اورنج ٹرین منصوبے سے تاریخی یادگاریں بھی متاثر ہو ں گی

اورنج ٹرین منصوبے سے تاریخی یادگاریں بھی متاثر ہو ں گی

لاہور(اپنے خبر نگار سے )تاریخی ورثہ اوررہائشی عمارتیں بچانے کے لئے متاثرہ شہریوں کے مظاہرے جاری ،گڑھی شاہو پیراشوٹ کالونی ،جین مندر، کپورتھلہ ہاؤس ،ہوسٹل کالونی اور دیگر علاقوں میں آبادیوں کو گرائے جانے کے خلاف احتجاج،چوبر جی کی یاد گارمغل دور کی مشہور یاد گاروں میں سے ایک ہے جو 1646میں بنائی گئی تھی اس تاریخی ورثہ پر بھی اثر پڑے گا تفصیلات کے مطابق او ر نج لائن میڑو ٹرین منصوبہ کے خلاف گڑھی شاہو کے ارد گرد کے علاقوں پیراشوٹ کالونی، ہوپ روڈ، بوگی روڈ جبکہ جین مندر کے ارد گرد کے علاقوں کپورتھلہ ہاؤس کچا لیک روڈ ،پوسٹل کالونی، محمدی احاطہ اور سید بابا موج دریا کے رہائشیوں اور دکان داروں کی بڑی تعداد نے آبادیوں کو گرائے جانے کے خلاف احتجاج کیا جن میں لاہور بچاؤ تحریک اور سول سوسائٹی کے ارکان بھی شامل تھے۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ منصوبہ کا روٹ تبدیل کر کے تاریخی ورثہ کو محفوظ کیا جائے چوبرجی کی یاد گار جو مغل دور کی یاد گاروں میں سے ایک ہے اور 1646میں بنائی گئی تھی جس کے سامنے ٹریک کا کام جاری ہے جبکہ جنرل پوسٹ آفس مال روڈ 1887میں تعمیر ہوا تھا لاہور سینٹ اینڈ ریوچرچ 1960میں شالا مار باغ 1641میں اور پرانا اسٹیٹ بینک بلڈنگ مال روڈ بھی تاریخی ورثہ میں شامل ہے ۔منصوبہ کے باعث ان تمام عمارتوں پر بھی اثر پڑے گا ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم حکومت اورمنصوبوں میں سے کسی کے خلاف نہیں لیکن مستقبل کی نسلوں کے لئے محفوظ ثقافتی ورثہ سائنس اور یاد گاروں کو رکھنا چاہیے تاریخی ورثہ کسی بھی ملک و قوم کا اثاثہ ہوتا ہے ان کی حفاظت اور دیکھ بھا ل حکومت کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے مگر ان عارتوں کو نئے منصوبوں کی تکمیل کی بھینٹ چڑھانے کی اجازت ہمارا قانون بھی نہیں دیتا شہری حقوق کے کارکن کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ایکٹ 1975دفعہ 22کی براہ راست خلاف ورزی ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...