چیف جسٹس کی برحق باتیں!

چیف جسٹس کی برحق باتیں!

چیف جسٹس مسٹر جسٹس انور ظہیر جمالی نے خود احتسابی کے عمل پر زور دیا اور ساتھ ہی کہا ہے کہ ہر ایک کو آئین کے مطابق عمل کرنا چاہیے کہ ہر ادارہ اس کا پابند ہے، اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے سپریم جوڈیشل کونسل کو اس لئے فعال کیا کہ عدلیہ اور فاضل جج حضرات بھی احتساب سے بالا نہیں اور اس طرح خود احتسابی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔فاضل چیف جسٹس نے اپنی تقریر میں جو کچھ بھی کہا وہ اپنی وضاحت آپ ہے اور ان کے کہے گئے الفاظ سے سرمواختلاف نہیں کیا جا سکتا انہوں نے احتساب اور آئینی دائرہ کار کے حوالے سے جو بھی کہا یہ عوام کے دل کی آواز ہے ہر ملک کا آئین ہی امور مملکت چلانے کا ذریعہ ہوتا ہے اور جہاں بھی آئین کی عملداری ہوتی ہے وہاں مسائل بھی نہیں پیدا ہوتے، یہ پاکستان اور پاکستانیوں کی بدقسمتی ہے کہ یہاں آئین بننے اور ان کو کالعدم قرار دینے کے بھی ریکارڈ ہیں اور پھر آئینی خلاف ورزیاں بھی ہوتی ہیں، اب ملک کے پاس 1973ء والا آئین موجود ہے، اس میں ترامیم ضرور ہوئیں اور چونکہ آئین جامد نہیں ضرورت کے مطابق اس میں ترمیم ممکن ہے جس کے لئے آئین ہی میں گنجائش ہے اس لئے ترامیم پر اعتراض سے گریز کرتے ہوئے اس امر کی تائید لازم ہے کہ ہر ادارہ آئین کے دائرہ کار میں کام کرے۔فاضل چیف جسٹس نے خود احتسابی کے جس نظریئے اور عمل کا ذکر کیا وہ بھی عوامی حمایت کا حامل ہے کہ عوام کڑے احتساب کے قائل ہیں، عدلیہ نے اگر خود احتسابی کا عمل شروع کیا تو باقی اداروں کو بھی اس مثال کی تقلید کرنا چاہیے اور پارلیمنٹ میں موجود پارٹیوں پر تو فرض ہے کہ وہ زیر غور احتساب بل کو بہت زیادہ چھان پھٹک کر ایک ایسا قانون بنا دیں جس کے تحت ہر ایک کا احتساب ہو سکے اور کوئی احتساب سے ماورا نہ ہو کہ احتساب کے غیر جانبدارانہ اور منصفانہ عمل سے معاشرہ سنور جائے گا۔

مزید : اداریہ