مخدوم امین فہیم کاسبق!

مخدوم امین فہیم کاسبق!
 مخدوم امین فہیم کاسبق!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

21نومبر2015ء کادن ایک وفادار، جمہوریت پسنداورمحب وطن پاکستانی کی موت کاسورج لیکرطلوع ہوااوریہ افسوسناک خبرملی کہ مخدوم امین فہیم دنیاسے چلے گئے۔انتہائی تکلیف دہ خبرتھی ان کی ذات مرنجاں مرنج تھی۔پاکستان پیپلزپارٹی سے ان کی وابستگی اٹوٹ تھی۔ میرے جیسے لوگ پیپلزپارٹی کی تباہی اورلیڈرشپ کی لوٹ ماربرداشت نہ کرتے ہوئے 2013ء کے الیکشن سے پہلے ہی پارٹی کوخداحافظ کہہ گئے لیکن مجال ہے اس شخص پرکہ تمام ترزیادتیوں کے باوجودایک ہی خواہش تھی کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ وفاداری مرتے دم تک رہے۔ پیپلزپارٹی کی حالت کیسی ہے یہ ایک علیحدہ داستان ہے لیکن خدانے مخدوم صاحب کی خواہش پوری کردی۔انہوں نے اقتدارکی کبھی خواہش نہیں کی۔

مخدوم امین فہیم4اگست1939ء کوہالہ سندھ میں پیداہوئے1970ء کے الیکشن میں پہلی کامیابی حاصل کی اور2013ء تک مسلسل رکن قومی اسمبلی بنتے رہے۔انکے والدمخدوم محمدزمان طالب المولیٰ پیپلزپارٹی کے بانیوں میں شامل تھے۔ آٹھ مرتبہ مسلسل منتخب ہونے کاریکارڈقائم کرنے والے مخدوم امین فہیم1993.1988اور2008کی حکومتوں میں وفاقی وزیررہے۔وہ سیاست میں ایک عزت کانام تھے۔لاہورمیں ملک نذیرانکے ذاتی دوستوں میں شمارہوتے ہیں اورانکے صدابہارمیزبان ہوتے تھے جبکہ طاہرخلیق اورذکریابٹ ذاتی کے ساتھ ساتھ سیاسی دوست بھی تھے اس طرح دبئی میں میاں منیرہانس ان کیلئے ہمیشہ فرش راہ ہوتے تھے۔لندن میں بڑے بھائی اورعارف والا کے سپوت ملک محمودان کے ذاتی دوست تھے اورہمیشہ انکی خدمت کرتے تھے مخدوم صاحب بنیادی طورپرشاعری کرناچاہتے تھے سیاست توانکووراثت میں ملی۔جب میں نے انکومرحوم نوابزادہ کی پہلی برسی پرمشاعرہ کیلئے درخواست کی توانہوں نے کہاکہ ’’شاعری میری پہلی محبت ہے میں ابھی تک شاعری کرنے کاشوقین ہوں اورآج بھی دوسروں کی شاعری پڑھتاہوں‘‘انکی شاعری محبت،سادگی اورامن کادرس دیتی ہے وہ کہاکرتے تھے کہ: ’’میں مولانا رومی،شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست کوہمیشہ سے پسندکرتاہوں۔ان کی شاعری نے میری زندگی پربڑے اثرات چھوڑے ہیں۔ان شاعروں کی شاعری سے میں نے اچھے اوربُرے دنوں میں وفاداررہنااورمحبت کرناسیکھا ہے‘‘۔

میراان سے اچھاتعلق پاکستان عوامی اتحاداورGDAکے وقت شروع ہواجوکہ تحریک بحالی جمہوریت(ARD)کے دوران مستحکم ہوگیاتینوں اتحادوں میں وہ محترمہ بے نظیربھٹوکی نمائندگی کرتے تھے جبکہ مجھے بھی محترمہ نے نامزدکیاتھا۔مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان نے تمام اتحادوں میں مرکزی رول اداکیاتھا۔مرحوم نوابزادہ نصراللہ نے ہمیشہ مخدوم صاحب کی بہت عزت کی اورکبھی بھی کوئی اجلاس انکی نمائندگی کے بغیرشروع نہیں کیاتھا۔مخدوم صاحب وقت کے بڑے پابندتھے۔وہ رات گئے تک جاگتے تھے لیکن جب کبھی اے آرڈی کااجلاس ہوتاتھاوہ صبح7بجے کی فلائٹ لیکرکراچی سے لاہورپہنچ جاتے تھے۔جنرل مشرف کے دورمیں اپوزیشن لیڈرکا بہترین رول اداکیااوراس دوران انہوں نے سیاسی جدوجہدکیلئے بے پناہ سفرکیا۔نوابزادہ کی وفات کے بعدمخدوم امین فہیم اے آرڈی کے صدربن گئے۔میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے محترمہ بے نظیربھٹوکابھرپوراعتمادحاصل تھاجبکہ پاکستان عوامی اتحادکے صدرڈاکٹرطاہرالقادری اورARDکے صدرنوابزادہ نصراللہ بھی مکمل بھروسہ کرتے تھے۔جونہی مخدوم امین فہیم نے بطورصدراے آرڈی کاپہلااجلاس بلایاتومیں نے مرکزی سیکریٹری اطلاعات اورترجمان ARDکی حیثیت سے انہیں استعفیٰ پیش کردیا۔میراموقف تھاکہ نئے صدرکواپنے ترجمان اورسیکریٹری اطلاعات نامزدکرناچاہئے اورمیں ان پرمسلط نہیں ہوناچاہتا۔انہوں نے مجھے استعفیٰ واپس لینے کیلئے کہاتومیں نے پھرعرض کیاکہ میں چاہتاہوں کہ آپ سوچ سمجھ کراورمشاورت کے ساتھ فیصلہ کریں جس پرانہوں نے تمام لیڈرشپ کے فیصلے کے بعدمیرااستعفیٰ مستردکردیااوراس طرح اے آرڈی کی زندگی تک اکٹھے اے آرڈی کی سیاست کرتے رہے۔انہیں غصہ نہیں آتاتھاان کی سرشست میں وفاداری اورمحبت تھی۔وہ ایک بہترین شاعرتھے۔

مجھے یادہے کہ نوابزادہ نصراللہ کی پہلی برسی کے موقع پرہم نے ایک مشاعرہ کااہتمام کیاجس میں مخدوم صاحب نے اپناکلام سنایا۔سیاستدان بہت کم شاعرہوتے ہیں لیکن جوشاعری کرتے ہیں توکمال کرتے ہیں۔پاکستان میںTop لیڈرشپ کے Retireہونے کاکوئی رواج نہیں۔اس لئے سیکنڈکلاس لیڈربغاوت کرتے ہیں یااس حالت میں اللہ کوپیارے ہوجاتے ہیں ۔بغاوت کرنے والے بعض کامیاب ہوجاہتے ہیں لیکن اکثریت خوارہوتی ہے۔مخدوم امین فہیم کوکئی مرتبہ وزیراعظم بننے کی پیشکش ہوئی اوراس بات کاپوراپاکستان گواہ ہے لیکن مجال ہے کہ انہوں نے ذرابرابربھی اس کاسوچاہووہ اپنی قیادت کی خواہش کے بغیرکوئی عہدہ قبول کرنے کیلئے تیارنہیں تھے۔پاکستان کی سیاست میں بہت زیادہ تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔لیڈرشپ کودستبردارہونے کارواج ڈالناچاہئے۔نئی لیڈرشپ کے بغیرکوئی ملک اورقوم ترقی نہیں کرسکتی۔بدقسمتی دیکھیں کہ محترمہ کی شہادت کے بعدمخدوم امین فہیم سب سے زیادہ پسندیدہ اورحق رکھتے تھے انہیں آصف زرداری نے پسنداورناپسندکے چکرمیں وزارت عظمیٰ سے محروم کردیااوران کے ہی ایک ساتھی یوسف رضاگیلانی کووزیراعظم بنادیااوربعدازاں ایک ایسے شخص کووزیراعظم بنایاگیاجومخدوم صاحب کی رات دن خدمت کرتے تھے ۔ بہرحال یہ ستم پاکستان کی سیاست نے دیکھااورمخدوم امین فہیم نے برداشت کیا۔پی پی پی کی موجودہ قیادت نے صرف پارٹی کونقصان نہیں پہنچایابلکہ پارٹی کے ساتھ شدیدمحبت کرنے والوں کوبھی بربادکردیااورانہیں پارٹی چھوڑنے پرمجبور کردیا۔

بدقسمتی سے پاکستان اورپی پی پی انکی صلاحیتوں اورتجربے سے فائدہ نہیں اٹھاسکی اوروزارت تجارت میں انکوپھنسادیاگیاجس کے تجارتی چکروں نے ان کومرتے دم تک نہیں چھوڑا۔وہ سیاستدانوں بیوروکریٹس اورفوج میں یکساں مقبول تھے۔ہرکوئی انہیں اپنانمائندہ تصورکرتاتھا۔وہ ہرشخص کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے تھے ۔وہ محب وطن پاکستانی اورجمہوریت پرمکمل یقین رکھتے تھے وہ کہتے تھے کہ جمہوریت کے بغیرملک ترقی نہیں کرسکتااس لئے توانہوں نے جنرل ضیاء الحق کے خلاف تحریک میں بھرپورحصہ لیاجبکہ جنرل مشرف کے خلاف تحریک کی انہوں نے قیادت کی۔انہوں نے جمہوریت پرکبھی Compromise نہیں کیا۔ARDکی تحریک کے دوران بیگم تہمینہ دولتانہ کے گھراجلاس منعقدہوا ۔ پولیس نے گھرکوگھیرے میں لیکرتمام قائدین کوگرفتارکرلیاجن میں مرحوم نوابزادہ نصراللہ، مخدوم امین فہیم،میاں مصباح الرحمٰن،تہمینہ دولتانہ، ظفرعلی شاہ،خان امان اللہ خان،قاسم ضیاء، سیدمنظورگیلانی،سیدمنیرگیلانی اوربیس کے قریب لیڈرشامل تھے ۔پولیس نے مجھے جس گاڑی میں بٹھایااس میں نوابزادہ نصراللہ اورامین فہیم بھی تھے۔پولیس نے ان لیڈروں سے کہاکہ ہمیں حکم ہے کہ آپ کو چھوڑدیاجائے۔دونوں قائدین نے اپنے دیگرساتھیوں کے بغیررہاہونے سے انکار کردیا جس پرپولیس نے مخدوم امین کوزبردستی لاہور ایئرپورٹ لے جاکرکراچی روانہ کردیاجبکہ نوابزادہ کونکلسن روڈچھوڑدیااورہمیں پولیس سرورروڈتھانہ اورپھرکوٹ لکھپت جیل لے آئی جہاں ہم نے ایک ہفتہ گزارا۔مخدوم امین فہیم نے مسلسل ہمارے ساتھ جیل میں رابطہ رکھااورحکومت کوہمیں رہاکرنے پرمجبورکیا۔

مخدوم امین فہیم کی وفات سے پاکستان سے محبت کرنے والے شخص سے ہم محروم ہوئے ہیں۔سندھ میں انکاکوئی متبادل نہیں۔انکی وفات پرسیاسی پارٹیوں کیلئے ایک ہی سبق ہے کہ پارٹیوں کے اندرسیکنڈکلاس لیڈرشپ کوDevelop کیاجائے۔میاں نوازشریف نے مریم نوازکولیڈرشپ دینے کافیصلہ کیاہے تواچھی بات ہے لیکن قدم آگے بھی بڑھاناچاہئے تاکہ اگلے الیکشن میں پاکستان نئی قیادت سے فائدہ اٹھاسکے۔اس طرح بلاول بھٹوزرداری کوچیئرمین بنانے سے لیڈرنہیں بنایاجاسکتاانکوفری ہینڈدیناہوگاتاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق پارٹی چلاسکیں۔عمران خان کواپنی پارٹی کے نوجوانوں کوآگے لاناچاہئے اوریہی سبق دوسری پارٹیوں کوسیکھناچاہئے۔اللہ تعالیٰ مخدوم امین کوجوارِ رحمت میں جگہ دے۔

مزید : کالم