تاریخ پنجاب کا ایک ورق: مناظرہ بازی

تاریخ پنجاب کا ایک ورق: مناظرہ بازی
تاریخ پنجاب کا ایک ورق: مناظرہ بازی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پرانی کتابوں کے سٹال پر میں کتابیں پھرول رہا تھا کہ اچانک ایک کتاب نے میری توجہ کھینچ لی۔ عنوان تھا: ’’مقیاس حنفیت‘‘، مصنف: مولانا محمد عمر اچھروی۔ کتاب دیکھتے ہی نگاہوں کے سامنے تقریباً نصف صدی قبل کا زمانہ گھوم گیا۔ جنرل ایوب خان کا مارشل لائی دَور، نئے عائلی قوانین کا نفاذاور علمائے دین کا سخت ردعمل اور پھر خود علماء ہی کے درمیان فرقہ وارانہ اختلافی مسائل پر رسہ کشی! اس وقت کے حکمران چونکہ دستوری نظام تلپٹ کرکے برسراقتدار آئے تھے اس لئے وہ زیادہ پکڑ دھکڑ میں نہیں پڑنا چاہتے تھے مبادا کہ احتجاج کسی تحریک کا روپ اختیار کرلے، چنانچہ بڑی حکمت کے ساتھ علماء کو ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار کر دیا گیا۔ آئے روز ایک دوسرے کو چیلنج اور مناظرے کی دعوت، حتیٰ کہ مباہلے تک بھی نوبت جا پہنچی۔ مباہلہ یہ ہوتا ہے کہ فریقین جب اپنے اپنے موقف پر ڈٹ جاتے ہیں تو بالآخر بددعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس فریق پر اپنا قہر نازل کرے جو جھوٹا ہے۔مولانامحمد عمر اچھروی اس دور کے بریلوی مکتب فکر کے مشہور مناظر تھے ۔ ان کو گجرات کے ایک جلسے میں ایک دفعہ مجھے بھی دیکھنے اور سننے کا اتفاق ہوا تھا۔ سٹیج پر بیٹھتے ہی انہوں نے ایک ٹرنک سے اپنی کتابیں نکال نکال کر میز پر سجا دیں۔ پھر سامعین کو بتایا کہ یہ کتابیں فلاں فلاں ملک میں پہنچ چکی ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اختلافی مسائل پر دھواں دھار تقریر فرمائی۔

مقیاس تھرمامیٹر کو کہتے ہیں، کتاب کے نام ’’مقیاس حنفیت‘‘ کا مطلب ہوا ایسی کتاب جس میں حنفی عقائد و نظریات بیان کئے گئے ہیں۔ تکنیک مکالمے (مناظرے) کی رکھی گئی ہے ، یعنی وہابی (اہل حدیث اور دیو بندی حضرات )بریلوی عقائد پر اعتراض کرتے ہیں اور مولوی محمد عمر صاحب جواب دیتے ہیں۔ دلیل کے لئے قرآن و حدیث کے علاوہ دیوبندیوں اور اہل حدیثوں (غیر مقلدوں) کی کتابوں سے بھی حوالے پیش کرتے ہیں۔ سرورق کے اندرونی صفحہ پر ’’سبب تالیف‘‘ اس طرح بیان کیا گیا ہے: ’’دیوبندی وہابی جماعت نے (جن کا مجموعہ آج کل مودودی جماعت ہے) فقیر سے چند شرعی سوالات کئے اور یہ بھی دریافت کیا کہ احناف کے پاس ہمیں وہابی کہنے کا مقیاسِ حنفیت کون سا ہے۔ ان کا جواب تحریری دیا جائے اور ان سوالات کو طبع کرا کر تمام صوبہ پنجاب میں تقسیم کئے‘‘۔

مولانا نے کتاب کو مستند ثابت کرنے کے لئے آخری صفحہ پر اس شخص کے لئے ایک ہزار روپے کے انعام کا اعلان کیا ہے جو کسی حوالہ کو غلط ثابت کر دے۔ حالانکہ چیلنج تو یہ ہونا چاہیے کہ جو نقل ہوا ہے اس میں ثقاہت کتنی ہے۔ آخری صفحہ ہی پر کچھ لوگوں کی گواہیاں خود ان کے قلم سے پیش کی گئی ہیں، جن میں اقرار کیا گیا ہے کہ ہماری موجودگی میں مباہلہ ہوا تھا۔ البتہ وضاحت نہیں کی گئی کہ مباہلہ کب اور کہاں ہوا تھا۔ ’’مقیاس حنفیت‘‘ میں جو مسئلے زیر بحث آئے ہیں، وہ ہیں : نوربشر، علم غیب، سماع موتیٰ، میلاد منانا، جمعرات کی فضیلت، اشیائے خورونوش پر ختم پڑھنا، زیارت قبور اور چالیسویں اور دسویں وغیرہ ۔

1964ء ،1965ء کے دور میں گجرات شہر میں حیاۃ النبیؐ کی بحث عروج پر تھی۔ مولوی نذیر اللہ خان صاحب مرحوم اپنی تقریروں میں ایک حدیث بیان کرتے تھے کہ انبیائے کرام اور اولیاء اللہ اپنی قبروں میں زندہ ہوتے میں اور نماز پڑھتے ہیں۔ حوالہ وہ ’’مسندِ ابی یعلیٰ‘‘ کا دیتے تھے۔ مخالف فریق حضرت مولانا سید عنایت اللہ شاہ بخاریؒ کا کہنا تھا کہ اس نام کی کتاب کے دنیا میں صرف تین نسخے ہیں: ایک جامعہ ازہر (مصر) اور دوسرا جدہ کی لائبریری میں پڑا ہے۔تیسرا نسخہ میرے پاس ہے۔ اگر یہ کتاب آپ کے پاس بھی ہو تو جب چاہو دکھا دو، دس دن ، دس ہفتے، دس سال یا بشرط زندگی سو سال تک بھی دکھا دو توہم تمہارا مؤقف مان لیں گے ، البتہ ہم مذکورہ حدیث کے راویوں کو اسماء الرجال کی کتابوں کی مدد سے ضرور پرکھیں گے۔جواب میں اشتہار شائع ہوا جو شہر کی دیواروں کی زینت بنا جس پر جلی قلم سے اعلان درج تھا: ’’عنایت اللہ شاہ بخاری کا چیلنج قبول، کتاب سو سال کی بجائے دس دن میں پیش کی جا سکتی ہے‘‘۔

جمعہ کی نماز کے بعد بخاری صاحب اپنی مسجد سے اپنے حامیوں کے ساتھ باہر نکلے اور سیدھے چیلنج قبول کرنے والے فریق کی مسجد میں جاپہنچے۔ جب دونوں بزرگوں کا آمنا سامنا ہوا تو اشتہار شائع کرنے والے فریق نے کہا، ہمارا نسخہ تو چوری ہو گیا ہے۔ بخاری صاحب نے بغل سے اپنا نسخہ نکال کر کہا، دکھایئے وہ حدیث کہاں ہے؟ اتنی دیر میں نذیر اللہ خان صاحب کے حامی تھانے پہنچ گئے اور پولیس دونوں علماء کو نقصِ امن کے اندیشے کے تحت گرفتار کرکے لے گئی۔ قارئین! معافی چاہتا ہوں میں ذرا دور نکل گیا، بات ہو رہی تھی بحث اور مناظرے کی جس کے پیچھے خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ تھا اور یہ کام نیا نہ تھا۔ انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ (1849ء) کرتے ہی پہلا کام یہ کیاکہ یہاں اپنے پادریوں، ہندو آریہ سماجی مبلغوں اور مسلمان علمائے کرام کے درمیان بحث اور مناظر کا ماحول پیدا کر دیا۔ مقصد یہ تھا کہ اہلِ پنجاب متحد نہ ہونے پائیں۔ ان کی طاقت بٹی رہے گی تو وہ بڑے آرام سے حکومت کرتے رہیں گے۔ آزادی کے بعد ہماری حکومتیں بھی یہی کام کرتی رہی ہیں۔ افسوس اس حوالے سے ابھی تک یونیورسٹیوں میں کوئی تحقیقی کام نہیں ہو سکا۔ مناظرہ بازی کے اس ماحول میں خود علماء کرام ہی ایک دوسرے کو کس اخلاق کے ساتھ مخاطب ہوتے تھے اس کی ایک مثال میں پیچھے درج کر آیا ہوں، اب چند اقتباس مذکورہ کتاب میں سے بھی ملاحظہ فرما لیں:

’’کیوں جناب وہابی صاحب تو نے کبھی اس حدیث پر عمل کیا ہے؟‘‘(ص: 499)

’’بڑے افسوس کی بات ہے کہ نبی ﷺ کی حدیث پر بھی جھوٹ بولتے ہو حالانکہ حدیث اس طرح ہے۔۔۔!‘‘۔ص : 414)

’’معاذ اللہ ثُم معاذ اللہ! تمہاری باتیں سُن سُن کر دل کانپ اٹھتا ہے کہ ایسے بھی مسلمان کہلانے والے موجود ہیں جو قرآن کے معانی بدلا کر انبیاء اور اولیاء کرام کی یوں گستاخی کررہے ہیں۔ ہائے مسلمانوں کے دعویدار و ایسی گستاخی تو ان مقدس ہستیوں کی آریہ اور بھنگی سکھ بھی نہیں کر سکتے‘‘۔(ص : 95)

کتاب کے آغاز میں وہابیوں کی طرف سے ایک اعتراض پیش کیا گیاہے: ’’وہابیوں کے مدرسے میں پڑھتے رہے ہو۔آپ کے استاد بھی وہابی ہیں اور وہیں نماز پڑھتے رہے ہو‘‘

مولوی محمد عمر کا جواب ہے: ’’واقعی میرا حصول علم تمام وہابیہ سے ہے۔ وہ وہابی آپ کی طرح توہین انبیاءؐ و اولیائے کرام میں چوٹی کے نہ تھے، بلکہ نیچے کے تھے‘‘۔(ص:2)

صفحہ 7پر مخالفین کی طرف سے دوسرا اعتراض ہے:

’’دیو بندی، وہابی ’’(محمد عمر کو مخاطب ہو کر): تم نے قصور میں کفر کی مشین چلائی ہوئی ہے‘‘ جواب ملاحظہ فرما لیں محمد عمر:’’ اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘ سنا کرتے تھے لیکن آج وہ وقت آنکھوں سے دیکھا کہ قصور کے وہابی دیوبندی فقیر پر اعتراض کرتے ہیں کہ تم نے قصور میں کفر کی مشین چلائی ہوئی ہے۔ اکابرین دیوبندیہ وہابیہ نے مسلمانانِ دنیا کے اکابرین و مصالحین، متقدمین و متاثرین کے صحیح عقائد پر طعن و تشنیع اور جرح قدح کرکے کفر کے فتوے جاری کئے ہوئے ہیں اور مشرک اور بدعتی کے خطابات سے ان کو کوسا ہے، یہ شیوہ آپ کا ہی ہے‘‘۔(ص :7)

قارئین! آپ ہی فیصلہ فرمائیں کہ یہ باتیں حضور نبی کریمؐ کی امت کو پھاڑے والی ہیں یا جوڑنے والی؟ درحقیقت آج ہم جس فرقہ واریت کا شکار ہیں اس کے پس منظر میںیہی کچھ تھا۔ وہابی سنی کے جھگڑے البتہ اس وقت کچھ سرد پڑ گئے جب لاکھوں پاکستانی مزدور اور کسان اپنے معاشی حقوق کے لئے سڑکوں پر نکل آئے اور پھر اسلام اور سوشلزم کی بحث نے اہل پاکستان کو ایک نئے عذاب سے دوچار کر دیا، اس پر کلام پھرکبھی سہی!

مزید : کالم