کیا بدین میں مقبولیت کا امتحان تھا ؟

کیا بدین میں مقبولیت کا امتحان تھا ؟

سندھ اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ بھی مکمل ہوا۔ اس کی تکمیل کے ساتھ ہی ایک بار پھر کئی سوالات پیدا ہو گئے۔ یہ سوالات کام یابی اور نا کامیوں کے حوالے سے ہیں۔ خواہشات کو بھی دخل ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی جگہ لینے میں سب ہی دلچسپی رکھتے ہیں۔ سندھ میں چودہ اضلاع میں انتخابات ہوئے۔ تمام اضلاع میں ، ماسوائے بدین (آدھا) ، پیپلز پارٹی کے امیدوار کام یابی سے ہم کنار ہوئے۔ وفاق میں حکمران جماعت ن لیگ، پیر پگاڑو کی جماعت فنکشنل، تحریک انصاف، جمعیت علما اسلام ، جمعیت علماء پاکستان ( مولانا شاہ احمد نورانی کے صاحبزاے اور صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کے دونوں گروپ) ، عوامی نیشنل پارٹی کسی قابل تعریف کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں حیران کن حد تک رسوائی کا سامان پیدا کر گئیں ۔ حیدرآباد اور میر پور خاص کی بلدیات کے لئے ایم کیو ایم کے امیدواروں نے وہ پوزیشن حاصل کر لی جو ایک بار پھر ایم کیو ایم کے نامزد لوگ ہی چلا رہے ہوں گے۔ انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی مخالف عناصر نے ایک پریس کانفرنس میں فوج اور رینجرز کی نگرانی میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

اس پریس کانفرنس میں سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہر یار مہر، شفقت شاہ شیرازی، وفاقی وزیر غلام مرتضی جتوئی اور دیگر موجود تھے۔ ذوالفقار مرزا کے علاوہ تمام لوگوں کے نامزد امیدوار ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کا استدلال ہے کہ پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے انتخابات کو شفاف نہیں ہونے دیا اور ٹھپے لگاتے رہے۔ بدین میں پیپلز پارٹی کے رہنما مخالفین پر یہی الزام لگاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی بدین کو اپنا مضبوط حلقہ سمجھتی ہے۔ پارٹی کے بانی چیئرمین کو 1970 ء کے انتخابات میں بدین سے ، جو اس وقت ضلع حیدرآباد کا حصہ ہوتا تھا، قومی اسمبلی کی نشست سے امیدوار کھڑا ہونا پڑا تھا کیوں کہ میر علی احمد تالپور سمیت پیپلز پارٹی کا کوئی رہنما امیدوار بننے پر تیار نہیں تھا۔ 1970ء سے ہی پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار بدین سے منتخب ہوتے رہے ہیں۔ عبدالحفیظ پیرزادہ نے ضیا ء الحق کے دور میں بدین کو اپنا حلقہ انتخاب بنانے کی کوشش میں وہاں زرعی زمین خریدی تھی لیکن لوگوں میں کنفیڈریشن کا نظریہ پذیرائی حاصل نہیں کر سکا تو وہ سیاست سے ہی تائب ہوگئے تھے ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے چیلنج کیا اور کسی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ اسے لٹمس ٹیسٹ بہر حال قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کی عوام میں قبولیت کا اصل امتحان تو قومی یا صوبائی اسمبلی کے انتخاب کے موقع پر ہی ہو سکے گا۔

ٹھٹہ میں شفقت شاہ شیرازی ، تھرپارکر میں ارباب غلام رحیم، عمر کوٹ میں پاکستان تحریک انصاف، نو شہرو فیروز میں جتوئی، شکار پور میں مہر اپنی کارکردگی کے ان کے خیال میں متوقع نتائج حاصل نہیں کر سکے۔ حیدرآباد میں پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی،جمعیت علماء پاکستان کے دونوں گروپ، عوامی نیشنل پارٹی، تحریک انصاف، قومی عوامی تحریک، پاکستان عوامی تحریک،جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ، پر مشتمل دس جماعتی اتحاد پیپلز پارٹی کے علاوہ بری طرح ناکامی سے دوچار ہوا۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار پوری تحصیل قاسم آباد، اور حیدرآؓبار شہر کے 96میں سے 16حلقوں میں کامیابی حاصل کر گئے۔ یہ صورت حال اس تنبیہ کے بعد پیدا ہوئی جو فریال تالپور نے پیپلز پارٹی کے مقامی ر ہنماؤں کے ساتھ ایک ملاقات دوران دی تھی۔ ان کی برہمی دیدنی تھی۔ انہیں قلق تھا کہ حیدرآباد میں ایم کیو ایم اپنے امیدوار بلا مقابلہ کیوں کامیاب کرا سکی ۔ حیدرآباد میں ایم کیو ایم کے کارکنوں نے گھر گھر کام کیا تھا۔ یہ کام وہ لوگ پولنگ کے دن سے بہت قبل سے کر رہے تھے۔ ایم کیو ایم مخالف کاغذات نامزدگی داخل کرنے سے قبل سے تقسیم تھے۔ تمام پارٹیاں ان حلقوں میں سرگرم تھیں جہاں سے ان کی پارٹی کے امیدوار نامزد تھے۔ 2103 ء کے انتخابات کی طرح بلدیاتی انتخابات میں بھی کوئی مشترکہ انتخابی حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی تھی۔ بدین میں پیپلز پارٹی اور تمام سیاسی جماعتوں کو بظاہر دھچکا لگا۔ پیپلز پارٹی نے بلدیاتی انتخابات کو ناک کا مسلہ بنا لیا تھا۔ پارٹی نے یہ تک نہیں سوچا کہ گلی محلوں کے ان انتخابات میں اپنی بھر پور طاقت کا مظاہرہ نہ کرے۔ نتائج صرف پیپلز پارٹی کے لئے ہی نہیں بلکہ بدین سے تعلق رکھنے والے سیاسی مبصرین کے لئے بھی غیر متوقع تھے ۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا بدین شہر کی بلدیہ میں کسی مدد کے بغیر اپنا چیئر مین منتخب کرانے کی پوزیشن میں آگئے اسی طرح بدین ضلع کونسل کی سربراہی بھی مرزا گروپ کو ملنے کی اس لئے توقع ہے کہ گروپ سے وابستہ لوگوں نے 68 نشستوں میں سے34پر واضح کام یابی حاصل کر لی ہے۔ تین حلقوں میں انتخابات نہیں ہو سکے۔ پیپلز پارٹی 31 نشستیں حاصل کر سکی ہے۔ بدین ضلع میں پاکستان مسلم لیگ ن، فنکشنل، قومی عوامی تحریک، ارباب غلام رحیم سب ہی بدین میں اپنا زور لگا رہے تھے ۔ بدین میں مرزا گروپ کی کامیابی کو تجزیہ کار پیپلز پارٹی کے خلاف بڑی کامیابی کا نام دیتے ہیں جب کہ بعض تو پیپلز پارٹی کے زوال کا آغاز قرار دیتے ہیں۔ مرزا کی کامیابی میں ان کی رات دن کی کوششوں کو بڑا دخل ہے ۔ آصف زرداری کے ساتھ دشمنی کی حد تک کشیدگی نے مرزا کو تمام حربے اور وسائل اختیار اور استعمال کرنے پر مجبور کیا۔ ا ن کے سخت اور گرم مزاج اور فوری مشتعل ہونے کی عادت کی وجہ سے بدین کی سیاست میں کردار ادا کرنے والے کئی عناصر نے کنا رہ کشی اختیار کرنا بہتر سمجھی۔ ہر شخص تو اپنی پگڑی سڑک پر اتروانا نہیں چاہتا ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا جس طرح اچانک اشتعال میں آجاتے ہیں اور پھر جلسے میں دوران تقریر جو زبان استعمال کرتے ہیں ، اس کے متحمل کم ہی لوگ ہو سکتے ہیں۔ فیس بک پر ان کی بعض تقاریر کے حصے سن کر کانوں کو ہاتھ لگانا پڑتا ہے کہ کیا بھرے جلسے میں بھی کوئی سیاسی رہنما اس طرح کی زبان کیوں استعمال کر سکتا ہے۔ان کا حلقہ انہیں شیر سندھ قرار دیتا ہے۔ شیر چنگھاڑتا ضرور ہے، لیکن اگر اس کی زبان ہوتی تو وہ بھی ایسی زبان استعمال نہیں کرتا جو ڈاکٹر مرزا استعمال کر رہے تھے۔ جو لوگ میدان میں ڈٹے رہے وہ پیپلز پارٹی کے لوگ ہی تھے۔ بھٹو نے 1977ء میں ایک انتخابی جلسے میں حیدرآباد میں میر برادران کے لئے جو اشارے کئے تھے اس کی وجہ سے دونوں کے درمیاں خلیج پر نہیں ہو سکی تھی۔ وہ سیاسی مخالفین پرپھبتی بھی کستے تھے اور ان کی تضحیک کرتے ہوئے ان کے نام بھی رکھتے تھے۔

بدین میں قومی اسمبلی کی دو نشستیں ہیں۔ ایک سے ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور دوسری سے کمال چانگ نمائندگی کرتے ہیں۔ کمال چانگ مرزا کی حمایت سے بدین میں پہلی ضلعی حکومت کے ناظم بھی منتخب ہوئے تھے۔ ان کے نائب سہیل مرزا تھے جو ذوالفقار مرزا کے چچا زاد بھائی ہیں، ناظم کمال چانگ تھے لیکن احکامات ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے چلتے تھے۔ مرزا کا امیدوار ہونے کے باوجود انتخابات میں سہیل شکست کھا گئے ہیں۔ جب مرزا اور آصف زرداری کے درمیاں عداوت گھر کر گئی تو آصف کی ہمشیرہ فریال تالپور نے کما ل چانگ کی سرپرستی شروع کر دی۔ اس طرح کمال چانگ مرزا کے مد مقابل آگئے۔ بلدیاتی انتخابات میں بھی کمال چانگ کو ہی بدین میں پیپلز پارٹی کے معاملات میں سامنے رکھا گیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو اپنے رہنماؤں اور منتخب نمائندوں سے ضلع بدین ہی نہیں بلکہ ہر ضلع میں یہ شکایت رہتی ہے کہ وہ منتخب ہونے کے بعد انہیں نظر انداز کرتے ہیں۔ کمال چانگ بھی اسی الزام کا شکار ہوئے۔ نتیجہ سامنے ہے کہ ان کے بھائی محمد خان تک انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ جن تحصیلوں میں مرزا نے امیدوار نامزد نہیں کئے تھے وہاں پیپلز پارٹی کام یاب رہی۔ یہ کیوں ضروری ہے کہ مرزا آئندہ ان تحصیلوں پر توجہ نہیں دیں گے اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنے رویہ میں تبدیلی لائیں، خام خیالی ہے۔ تھر پار کر میں اربا ب غلام رحیم کے نامزد امیدواران ڈپلو تحصیل میں کیوں ناکامی سے دوچار ہوئے۔ میر پور خاص میں ایم کیو ایم اندر کی مخالفت کے باوجود کیوں کامیاب ہوئی۔

ہالا میں مقامی سیاسی لوگوں کے اتحاد کے باوجود پیپلز پارٹی اور مخدوم گروپ کے نامزد امیدوار کیوں کامیاب ہوئے۔ حالانکہ عام انتخابات میں مخدوم امین فہیم کو عبدالرزاق میمن سے سخت مقابلے کا سامنا رہا تھا۔ حیدرآباد میں دس جماعتی اتحاد کیوں نا کام رہا، قاسم آباد میں قومی عوامی تحریک کیوں کامیابی حاصل نہیں کر سکی، عمر کوٹ میں تحریک انصاف تنہا الیکشن لڑ رہی تھی ، فنکشنل اور پیپلز پارٹی مخالفین و دیگر عناصر نے اس کی کوئی مدد نہیں کی۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لال مالہی ضلع میں اپنی سیاسی بالادستی کے لئے سرگرم تھے۔ انہوں نے ہی حکمت عملی تیار کی تھی۔ فنکشنل کے سیدوں نے پیپلز پارٹی کے سیدوں کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی پیدا کر لی تھی ۔ عمر کوٹ میں فنکشنل کے سیاسی معاملات کے نگراں سنیٹر سید مظفر حسین شاہ نے پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر سید علی مردان شاہ کے ساتھ ہاتھ ملا لیا تھا جس کے نتائج پیپلز پارٹی کے حق میں گئے۔۔۔سوال یہ ہے کہ کیا مرزا بدین ضلع کو اپنی سیاست کا قلعہ بنا پائیں گے، بدین میں مرزا کی حمایت کرنے والے سیاسی رہنما کیوں نہیں پورے ضلع میں کامیابی حاصل کر سکے۔ کیا پیپلز پارٹی ضلع کونسل مرزا کے حوالے کر دے گی ؟ کیا بدین میں ووٹوں کی خرید و فروخت کا قبیح کاروبار شروع ہوگا۔ مجموعی طور پر پیپلز پارٹی مخالفین بار بار کیوں نا کام ہوتے ہیں ؟ اس تماش گاہ کی سیاست میں اسی طرح کے سیاسی کھیل اس وقت تک ہوتے رہیں گے جب تک سیاسی جماعتیں اپنی درست حکمت عملی تیار نہیں کریں گی، رہنماعوام سے براہ راست رابطہ نہیں کریں گے، لوگوں کی قابل تقلید رہنمائی نہیں کریں گے۔ زبانی اتحاد کی بجائے آپس میں عملی اتحاد کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...