حضرت مراد علی شاہ المعروف پیر مرادیہ

حضرت مراد علی شاہ المعروف پیر مرادیہ

سرزمین سیالکوٹ شہدائے اسلام کی دھرتی ہے جنہوں نے اپنے مقدس خون سے اس خطے کو نور اسلام سے منور کیا اور دور دور تک اسلام کا بول بالا ہو گیا۔ انہی شہدائے اسلام میں ایک نام حضرت مراد علی شاہ المعروف پیر مرادیہ کا بھی ہے جنہیں کفرستان ہند میں شہید اول ہونیکا شرف حاصل ہوا۔ 757ھجری میں ہندو راجہ ’’سل‘‘ نے سل کوٹ (موجودہ نام سیالکوٹ) میں ایک عظیم الشان قلعہ کی تعمیر شروع کی۔ قلعہ کی شمالی دیوار تعمیر کے بعد اگلی صبح خود بخود زمیں بوس ہو جاتی۔ اس صورتحال نے ’’راجہ ‘‘ کو سخت پریشانی سے دوچار کر دیا۔ بالآخر راجہ سل نے تنگ آ کر ہندو پنڈتوں اور جوتشیوں کو اپنے دربار میں مدعو کر کے ان سے قلعہ کی شمالی دیوار کے بار بار مسمار ہونے کی وجہ طلب کی۔جوتشیوں اور نجومیوں نے کافی سوچ بچار کے بعد بتایا کہ اگر اس دیوار کی بنیادوں میں کسی مسلمان کا خون بہا دیا جائے تو پھر یہ دیوار کبھی نہیں گرے گی۔

راجہ سل کے حکم پر ایک مسلمان کی تلاش شروع کر دی گئی۔ کافی تگ و دو کے بعد مراد علی نامی ایک نوجوان مسلمان تاریخی نالہ ’’ایک‘‘ کے کنارے وضو کرتے پکڑا گیا جسے راجہ سل کے دربار میں پیش کردیا گیا۔ آپ نے اپنے پکڑے جانے کی وجہ دریافت کی تو بتایا گیا کہ قلعہ سیالکوٹ کی شمالی دیوار کو برقرار رکھنے کی خاطر اس کی بنیادوں میں مسلمان کا خون نچھاور کرنے کی ضرورت ہے جس پر آپ نے بذات خود اپنی ایک انگلی شہید کر کے اس کا خون قلعہ کی شمالی دیوار میں نچھاور کر دیا اور یوں قدرت خداوندی سے قلعہ سیالکوٹ کی شمالی دیوار تھم گئی جس سے راجہ سل اور اس کے ساتھی بے حد متاثر ہوئے۔ راجہ نے سوچا کہ جس شخص کی انگلی کے خون کی اس قدر تاثیر ہے تو اس کے سر کے خون میں کیا قوت ہو گی۔ چنانچہ متفقہ فیصلہ کے بعد مراد علی نامی مسلمان کو راجہ سل نے زبردستی شہید کروا کر ان کے سرمبارک کو زیر تعمیر قلعہ سیالکوٹ کی شمالی دیوار میں دفن کر دیا گیا اور یوں دیوار اپنی جگہ پرقائم رہی اور بالآخر قلعہ سیالکوٹ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا۔

مراد علی المعروف پیر مرادیہ کا مزار پر انوار سیالکوٹ کی شمالی جانب قلعہ سیالکوٹ پر ہی مرجع خلائق ہے اور مخلوق خداوندی انہیں پیر مرادیہ ؒ کے نام سے پکارتی ہے ۔ آپ ؒ کا دربار دکھیا دلوں کا سہارا اور نامرادوں کا ملجا ہے۔جہاں حاضری دینے والوں کی اللہ کے فضل و کرم سے’’مرادیں‘‘ پوری ہوتی ہیں اور ذہنی و قلبی سکون کی بے پایاں نعمت میسر ہوتی ہے۔ آپ کی شہادت سر زمین سیالکوٹ میں کفر والحاد کے خاتمہ اور سربلندی اسلام کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ آپؒ ہی کی شہادت کے نتیجہ میں یہاں جہاد بالسیف ہوا اور حضرت سید امام علی الحق شہیدؒ نے دور دور تک اسلام کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ برصغیر میں اسلام کی اشاعت و تبلیغ کا سہرا شُہدائے اسلام اور اولیائے کرام کے سر ہے جس میں اول شہید پیر مرادیہ کی خدمات بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ حضرت پیر مرادیہ کی والدہ ماجدہ مائی راستی کا مزار اقدس بھی آپ کے پہلو میں واقع ہے اور یوں ماں بیٹے کے مزارات ایک ساتھ ہونے کی یہ ملک بھر میں منفرد مثال ہے۔

حضرت پیر مرادیہ کے قتل ناحق کا بدلہ حضرت سید امام علی الحق شہید (امام صاحب) نے راجہ سل کے خلاف جہاد باسیف کے ذریعے لیا اور اس سر زمین پر پرچم اسلام سر بلند کر کے یہاں سے کفر و شرک کا خاتمہ کیا۔راجہ سل کے خلاف جنگ کے دوران قلعہ سیالکوٹ کے دیوہیکل دروازے کو ٹکر مار کر توڑنے والے عظیم مجاہد اسلام حضرت پیر سرخ روح شہیدؒ کا مزار اقدس بھی مرجع خلائق ہے۔ دربار عالیہ حضرت پیر مرادیہ کے پہلو میں کھڑے ہو کر طائرانہ نظر دوڑانے سے شہر سیالکوٹ کا خوبصورت منظر نظر آتا ہے جبکہ مطلع صاف ہونے کی صورت میں جموں و کشمیر کافلک بوس پہاڑی سلسلہ اور رات کو ان پہاڑوں پر لائٹنگ بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ قلعہ سیالکوٹ پر حضرت پیر مرادیہ کے قدموں میں ٹی ایم اے کے دفاتر، پولیس تھانہ کوتوالی اور گورنمنٹ کمرشل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ بھی واقع ہے جبکہ پنج پیر کا مزار بھی مرجع خلائق ہے۔ آپ کا سالانہ عرس مبارک 11تا 13صفر المظفر برقلعہ سیالکوٹ دربار عالیہ کے گدی نشینیاں پیر سید سید تبارک علی شاہ و سید ندیم علی شاہ (پسران پیر سید مبارک علی شاہؒ )،سید خادم حسین شاہ اور سید جاوید علی شاہ کے زیر سرپرستی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جائیگا۔ تقریبات کا آغاز 11صفر المظفر کو بعد از نماز عشاء سالانہ رسم غسل شریف کیساتھ ہو گا۔ اس موقعہ پر مزار اقدس کو عرق گلاب اور مشک وغیرہ کے ساتھ غسل دیا جائیگا، اسی روز بعد از غسل عارفانہ / صوفیانہ کلام کی سالانہ محفل بھی منعقد ہو گی جس میں نامور نعت خوانان اور گلوکار حصہ لیں گے۔12صفر المظفر کو بعد از نماز عصر سالانہ رسم چادر پوشی ادا کی جائے گی جبکہ بعد از نماز عشاء فقید المثال سالانہ محفل سماع منعقد ہو گی۔ آخری روز بعد از نماز عشاء محفل حسن قرأت و نعت خوانی منعقد ہو گی اور علماء مشائخ خطاب کریں گے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...