دہشت گردی کے متعلق درست طرزِ فکر

دہشت گردی کے متعلق درست طرزِ فکر

امریکہ کے صدر اوباما نے کہا ہے کہ مسلمان نہیں، چھوٹا سا گروہ دہشت گردی میں ملوث ہے دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ نہ جوڑا جائے، مٹھی بھر دہشت گرد پوری دنیا کو یرغمال نہیں بنا سکتے۔ کوالا لمپور میں ’’آسیان‘‘ کے اجلاس میں شرکت کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ داعش کا خاتمہ امریکہ کا حقیقی ہدف ہے، اور یہ ہدف ہر صورت حاصل کیا جائے گا۔ عالمی برادری متحد ہو کر اس دہشت گرد گروپ کے خلاف کارروائی کرے، البغدادی کو جلد ڈھونڈ نکالیں گے انہوں نے کہا روس اپنی توجہ دولتِ اسلامیہ (داعش) پر مرکوز رکھے۔صدر اوباما نے یہ بات بالکل درست کہی ہے کہ مسلمان نہیں، چھوٹا سا گروہ دہشت گردی میں ملوث ہے لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ مغربی دنیا میں بہت سے لوگ بلا سوچے سمجھے دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جوڑتے چلے جاتے ہیں خود امریکہ میں صدارتی امیدوار، ڈونلڈ ٹرمپ ہر روز مسلمانوں کے خلاف کوئی نہ کوئی بیان داغتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ امریکہ کے اندر بھی انہیں جواب دینے والے موجود ہیں لیکن وہاں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹریپ میں آتے اور ان کی باتوں پر کان دھرتے ہیں۔ دہشت گردی میں جو تنظیمیں ملوث ہیں وہ اپنے مقاصد کے لئے نام تو اسلام کا استعمال کرتی ہیں لیکن ان کی کارروائیوں کا نشانہ زیادہ تر مسلمان ہی بنتے ہیں۔ پیرس میں دہشت گردی کی حالیہ واردات کے بعد فرانس میں مسلمانوں کو شک و شبہے کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا ہے۔ مساجد کو بند کرنے کی باتیں بھی ہونے لگی ہیں۔ ایسے لوگوں کو صدر اوباما کے بیان سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئے جنہوں نے دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑنے کی برملا مخالفت کی ہے۔

دنیا بھر میں دہشت گردی سے جو ملک سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ پاکستان ہے، جو اسلامی ملک ہے اور مسلمانوں کی اکثریت یہاں رہتی ہے۔ اس کے باوجود اسے اسلام کے نام پر دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا اور اب تک بنایا جا رہا ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جو جنگ شروع کی اور جس کے تحت افغانستان پر حملہ کیا گیا اس کے نتیجے میں امریکہ طالبان کی حکومت تو ختم کرنے میں کامیاب ہو گیا، امریکی اور نیٹو افواج بھی وہاں پہنچ گئیں اور فورسز میں کمی ہونے کے باوجود اب تک وہاں موجود ہیں۔ امریکہ نے وہاں اپنی پسند کی حکومت بھی قائم کر لی۔ حامد کرزئی کو صدر بنا دیا گیا اب ان کی جگہ اشرف غنی نے لے لی، ان چودہ برسوں میں امریکہ نے بزعم خویش دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت لی، امریکہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ افغانستان میں القاعدہ کی کمر توڑ دی گئی ہے اور وہ اب امریکہ کے خلاف کوئی بڑی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔

ممکن ہے امریکہ کا یہ تجزیہ اور یہ دعویٰ درست ہو، اس کی سرزمین دہشت گرد حملوں سے محفوظ بھی ہو گئی کیونکہ نائن الیون کے بعد امریکہ کے خلاف کوئی بڑا دہشت گرد حملہ نہیں ہو سکا، لیکن افغانستان کی ہمسائیگی میں واقع پاکستان پر سارا ملبہ آن گرا، یہاں پے در پے دہشت گردی کی کارروائیاں ہونے لگیں مساجد، گرجا گھر، سکول، کالج، ہسپتال، بازار، ہوائی اڈے، دفاعی تنصیبات، شاہراہیں غرض کوئی جگہ بھی ان سے محفوظ نہ رہی پاکستان کی معیشت کی بنیاد ہل کر رہ گئی۔ اربوں روپے کا نقصان ہوا، قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں سیکیورٹی اداروں کے انتہائی اعلیٰ اور قابل افسروں اور جوانوں کو نشانہ بنایا گیا، خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ دہشت گردی کی وارداتوں سے جنم لینے والے انسانی المیوں کی داستانیں پورے ملک میں چپے چپے پر بکھری پڑی ہیں۔ دہشت گردی کی یہ وارداتیں کرنے والے بظاہرسنگ دلی کے ساتھ مسلمان ہیں اور اسلام کا نام بھی لیتے ہیں لیکن جب وہ ایک اسلامی ملک اور اس کے کلمہ گو مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کرتے بچوں کو ذبح کردیتے اور عورتوں کو جلا دیتے ہیں تو اس کا واضح مطلب یہی لیا جا سکتا ہے کہ ان کا دعویٰ اسلام جھوٹ اور فریب کے سوا کچھ نہیں یہ لوگ اگر مسلمانوں کو نماز ادا کرتے ہوئے شہید کرنے سے گریز نہیں کرتے اور مساجد کو لہو سے رنگین کر دیتے ہیں تو ان کی کارروائیوں سے اگر کبھی کوئی غیر مسلم یا غیر مسلم عبادت گاہ نشانہ بن گئے تو جھٹ سے مسلمانوں کو ہدف ملامت بنانا شروع کر دیا گیا حالانکہ انصاف کی بات یہ ہے کہ ان کی کاروائیوں کا زیادہ ہدف ہمیشہ مسلمان ہی بنے اور اب تک بن رہے ہیں۔

صدر اوباما کی سوچ حقیقت پسندانہ ہے مغرب میں جو لوگ اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اسلام اور مسلمانوں سے انصاف نہیں کرتے اور دہشت گردی کی کسی واردات سے مغضوب ہو کر جواب میں مسلمانوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے اور انہیں دہشت گرد سمجھ کر ان کے خلاف اقدامات کرنا شروع کر دیتے ہیں وہ مسئلے کا درست ادراک نہیں کر رہے۔ داعش کی کارروائیوں کا علاقہ عراق اور شام ہے اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی دوسرے ملکوں میں بھی وہ دہشت گردانہ کارروائیاں کر رہی ہے۔ ان سارے ملکوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور داعش کی کارروائیوں کی وجہ سے گونا گوں مشکلات کا شکار ہیں، پہلے عراق تباہ ہوا اب شام ان کی کارروائیوں کا ہدف ہے اور ان کی وجہ سے لاکھوں شامی مہاجرین دنیا بھر میں دھکے کھاتے پھر رہے ہیں۔ ہزاروں ایسے ہیں جو دوسرے ملکوں میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش میں راستے ہی میں رزقِ خاک ہو گئے، ان لوگوں کے مسائل و مشکلات کی ساری ذمہ داری داعش پر عائد ہوتی ہے۔ اب اگر اس نے پیرس میں کارروائی کی ہے تو اسے داعش کی کارروائی سمجھنا چاہئے جسے پوری امت مسلمہ اسلام سے خارج سمجھتی اور اصلاحاً ’’خارجی‘‘ تصور کرتی ہے پیرس کی واردات کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہئے، دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں، یہ انسانیت کے دشمن ہیں اور ان سے کوئی رو رعایت بھی نہیں ہونی چاہئے لیکن جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس کے ذمے دار دوسرے پر امن مسلمان نہیں ہیں اور نہ ان کے اعمال کو اسلام سے منسوب کر کے اسلام کے خلاف جنگ شروع کرنے کی باتیں کرنے کا کوئی جواز ہے۔

مزید : اداریہ