جس پرانہیں اس سال بہترین اداکارہ کالکس اسٹائل ایوارڈ بھی ملا ہے۔عائزہ خان نے دانش تیمورسے شادی اوربیٹی کی پیدائش کے بعدشوبزسرگرمیاں پھر سے شروع کردی ہیں۔’’پیارے افضل‘‘ پاکستان کے بعدجب بھارت میں زی زندگی چینل پردکھایا گیا تو وہاں بھی لوگوں نے اسے بہت پسندکیا حتیٰ کہ اس کی آخری قسط وہاں بڑی سکرینز پر دکھائی گئی تھی۔اب عائزہ خان کواداکار عمران عباس کے بالمقابل ڈرامہ سیریل ’’تم کون پیا‘‘میں کاسٹ کیا گیا ہے۔یہ ڈرامہ ماہا ملک کے مشہور زمانہ ناول ’’تم کون پیا‘‘ سے ماخوذ ہے جسے یاسرنواز ڈائریکٹ کریں گے۔ عائزہ خان اب تک کئی ڈراموں‘ٹیلی فلموں‘ ویڈیوز اوراشتہارات میں جلوہ گر ہوچکی ہیں۔2008ء میں نجی ٹی وی کے ڈرامے’’تم جو ملے‘‘ سے فنّی سفر کا آغازکرنے کے بعد وہ آگے ہی آگے بڑھتی گئیں۔پُل صراط‘لڑکیاں محلّے کی‘ٹوٹے ہوئے پر‘زرد موسم‘می رقصم، ادھوری عورت‘میراسائیں(2)،کس دن میراویاہ ہوئے گا‘ماہی آئے گا‘کالا جادو‘صندل‘مائیں نی ’’کہی ان کہی،عکس،غلطی سے مِس ٹیک ہوگئی،پیارے افضل اوردیگر بے شُمارکامیاب ان کے کریڈٹ پرہیں۔’’پیارے اٖفضل‘‘میں اَکھڑ اورخودسرلڑکی کے کردارنے توتمام کرداروں کوپیچھے چھوڑدیاہے۔عائزہ نے شہزادرائے کے ویڈیوکیا ڈرتا ہے‘کومیل مرتضٰی کے ’’بے وفا‘‘ اورایکسس کے’’ہمسفر‘‘ میں ماڈلنگ بھی کی تھی۔

عائزہ خان کااصل نام توکنزاخان ہے لیکن شوبز میں عائزہ خان کے نام سے ہی مشہورہیں اوریہی نام ان کی پہچان ہے۔سولہ برس کی عمر میں شوبزکیریئرکاآغاز کرنے کے بعد عائزہ نے پھرپیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔شوبز میںآمد کے حوالے سے عائزہ کہتی ہیں کہ میں نے کیریئر کاآغازماڈلنگ سے کیاتھااوراداکاری کی طرف نہیں آنا چاہتی تھی بس اتفاقاً شوبزکاحصّہ بن گئی کیونکہ کئی لوگ چاہتے تھے کہ میں ڈراموں میں کا م کروں۔میری فیملی نے بھی مجھے بہت سپورٹ کیاہے۔ جہاں تک شوبزمیں اُستادکاتعلّق ہے توشوق ہی میرا اُستاد ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ میں نے سینئرز کاکام دیکھ دیکھ کربھی سیکھا ہے۔میں نے شوبزمیں بہت محنت سے مقام بنایا ہے جسے برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کروں گی۔کرداروں کے حوالے سے عائزہ خان کاکہنا ہے کہ شایدمیری شخصیّت کودیکھتے ہوئے مجھے معصوم اوربھولے بھالے کرداردیئے جاتے ہیں جومجھے اچھّے بھی لگتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں زیادہ ترایسے ہی کردارنظرآتے ہیں لیکن مجھے جب بھی موقع ملا ہے میں نے کچھ مختلف کرنے کی کوشش کی ہے۔لوگ مجھے اس طرح کے کرداروں میں زیادہ پسند کرتے ہیں۔میں کردارکوخود پرحاوی کرلیتی ہوں اسی لئے رونے دھونے والے کرداروں میں مجھے گلیسرین استعمال کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ کردارکوطاری کرلیاجائے توآنسوخودبخود نکل آتے ہیں۔ڈائریکشن کی طرف آنے کے حوالے سے عائزہ خان کا کہناہے کہ میراایساکوئی ارادہ نہیں ہے اورساری توجّہ اداکاری پرمرکوز رکھناچاہتی ہوں۔آج کل اگرچہ بہت کام ہورہاہے لیکن میں بھیڑچال کا شکارہونے کی بجائے ایک وقت میں ایک ہی کام کرتی ہوں۔میں کوئی بھی ڈرامہ سائن کرنے سے پہلے اسکرپٹ ضرور پڑھتی ہوں اوراگرکرداردل کو لگے توہی حامی بھرتی ہوں کیونکہ ہرفنکار ہر طرح کے کردار نہیں کرسکتا۔ماہی آوے گا اورجس دن میرا ویا ہ ہووے گا میں میرے بہت ہلکے پُھلکے کردار تھے۔’’پیارے افضل‘‘میں بھی ایسی لڑکی کاکردار تھاجوبظا ہرسخت مگراندرسے نہایت حسّاس ہوتی ہے اوریہ کردارکرتے ہوئے مجھے بہت اچھّا لگاتھا۔صباحمید،ثانیہ سعیداورمُحب مر زا کے ساتھ کام کرنا خوشگوار رہاہے۔جہاں تک کرداروں کے انتخاب کا تعلّق ہے تومیں سب سے پہلے یہ دیکھتی ہوں کہ کہانی میں ہماری معاشرتی اقدارکاکس قدرخیال رکھا گیا ہے۔اس کے علاوہ ساتھی فن کا روں کو بھی دیکھتی ہوں کہ ان کے ساتھ کام کرکے مجھے کچھ سیکھنے کوملے گااورمیں ان کے ساتھ کام کرکے خوشی محسوس کروں گی۔مجھے ’’می رقصم‘‘میں اپناکر دارواقعی چیلنج لگاتھا کیونکہ اس میں میک اَپ نہیں کیاتھا۔میں فہد مصطفٰی،مُحب مرزااورسمیع خان سے متاثرہو ں۔شادی کے بعدگھر اورشوبزمیں توازن رکھنے کے حوالے سے عائزہ خان کاکہناہے کہ میں فیملی کوپورا وقت دیتی ہوں اوردونوں کے درمیان توازن برقراررکھے ہوئے ہوں۔میں نے شوبزمیں کام کے دوران یہی سیکھا ہے کہ سب کی عزّت کریں اوراپنا کام دیانت داری سے کریں۔اللہ ضرورعزّت دے گا۔مجھے ملنے والا بہترین اداکارہ کاایوارڈاس کاواضح ثبوت ہے۔آج کل کراچی میں اچھّی فلمیں بننا شروع ہوگئی ہیں جن میں زیادہ تر ٹی وی کے فن کار کام کررہے ہیں۔خودعائزہ خان کے شوہردانش تیموربھی کئی فلموں میں کام کررہے ہیں۔’’جلیبی‘‘اور’’رانگ نمبر‘‘ریلیزبھی ہوچکی ہیں۔فلموں میں کام کے حوالے سے عائزہ خان کا کہنا ہے کہ مجھے کئی فلموں میں کام کی پیشکش ہوئی تھی لیکن میں خودکوفلموں کیلئے موزوں نہیں سمجھتی۔پہلے اورآج کے ڈرامے میں فرق کے حوالے سے عائزہ خان کاکہنا ہے کہ یہ پاکستان کی پہچان رہاہے۔لیکن اب چونکہ چینلزبہت زیادہ ہوگئے ہیں اور ان کے درمیان ریٹنگ کی دوڑلگی ہوئی ہے اورریٹنگ کی اس دوڑ میں اصل ڈرامہ پیچھے رہ گیاہے۔ ’’کیاشارٹ کٹ سے ملنے والی کامیابی دیرپاہوسکتی ہے؟‘‘اس حوالے سے عائزہ خان کا کہناہے کہ عزّت اورشُہرت قسمت سے ملتی ہے۔مجھے جوعزّت اورشُہرت ملی ہے وہ میری قسمت میں لکھی تھی۔

مزید : ایڈیشن 2