برادرم مجاہد لاہوری سے ایک مکالمہ

برادرم مجاہد لاہوری سے ایک مکالمہ

میرے ایک دوست مجاہد لاہوری بھی ہیں۔مجھے خبر نہیں کہ انہوں نے اپنے نام کے ساتھ ’’لاہوری‘‘ کا لاحقہ کیوں لگایا ہوا ہے، حالانکہ ان کے پنجابی لب و لہجے میں لاہوری ہونے کی کوئی ایک جھلک بھی نہیں ملتی۔ شائد انہوں نے ایک سے زیادہ ’’مجاہدوں‘‘ میں تمیز و تفریق کرنے کی غرض سے ایسا کیا ہو۔ مثال کے طور پر ایک اور مجاہد جو بریلوی ہیں وہ شائد کہیں کراچی میں رہتے ہیں۔ کبھی کبھی کسی ٹیلی ویژن چینل پر دیکھنے میں آ جاتے ہیں اور الیکٹرانک صحافی ہونے کے ناتے کبھی کسی ایک چینل پر جلوہ فگن ہوتے ہیں تو کبھی دوسرے پر۔۔۔ لیکن یہ جلوہ فرمائیاں تو الیکٹرانک صحافیوں کی معمول کی مجبوریاں ہیں۔ جب سے جنرل (ر) پرویز مشرف نے نجی ٹیلی ویژن چینلوں کو ہوا اور پانی کی طرح مفت اور عام کر دیا تب سے آج تک شائد ہی کوئی الیکٹرانک صحافی ہوگا جو کسی ایک چینل کے ساتھ وابستہ رہا ہو اور وفاداری بشرطِ استواری نبھائی ہو۔ یہ لوگ ایسے پکھیرو ہیں کہ آج ایک آشیانے میں تو کل کسی دوسرے میں۔۔۔ یعنی بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی!۔۔۔ الیکٹرانک صحافی حضرات کا ذکر آیا ہے تو ناچار ’’وفاداری‘‘ کا بھی تذکرہ کرنا پڑا ہے۔ ویسے بے وفائی اور وفاداری نسوانی کلچر ہے اس لئے خواتین صحافی بٹالین کے ہیڈکوارٹرز بھی بدلتے رہتے ہیں۔ امسال ایک چھاؤنی میں تو اگلے برس کسی دوسرے گیریژن میں۔ اس تبدیلی کی وجوہات ذاتی ہوتی ہیں نہ صفاتی، صرف حادثاتی ہوتی ہیں، جو بسا اوقات مالیاتی بن جاتی ہیں۔

میں برادرم مجاہد لاہوری کا ذکر کررہا تھا۔۔۔ نہایت بلند آہنگ،زور دار اور دھڑلے کے آدمی ہیں۔ مصنف ہیں، مترجم ہیں اور شعر شناس بھی ہیں۔ شائد شعرگوئی کی کوشش بھی کبھی کی ہوگی، مگر اس کا باقاعدہ اقرار نہیں کرتے۔ ہاں ان کے ذوقِ شعر شناسی سے معلوم ہوتا ہے کہ میری اور میر تقی میر کی طرح وہ بھی ’’کبھو کسو کا سر پرغرور‘‘ ضرور رہے ہوں گے!

چونکہ آج اتوار کا دن تھا اور تاریخ 22نومبر 2015 عیسوی بمطابق 9مگھر 2072 بکرمی تھی۔ یہ چندرگپت بکر ماجیت والے بکرمی لوگ، عیسائیوں اور مسلمانوں سے بھی بالترتیب 57برس اور635 برس آگے رہتے ہیں کہ اتوار کو ہم مسلمانوں کی تاریخ 10صفر المظفر 1437ہجری تھی۔جب چیت 2072شروع ہوا تھا تو کسی نے کہا تھا کہ اس برس عشاق بتوں سے بہت فیضہاٹیں گے۔ اس لئے میں نے لاہوری صاحب سے پوچھا خیریت تو ہے؟ فرمانے لگے: ’’آپ نے مجھے پہچانا؟ ۔۔۔مجاہد لاہوری بول رہا ہوں!‘‘۔۔۔ جواباً عرض کیا کہ :’’ہم تو لفافہ دیکھ کر خط کا مضمون بھانپ لیتے ہیں۔آپ کی لب کشائی کی خوش الحانی اس بات کا اعلان تھی کہ آپ میرے ہی قبیلے کے آدمی ہیں۔‘‘

لفظ ’’قبیلہ‘‘ میں نے صحافیانہ پس منظر کے حوالے سے نہیں کہاتھا، بلکہ لفظ ’’مجاہد‘‘ کی رعائت سے اس سے کیو (Cue) لی تھی۔ ہر چند کہ وہ نام کے مجاہد ہیں اور ہم ازراہِ پروفیشن ’’مجاہد‘‘ کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں، پھر بھی انہوں نے اگلے دس منٹ ہماری صحافیانہ تعریف و تحسین پر صرف کر دیئے۔ فرمانے لگے: ’’آج کل آپ خوب لکھ رہے ہیں۔ ۔۔۔میں آپ کا ہر کالم پڑھتا ہوں اور بہت محظوظ ہوتا ہوں۔۔۔ بہت بھرپور اور لائقِ توجہ کالم ہوتے ہیں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔‘‘ میں جان بوجھ کر چپ چاپ یہ ساری قصیدہ گوئی سنتا رہا اور خوش ہوتا رہا۔ جی چاہتا رہا کہ کاش وہ بولتے جائیں اور میں سنتا جاؤں۔ لیکن بیچ میں معاً خیال آیا کہ کہیں یہ نہ سمجھیں کہ میری خاموشی نیم رضا ہے، اس لئے فوراً ’’لکھاری منافقت‘‘ سے کام لیا اور عرض کیا: ’’حضرت! من آنم کہ من دانم۔۔۔ میں کیا اور میری بساط کیا۔۔۔ حسن تو دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے۔۔۔ خوشانصیب میرے بارے میں آپ کا یہ حسنِ ظن ہے ۔۔۔(قارئین براہِ کرم ظن کو ’’ظ‘‘ سے پڑھیں ’’ز‘‘ سے نہیں) وگرنہ میں تو کچھ بھی نہیں۔ آپ جیسے قدر شناسوں کی قدر افزائی کا سہارا نہ ہو تو زندگی بے کیف ہو کے رہ جائے!

قارئین محترم، تفنن برطرف! میں اپنے دوست لاہوری صاحب کو کیا بتاتا کہ ہم نے یہ مصوری تو مہ رخوں کے لئے سیکھی ہے تاکہ تقریبِ ملاقات کا اہتمام ہوتا رہے۔ اب آپ سے کیا پردہ کہ جو کالم میں اپنے مشن کی تکمیل کی غرض سے لکھتا ہوں، اس کی تعریف میں کوئی ایک لفظ بھی کہیں سے سننے میں نہیں آتا اور جو کالم گاہ گاہ محض قارئین کا دل ’’پشوری‘‘ کرنے کی غرض سے سپردقلم کرتا ہوں، اس کی واہ واہ ہو جاتی ہے۔۔۔۔(اگر ’’واہ واہ‘‘ خودستائی کے زمرے میں آئے تو ازراہ نوازش Self Praiseکے اس چلن کو تھوڑا سا Tone Down کر لیجئے کہ مجھے اردو زبان میں کوئی ایسا لفظ نہیں ملا جو خود ستائی اور حق گوئی کے بین بین کسی گرے پڑے گوہر معانی کی ترجمانی کر سکے)۔۔۔

کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ شمشیروسناں کا آغاز تو بندۂ ناچیز نے اس ارادے سے کیا تھا کہ اپنی قوم کو خالص دفاع (Pure Defence) کے اس لٹریری مقام سے آشنا کروں جو اچھے سے اچھے شعر سے بھی خوشتر اور بہتر سے بہتر نثر سے بھی خوبتر ہوتا ہے۔ لیکن میرے اکثر قارئین اس موضوع کو نجانے کیوں ثقیل اور خشک سمجھتے ہیں؟ ۔۔۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسی خشک تار و خشک مغز و خشک پوست سے آوازِ دوست آتی ہے! اور دوستﷺ بھی وہ جو غزوۂ بدر سے آج تک اسلام کا پشتیبان ہے۔شرط یہ ہے کہ سننے والا کان ہونا چاہیے ۔ میں جان بوجھ کر دفاع کی گرانبار نثر کو کبھی شعر کی کسی لطافت سے مزین کرکے اسے سبک بنانے کی سعی کرتا ہوں تو کبھی کسی لطیفے کو بیچ میں ٹھونس ٹھانس کر اس کے بوجھل پن کو قابلِ ہضم بنانے کا ارتکاب کرتا ہوں۔۔۔ اب دیکھئے ناں کہ یہ فقیرِ بے نوا کہاں اور حضرت عرش آشیانی اقبال کی فکرِ بلند کہاں۔۔۔ لیکن نجانے مجھے سکول کے زمانے ہی میں علامہ کے شعروں کے صوتی حسن کا عشق کیوں دامنگیر ہو گیا تھا،حالانکہ اس وقت مجھے ’’ککھ‘‘ پتہ نہ تھا کہ صوتی حسن کی اس نظافت میں شاعر مشرق نے اپنے دل کی وہ بات کتنی چابکدستی سے بیان کر دی تھی جو ان کا اصل مدعا تھا۔۔۔

’’زبورِ عجم‘‘ کی اولین غزل کا اولین شعر ہے:

یارب درونِ سینہ دلِ باخبر بدہ

دربادہ نشہ را نگرم آں نظر بدہ

اُس زمانہء طالب علمی میں مجھے ’’دلِ با خبر‘‘ کی خبر تو تھی اور دردنِ سینہ کا لغوی مطلب بھی کچھ نہ کچھ آتا تھا لیکن اگلے مصرعے میں اقبالؒ نے جامِ شراب میں نشہ کو دیکھنے کی جو بات کی تھی اس کی خبر بہت دیر بعد جا کر آنا شروع ہوئی ۔۔۔۔۔۔ بادہ دیکھ کر نظر کا بیرو میٹر کسی جام میں ڈبو دینا اور پھر اسے باہر نکال کر دیکھنا کہ ’’نشہ‘‘ کا سکیل کیا اور کتنا ہے تو یہ سلیقہ آتے آتے آیا!۔۔۔ اور شائد اب تک بھی پوری طرح نہیں آ سکا!

میں پھرجناب مجاہد لاہوری کی طرف لوٹتا ہوں۔۔۔ فرمانے لگے : آج (اتوار کے روز) فارسی شعر کا ایک مصرع ذہن میں آ رہا تھا جو یہ ہے:

ایں نسخہ از بیا ضِ مسیحا نوشتہ ایم

اگر اس کا دوسرا مصرع یاد ہو تو بتائیں۔۔۔۔ میں ان کو کہنے ہی والا تھا کہ یہ کام ہمارے رفیق کار محترم ناصر زیدی سے لیا کریں۔ وہ اشعار کا پوسٹمارٹم ہی نہیں کرتے بلکہ ان کے حضور ہزاروں معروف اشعار دست بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ لیکن جونہی میں نے لاہوری صاحب سے یہ مصرعہ سنا تو اپنے مبلغِ شعر وسخن کی دھونس جمانے کے لئے ناصر زیدی کا روپ دھارا اور ’’فرمایا‘‘ :’’یہ غالب کا مصرع ہے اور پورا شعر یوں ہے:

روئے نکو معالجۂ عمرِ ایک جگہ است

ایں نسخہ از بیاضِ مسیحا نوشتہ ایم

قارئین گرامی ذرا اندازہ کر یں کہ یہ شاعر لوگ بھی کیسے لوگ ہوتے ہیں کہ

کہ غالب نے ہر ’’حسین چہرے‘‘ کو کوتاہ عمری کا علاج ڈ کلیئر کر دیا ہے ۔اور آپ جانتے ہیں کہ چونکہ ابن مریم، مُردوں کو زندہ اور جذام کے مریضوں کو ایک نگاہ ڈال کر بھلا چنگا کر دیا کرتے تھے تو اس رعائت سے کہتے ہیں کہ کوتاہ عمری کا یہ علاج (دیدارِ حسیناں) ہم نے بیاضِ مسیحا کے نسخہ جات سے اخذ کیا ہے۔ یعنی کسی کوتاہ عمر مریض کو اگرصرف کوئی حسین چہرہ دکھا دیا جائے تو بس اس کا کام ہو جائے گا۔۔۔ اللہ اللہ خیر سلا! تاہم میں نے ازراہ تجسس مجاہد لاہوری صاحب سے دریافت کیا کہ ’’آج اتوار ہی کے روزِ فراغت میں ، یہ شعر آپ کو کیوں یاد آیا ہے؟۔۔۔ کہیں مکان تو شفٹ نہیں کر لیا کہ بعض اوقات حقِ ہمسائیگی بھی ادا کرنا پڑ جاتا ہے؟

خبر نہیں میرے اس سوال سے انہوں کیا سمجھا کہ ایک ایسا زبردست قہقہہ لگایا جس سے نفی اور اثبات کے دونوں پہلو نکلتے تھے۔

پھر نجانے کیا سوجھی کہ میری عمر کے ’’پیچھے‘‘ پڑ گئے۔۔۔۔۔۔ پوچھا: ’’عمر کی کتنی بہاریں دیکھ لی ہیں؟‘‘۔۔۔ میں نے براہ راست جواب دینا کچھ مناسب نہ سمجھا۔ ہاں ان کو اپنے ایک استاد کا جواب ضرور سنایا کہ وہ ایک بار ہمیں پڑھا رہے تھے۔ عمر شریف 55, 50 کے لگ بھگ ہو گی انگلینڈ اور امریکہ پلٹ تھے اور اردو اور انگریزی تکلم پر یکساں عبور رکھتے تھے۔ دورانِ لیکچر کلاس کو بور نہیں ہونے دیتے تھے اور گاہ گاہ لطیفے چھوڑتے رہتے تھے۔ جب بھی کوئی چٹکلہ شوٹ کرتے تو دائیں طرف والی آنکھ مارتے اور ہنس کر ذرا دیر کو خاموش ہو جاتے تا آنکہ ساری کلاس ’’تازہ دم‘‘ ہو جاتی۔ ایک بار ایک سٹوڈنٹ نے ان سے یہی بے تکا سوال پوچھ لیا، کہ’’سر! آپ کی عمر کتنی ہو گئی ہے؟‘‘۔۔۔ اس بدتمیز کا یہ سوال سن کر ہم میں سے اکثر طلباء کے لب بے مزہ ہو گئے۔ لیکن پروفیسر جعفری نے جواب دیا: ’’برخوردار! یہ سوال بہت سال پہلے مجھ سے پوچھا جایا کرتا تھا۔ پھر شادی ہو گئی اور اب تو بچے بھی جوان ہو رہے ہیں۔ ۔۔۔ اب یہ سوال پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟۔۔۔ اور ہاں سچ کس کو ضرورت ہے؟‘‘۔۔۔۔۔۔ یہ کہہ کر دائیں آنکھ ماری اور ساری کلاس کو تا دیر زعفران زار بنا دیا۔

لاہوری صاحب نے بار دگر شعر کا مصرعہء اول دہرانے کو کہا تو میں نے کہا: ’’روئے نکو معالجۂ عمر کوتاہ است‘‘ اور یہ شرح بھی کی کہ اس ’’روئے نکو‘‘ کا مطلب ’’نیک چہرہ‘‘ نہیں، خوبصورت اور سرخ و سفید چہرہ ہے۔۔۔ جب میں لاہوری صاحب کے سامنے ’’روئے نکو‘‘ کی یہ تشریح کر رہا تھا تو میرے تحت الشعور میں لاہوری صاحب کا اپنا چہرہ گھوم رہا تھا۔۔۔۔ جن دوستوں نے مجاہد صاحب کو دیکھا ہے ان کو معلوم ہوگا کہ ہماری طرح ان کا ’’روئے نکو‘‘ بھی کچھ زیادہ ہی سرسبز و شاداب ہے۔ دل چاہ رہا تھا کہ اس موضوع پر بھی ان سے حقیقتِ حال عرض کروں کہ ناگہاں خیال آیا کہیں ناراض ہی نہ ہو جائیں۔ اس لئے خاموش ہو رہا اور غالب کا وہ شعر ان کو سناتے سناتے رہ گیا جو حسبِ حال تھا اور یہ تھا:

رچ گیا جوشِ صفا سے زلف کا اعضا میں عکس

ہے نزاکت جلوہ اے ظالم سیاہ فامی تری

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...