قتل کے مقدمات کے تفشیشی یونٹ سنگل کیبن گاڑیاں فراہم کرنے کا فیصلہ ، آر پی او کانفرنس طلب

قتل کے مقدمات کے تفشیشی یونٹ سنگل کیبن گاڑیاں فراہم کرنے کا فیصلہ ، آر پی او ...

لاہو ر(وقائع نگارخصوصی)قتل کے کیسز کی تفتیش کے عمل کر تیز کرنے کے لئے قائم کیے گئے تفتیشی یونٹ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے ہر یونٹ انچارج کو سنگل کیبن گاڑیاں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان یونٹس کو درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لینے کے لئے اسی ہفتے آرپی او کانفرنس منعقد کی جائے گی تا کہ تفتیش کے عمل میں حائل رکاوٹوں کو ختم کیا جا سکے اور عوام کو جلد انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ فیصلہ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب مشتاق احمد سکھیرا کی سربراہی میں گزشتہ روز سنٹرل پولیس آفس لاہور میں منعقد ہوا۔ جس میں ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ پنجاب نسیم الزمان، ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ کیپٹن (ر) عثمان خٹک، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز،ایڈیشنل آئی جی PHPڈاکٹر عارف مشتاق، ڈی آئی جی انوسٹی گیشن چوہدری شفیق گجر، ڈی آئی جی SPUطارق نواز ملک، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرزفاروق مظہر، ڈی آئی جی PHPسلیمان چوہدری ، ڈی آئی جی I.T شاہد حنیف اور سی پی او کے دیگر پولیس افسران شامل تھے۔اس موقع پر AIGفنانس حسین حبیب امتیاز نے میٹنگ کے شرکاء کو بتایاکہ تمام اضلاع میں گرفتار کیے گئے ملزموں کی تصاویر اور انگلیوں کے نشانات فوری طور پر بھجوانے کے لئے کیمرے اور کمپیوٹر فراہم کر دئیے گئے ہیں۔اجلاس میں سی پی او میں قائم کمپلینٹ ہینڈلنگ سنٹر(CHC) کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور بتایا گیاکہ کمپلینٹ سنٹر میں بذریعہ فون موصول ہونے والی شکایات کی وائس کال ریکارڈنگ کے لئے خصوصی آلہ لگا لیا گیا ہے۔ جو بہت جلد کام شروع کر دے گا۔ اس کے علاوہ اجلاس میں بائیومیٹرک سسٹم اور ہیومن ریسورس کمپیوٹرائزیشن، ڈرائیور کانسٹیبلز کی پروموشن تربیتی استعدادکے بارے میں جاری اقدامات کی رفتار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔بعد ازاں انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب نے 42ویں مطالعاتی دورہ کے 38شرکاء سے سنٹرل پولیس آفس لاہور میں ملاقات کی۔ جن میں 31پروبیشنر ASPاور 7سٹاف ممبرز شامل تھے۔اس موقع پرآئی جی پنجاب نے شرکاء کے مختلف سوالات کے تفصیلی جوابات دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب کے 709تھانوں میں سے اس مالی سال میں 76تھانوں کونیا بنایا جا رہا ہے جن کی تعداد تمام سالوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب پولیس میں جدید دور سے ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کیا گیا ہے۔ جس سے فورس کے ریکارڈ مینجمنٹ کے ساتھ ساتھ وقت کی بچت اور کرپشن پر خاصی حد تک قابو پانے میں مدد ملے گی اور افسروں اور اہلکاروں کی ٹرانسفر/پوسٹنگ اور ترقیوں کے معاملات میں بھی شفافیت آئے گی۔آئی جی پنجاب نے بتایا کہ اہلکاروں کی ویلفےئر پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے اور دوران ملازمت وفات پانے والوں کی بیوہ کو 5سے 10ہزار اور فی بچہ 1000روپے ویلفےئر کی مد میں دئیے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ تمام پبلک یونیورسٹیوں، میڈیکل اور پروفیشنل کالجوں میں 60فیصد نمبر حاصل کرنے والے بچوں کو ان اداروں میں داخلے بھی دئیے جا رہے ہیں۔

مزید : علاقائی