شوکت خانم ہسپتال:خوابوں کی تعبیر

شوکت خانم ہسپتال:خوابوں کی تعبیر

خوابوں کی تعبیر کیسے ممکن ہوتی ہے۔ اندھیروں میں روشنی کیسے پہنچتی ہے ۔ درد کو درماں کیسے ملتا ہے اور ایک جان کو کیسے بچایا جا سکتا ہے ۔ دعا کے ساتھ دوا کیسے ہو تی ہے ۔ یہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کی تعمیر نے ہمیں دکھایا ۔جو کہ محض ایک خواب تھا اب ایک تعبیر ہے۔ یہ خواب دیکھا تھا پا کستان کے ایک نامور سپوت عمران خان نے جس نے کینسر جیسے موذی مرض میں اپنی والدہ کو کھودینے کے بعداپنے ہم وطنوں کے بار ے میں سوچا جو اس مرض کا شکا رہورہے تھے لیکن علاج سے محروم رہتے تھے ۔وہ تنہا ہی نکلا تھا ....لوگ ملتے گئے اور کا رواں بنتا گیا ۔عمران خان نے ملک کے طول وعرض کے ساتھ ساتھ بیرونی ممالک کے دورے کئے ، انہو ں نے اہل درد کے دروازوں پر دستک دی اور انسانیت کی بقا کے لیے ان کو بیدار کیا ۔ اس نے یہ خیا ل باور کرایا تھا کہ عباد ت کے لئے فرشتے کم نہ تھے مگر خدا نے ہمیشہ اپنے بندوں سے پیار کرنے والوں پر اپنی رحمت کی ہے اور اسی رحمت کے سبب دسمبر 1994ء لا ہو ر میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کا افتتاح کیا گیا ۔آغاز ہی سے اسے غیرمنا فع بخش پراجیکٹ رکھا گیا تھا ۔ اس ہسپتال کی تعمیر کے لیے جہاں گم نام افراد نے حصہ لیا وہا ں نامور فلمی ستاروں اور شخصیات نے بھی اس مہم میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا ۔ ان شخصیات میں دلدار پرویز بھٹی، سنیل گواسکر ،عامر خان، نصرت فتح علی خان نے ایسے کنسرٹس میں شرکت کی جو شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لیے منعقد کئے جاتے رہے ہیں ۔ لیڈ ی ڈیا نا بھی اس ہسپتا ل کا دور ہ کر چکی ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ہر سال پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ افراد کینسر کا شکار ہو تے ہیں ۔ ایسے کئی مریض ہیں جن کو علا ج کرانے میں تاخیر ہو جا تی ہے یا وہ اپنے جسم میں پنپنے والے اس مرض سے آگا ہ نہیں ہو تے اور جب انہیں پتہ چلتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہو تی ہے ۔ لیکن جو ابتدا ہی میں جان جا تے ہیں ان کا علاج بہت آسان اور زندگی بچانا ممکن ہو تا ہے ۔ ملکی سطح پر شوکت خانم کینسر ہسپتا ل واحد ہسپتا ل ہے جو کینسر کے مریضوں کو بین الاقوامی معیا ر کا مفت علاج فراہم کر تا ہے ۔شوکت خانم ہسپتال ایک تحریک ہے .....یہ انسان کو بچانے کی ایک جدوجہد ہے ۔ جو انسانوں کے تعاون سے ہی کامیاب ہو سکتی ہے ۔ لاکھوں مریض شوکت خانم ہسپتال سے فیض یا ب ہو چکے ہیں ۔ شوکت خانم کینسر ہسپتا ل میں علاج کے ساتھ ساتھ ریسرچ کا کام بھی جاری ہے ۔ یہ اپنی نو عیت کا ایک منفرد ہسپتال ہے جس کا اس سے پہلے تصور نہیں کیا گیا تھا ۔ عوام کی جا نب سے دی جا نے والی امداد کی ایک ایک پائی کا حساب ان کی اپنی دسترس میں ہے ۔ اس ہسپتال کے لیے امدادی مہم میں حصہ لینے سے پہلے آپ خود اس ہسپتال کا دور ہ کر سکتے ہیں اور زیرعلاج مریضوں سے مل کر مشاہد ہ کر سکتے ہیں کہ کینسر کا مو ذی مر ض کس قدر جان لیوا اور نا قابل برداشت ہے ۔ انسان کا یہ درد آپ کی مدد سے ختم ہو سکتا ہے اور کم تر بھی کیا جا سکتا ہے ۔

شوکت خانم ہسپتال لاہور میں آنے والے مریضوں کا تعلق پاکستان کے تمام علاقوں سے ہوتا ہے۔ شوکت خانم ہسپتال کا مشن ہے کہ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں کہ لوگوں کو ان کے گھر کے قریب کینسر کے علاج کی سہولتیں میسر ہوں۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے پشاور میں شوکت خانم کینسر ہسپتال تکمیل کے قریب ہے اور ایک خبر کے مطابق امسال دسمبر میں یہ ہسپتال مریضوں کا علاج شروع کردے گا۔ اس طرح خیبرپختونخواہ اور گردونواح کے لوگوں کو کینسر کے علاج کی بین الاقوامی معیار کی سہولت میسر آجائے گی۔ پینتالیس ہزار اسکوائر فٹ رقبے پر مشتمل یہ ہسپتال تما م جدید طبی سہولتوں سے لیس ہو گا او ر اس میں شوکت خانم کینسر ہسپتال لا ہو ر سے زیادہ مریضوں کے علاج کی سہولت مو جو د ہو گی ۔ سات منزلہ عمارت کو کینسر ہسپتال کی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے ۔اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے اس ہسپتال کیلئے بھی دنیا بھر سے صاحب حیثیت اور عام لوگوں نے بھرپور تعاون فراہم کیا ہے جبکہ جدید آلات کیلئے مزید اسی کر وڑ روپے کی ضرورت ہوگی۔

پاکستان میں درد دل رکھنے والے بے شمار افراد مو جو د ہیں ۔ آئیے آگے بڑھیں اور آپ کے منتظر ضرورت مندوں کا ہا تھ تھام لیں کیونکہ ایک جا ن کو بچانا پوری انسانیت کو بچانا ہے ۔ اب اس درد کو مٹا نا ہے اور یہ پیغام گھر گھر پہنچانا ہے۔ شوکت خانم میںآنے والے مریضوں میں معصوم بچے بھی شامل ہیں جن کے سامنے آنے والا کل ہے ۔ یہ بچہ کل ایک ڈاکٹر بھی ہو سکتا ہے ، ایک سپا ہی، انجینئر اور سائنسدان بھی بن سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں انہیں بچا کر اپنے مستقبل اور آنے والے کل کو محفوظ کر نا ہے ۔ یہ کا ر خیر ہے کو ئی ذاتی تشہیر یا کا روبار نہیں ہے۔ قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے ۔ آ پ کی امداد انسانوں کی اس تکلیف کو کم ہی نہیں بلکہ ختم کر سکتی ہے۔ آگے بڑھیں اور کینسر کے مریضوں کو اپنے تعاون کا یقین دلائیں اور عملی طور پر ان کی مدد کریں ۔خدا نہ کرے ہمارا کو ئی اپنا بھی اس مرض میں مبتلا ہو ...ہم ان مریضوں کی شفا کے لیے دعا کے ساتھ ساتھ دوا کا بندوبست کرنے میں کو ئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں ۔ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال ایک ایسی مثال ہے جس کا نام تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جا ئے گا اور آنے والی نسلیں بھی اپنے اہل وطن پر فخر کریں گی ۔ شوکت خانم ہسپتال لاہور کی طرح پشاور ہسپتال کی بھی بھرپور مدد کریں کیونکہ یہ ہسپتال خیبرپختونخواہ اور اس علاقے کے مریضوں کیلئے یقینی طور پر مفید ہوگا۔ تو پھر دیر نہ کریں کو ئی بچہ کو ئی جواں اور کو ئی اپنے اہل خانہ کا واحد کفیل آپ کا منتظر ہے ۔ انسانیت کی بقا کے لیے اس مہم میں حصہ لیں اور مدد کریں ان کی جن کو آپ کو ضرورت ہے ۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...