بنگلہ دیش کے دو نئے شہداء

بنگلہ دیش کے دو نئے شہداء
 بنگلہ دیش کے دو نئے شہداء

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

عبدالقادر ملّا شہید اور قمر الزمان شہید کی پھانسیوں اور پروفیسر غلام اعظم اور مولانا ابوالکلام محمد یوسف کی جیل میں شہادت کی موت کے بعد اب بنگلہ دیش کی بھارت نواز حکومت نے اپنے جرائم میں ایک اور اضافہ کرلیاہے۔ حسینہ واجد بھارت کی ایجنٹ اور ظلم کی دیوی کا روپ دھار چکی ہے۔ علی احسن محمد مجاہد سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور صلاح الدین قادر چودھری، لیڈر بی این پی کو 21اور 22نومبر کی درمیانی شب ڈھاکہ جیل میں 12:30بجے پھانسی دے دی گئی۔ ان پر جو الزام لگائے گئے تھے وہ سب جھوٹ کاپلندہ ہیں۔ دنیابھر کے قانون دان اور ادارے ان نام نہاد عدالتی ٹربیونلز کو مستر د کرچکے ہیں۔ ان دونوں رہنماؤں کو ایک ساتھ پھانسی دینے کے بعد ان کے جنازے ان کے آبائی علاقوں کو بھیج دیئے گئے ۔ علی احسن محمد مجاہد فرید پور کے رہنے والے تھے۔ ان کا جسدِ خاکی ڈھاکہ سے ریپڈ ایکشن بٹالین(RAB)اور پولیس کی گاڑیوں کے ساتھ ان کے گاؤں صبح 6:45بجے پہنچا ۔ان کو سرکاری حکم کے تحت زبردستی صرف 40منٹ کے بعد 7:25بجے صبح ان کے آبائی قبرستان میں دفن کردیاگیا۔ وہ اپنے اہل و عیال اور افراد خاندان کے پاس آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت کے لئے رکھے گئے ۔ صلاح الدین قادر چودھری کے جسد خاکی کوان کے آبائی شہر چٹاگانگ بھیجا گیا، جہاں انہیں بھی اسی عجلت کے ساتھ دفن کردیاگیا۔ علی احسن محمد مجاہد کا جنازہ ان کے بڑے بھائی افضل محمد خالد صاحب نے پڑھایا۔

سرکاری اطلاعات کے مطابق جنازے میں ڈیڑھ ، دو سو کے درمیان لوگ شریک تھے۔ ظاہر ہے کہ جنازے میں لوگوں کو آنے ہی نہیں دیاگیا۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے شہید کی غائبانہ نمازجنازہ پورے ملک میں ادا کی ہے۔بنگلہ دیش کے تمام شہروں، بالخصوص ڈھاکہ میں لوگ بڑی تعداد میں غائبانہ نمازجنازہ میں شریک ہوئے۔ بیرون ملک بھی کئی ممالک میں اہل ایمان نے ان شہداء کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔ علی احسن محمد مجاہد 2001ء سے 2006ء تک بنگلہ دیش پارلیمان کے رکن اورمخلوط حکومت میں سوشل ویلفیئروزارت کے وزیر رہے ۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اس زمانے میں اپنی رپورٹ میں علی احسن محمد مجاہد شہید اور بنگلہ دیش جماعت کے امیرمولانا مطیع الرحمن نظامی کو مثالی وزراء اور ان کی کارکردگی کو بہترین قرار دیا۔ اس عالمی ادارے کی رپورٹ میں ان دونوں رہنماؤں کی دیانت و امانت اورشفافیت و فعالیت کو خراج تحسین پیش کیاگیا۔۔۔ علی احسن محمد مجاہد فرید پور کے ایک قصبے میں 23جون 1948ء کو ایک معزز اور دین دار گھرانے میں پیداہوئے۔ ان کے والدمحمدعلی ایک عالم دین اور زمیندار تھے۔ علی احسن محمد مجاہد کی ابتدائی تعلیم فرید پور میں ہوئی ، پھر ڈھاکہ یونیورسٹی سے انہوں نے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ علی احسن محمدمجاہددورِ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ (اسلامی چھاتروشنگھو )کے راہنما رہے ، تعلیم کے بعد جماعت سلامی بنگلہ دیش کے مرکزی لیڈر رہے۔

محمد مجاہد اپنی شہادت تک جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سیکرٹری جنرل تھے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے 23نومبر2015ء کو پورے ملک میں 6:00بجے صبح سے لے کر 6:00بجے شام تک ہڑتال کا اعلان کیاہے۔ شیخ حسینہ واجد کے مظالم پر حکومت پاکستان کی خاموشی بہت بڑاالمیہ ہے۔ ان سب لوگوں کو محض پاکستان کے دفاع کے لئے بھارتی فوجوں کے مقابلے پر پاک فوج کا ساتھ دینے کی سزا دی جارہی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس وقت وہ پاکستان کے شہری تھے ، اس لئے اپنے وطن کا دفاع ان کی اخلاقی اور قومی ذمہ داری تھی۔ جب بنگلہ دیش بن گیا تو ان تمام لوگوں نے بنگلہ دیش کو اپنا وطن بنایا اور اس میں باقاعدہ سیاسی میدان میں سرگرم رہے۔ اسمبلیوں کے ارکان اور حکومت سازی میں بھی شامل رہے۔ ظلم کی انتہاہے کہ حسینہ واجد، جنرل حسین محمد ارشاد کی فوجی حکومت کے خلاف اس سیاسی اتحاد کا حصہ تھی جس میں جماعت اسلامی اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں شامل تھیں۔ سوال پیدا ہوتاہے کہ اگر یہ لوگ غدار اور مجرم تھے تو ان کے ساتھ اتحاد کرنے والے کیوں مجرم نہیں ہیں؟

اس وقت ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی بی این پی نے خاموشی اختیار کرلی ہے۔ یہ مصلحت ہے یا بزدلی ؟تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ خالدہ ضیاء کو عالمی قوتوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جماعت اسلامی سے دوری اختیار کرے تو بنگلہ دیش میں آنے والے انتخابات عبوری حکومت کے تحت کروانے پر بنگلہ دیش حکومت کو مجبور کیاجائے گا۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش نہ تو کل جھکی تھی اور نہ آج جھکی ہے ،ان شاء اللہ مستقبل میں بھی وہ اپنے موقف پر ثابت قدم رہے گی۔ سوال پیدا ہوتاہے کہ اس مرتبہ تو صلاح الدین قادر کو بھی پھانسی دی گئی ہے جو بی این پی کے اہم رہنما اور سابق مرکزی وزیر تھے۔ ان کی پارٹی نے ان کے قیمتی خون کو بھی فراموش کردیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک بہت اہم سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان کی مسلم لیگی حکومت کیوں گونگی بنی ہوئی ہے۔ وزارت خارجہ کا نہ کوئی وزیر ہے اور نہ ہی خارجہ اُمور کے مشیر اور سیکرٹری کوبیان دینے کی کوئی توفیق ہوئی۔ ایک نیم دلانہ بیان وزارت خارجہ کے ترجمان کی طرف سے جاری کیا گیاہے، جس میں ان پھانسیوں پر غم اور افسوس کااظہار کیاگیاہے۔

پاکستان کی مسلم لیگی حکومت کو چاہیے تھاکہ سابق مسلم لیگی لیڈر اور متحدہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکراور مرکزی وزیر فضل القادر چودھری کے بیٹے صلاح الدین قادر کی پھانسی پر تو بھرپور احتجاج کرتی ۔ اسی طرح ایک اور اہم بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش بن جانے کے بعد پاکستان ،بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان ایک سہ فریقی معاہدہ طے پایا تھا۔ اس کے مطابق تینوں ملکوں نے تسلیم کیاتھا کہ کسی بھی ملک میں جنگی اُمور و معاملات پر کسی فرد کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں چلایاجائے گا۔ اس معاہدے کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیاگیا۔ معاہدے پر ذوالفقار علی بھٹو، بنگلہ دیش کے رہنما شیخ مجیب الرحمن اور بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے دستخط ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان تماشائی نہیں بلکہ اس معاملے میں ایک فریق ہے۔ پاکستان نے اس اہم معاملے کو پس پشت ڈال کر اپنی بنیادی ذمہ داری سے فرار اختیار کیاہے۔ بنگلہ دیش کے تمام محب اسلام شہری پاکستانی حکومت کی اس روش پر شدید نالاں ہیں۔

علی احسن مجاہد کی شہادت کے بعد بنگلہ دیش سرکارنے ایک اور جھوٹا پروپیگنڈا شروع کردیاہے۔ اس پروپیگنڈے کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد اپنی روسیاہی اور ذلت میں اضافے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں کر پائے گی۔ یہ جھوٹا پروپیگنڈا اس شخص کے شفاف کردار کو داغ دار کرنے کی بھونڈی کوشش ہے۔ جس کے بارے میں حکمران پارٹی کا ہر کارکن یہ جانتاہے کہ وہ جھکنے اور بکنے والا نہیں تھا۔ کہا جارہاہے کہ علی احسن مجاہد نے صدر سے رحم کی اپیل کی کوشش کی تھی۔ یہ صریح جھوٹ ہے۔ شہید کی شہادت کے فوراً بعد ان کی اہلیہ محترمہ، تمنائے جہاں نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ حکومتی پروپیگنڈا سفید جھوٹ ہے۔ علی احسن مجاہد نے کبھی ایسی کمزوری کااظہار نہیں کیاتھا۔اس قسم کی خبروں کو تمام دنیا جھوٹ کاپلندہ سمجھے۔ شہید نے تو اپنے اہل و عیال کو بھی وصیت فرمائی تھی کہ کوئی کمزوری نہ دکھائیں۔ میں شہادت پا کر ان شاء اللہ سرخرو ہوجاؤں گا۔ آپ لوگ اپنے راستے پر ڈٹے رہیں ۔ شہید نے اپنے بیٹے کے نام اپنے پیغام میں بھی پوری استقامت کے ساتھ کہا تھا کہ ’’اللہ کے دین کی خاطر جان قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔ سزائے موت میرے لئے پریشانی کا باعث نہیں۔‘‘

اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ یہ شہیدان وفا مرے نہیں ،زندہ ہیں۔ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ حالات کی سنگینی اپنی جگہ، دوستوں کی مظلومانہ شہادت اور جدائی کاغم برحق مگر اللہ کی رحمت سے مایوس تو نہیں ہوناچاہیے۔ ان شاء اللہ خدائے دیر گیر اپنا فیصلہ ضرور صادر کرے گا ۔ وہ رحیم و کریم بھی ہے لیکن جبّار و قہّار بھی ہے۔ حسینہ واجد اپنے باپ سے زیادہ عبرتناک انجام سے دوچار ہوگی۔ہمیں یقین ہے کہ بنگلہ دیش میں ظلم کی یہ سیاہ رات جوکافی طویل ہوگئی ہے، ان شاء اللہ جلد ختم ہوگی اور سپیدۂ سحر نمو دار ہوگا:

آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش

اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی

پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغام سجود

پھر جبیں خاک حرم سے آشنا ہو جائے گی!

مزید : کالم