بھارت معاہدے سے کیوں مکر رہا ہے؟

بھارت معاہدے سے کیوں مکر رہا ہے؟

دوبئی میں آئی سی سی کے دفتر میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے اور پاک بھارت کرکٹ سیریز کے امکانات ختم ہو گئے ہیں، اب اگر آئی سی سی سری لنکا میں پانچ یا چھ ایک روزہ میچوں کی سیریز تجویز کرتا ہے تو اسے پاکستان کو رد کرکے اس معاہدے پر زور دینا چاہیے جو بگ تھری کے قیام کے وقت ہوا اور پاک بھارت چھ سیریز کا فیصلہ ہو گیا تھا۔جب بگ تھری کا فارمولا طے ہو رہا تھا تو سینئر اور سنجیدہ فکر حضرات نے مخالفت کی تھی، لیکن نجم سیٹھی کے چیئرمین بننے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کا موقف تبدیل ہو گیا اور آئی سی سی نے باقاعدہ ایک شیڈول طے کر دیا تھا اس کے لئے جو معاہدہ ہوا اس کے مطابق مستقبل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چھ سیریز ہونا ہیں اور پہلی سیریز پاکستان کی میزبانی میں دسمبر میں لازم ہے۔ پاکستان کی طرف سے سیکیورٹی کا یقین دلایا گیا ہے اور متبادل کے طور پر غیر جانبدار وینیو متحدہ عرب امارات تجویز کر دیا گیا، لیکن بھارتی بورڈ جو بگ تھری میں سے ایک ہے، اپنا مقصد پورا کر چکا ہے اس لئے تجربے کررہا ہے اور ہر مرتبہ کوئی نئی پخ لگا دیتا ہے، اب بھارتی بورڈ کی طرف سے ایک روزہ میچوں کی ایک سیریز دلی میں تجویز کی گئی اور یہ فرمایا گیا کہ اگر کھیل ہوگا تو بھارت میں ورنہ نہیں ہوگا۔ آئی سی سی کے جائلز کلارک کی مصالحتی کوشش بھی کامیاب نہیں ہوئی اب ان کی طرف سے سری لنکا والی تجویز کا امکان بتایاجا رہا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اور حال ایگزیکٹو کمیٹی کے صدر نجم سیٹھی خاموش ہیں حالانکہ معاہدہ انہوں نے کیا اور بگ تھری کو قبول کیا تھا، شہر یار خان اپنی تمام تر نوابی بھول کر بھارتی بورڈ کی منت سماجت پر اتر آئے ہیں کہ مجوزہ رقم نہ ملی تو بورڈ دیوالیہ ہو جائے گا۔بھارت کے وزیراعظم مودی کے تعصب اور شیوسینا کی پاکستان دشمن کارروائیوں اور پھر دھمکیوں کے بعد پاکستان ٹیم کا تو ٹی 20ورلڈکپ کے لئے بھارت جانا مشکل ہو چکا ہے اس کے لئے بھی سکیورٹی کی بہت بڑی ضمانت لینا ہوگی۔ ایک خود دار اور آزاد و خود مختار ملک کے بورڈ کی حیثیت سے ایسی توہین برداشت نہیں کی جانی چاہیے۔اب تو یہی صورت ہے کہ پاکستان آئی سی سی کے خلاف نقصان کا دعویٰ کرے، اور اگر یہ سیریز نہیں ہوتی تو جواب محترم نجم سیٹھی سے طلب کیا جائے ، جہاں تک بگ تھری کے قیام کے وقت ہونے والے معاہدے کے تحت جو شیڈول مرتب ہوا باقی سب ممالک اس پر عمل کررہے ہیں۔ صرف بھارت اس حد تک عمل نہیں کررہا، جس کے مطابق پاکستان سے سیریز ہونا ہیں۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...