ایران اورروس میں جوہری تعاون کا معاہدہ ، شام کے معاملے پر کسی کی مرضی قبل نہیں،ولادیمیر پیوٹن علی خامنہ ای

ایران اورروس میں جوہری تعاون کا معاہدہ ، شام کے معاملے پر کسی کی مرضی قبل ...

  تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)روسی صدر ولادی میر پوٹن اورایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے درمیان تہران میں ملاقات ہوئی جس میں شام کے معاملے پر متفق لائحۂ عمل اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں دونوں رہنماوں نے اس بات پر زور دیا کہ شام کے معاملے میں عوام کی خواہش کا احترام کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ شام کے معاملے پر کسی دوسرے ملک کی مرضی اور حل قبول نہیں۔دوسری طرف روس کے صدر ولاد ی میر پیوٹن نے ایران اور روس کے درمیان جوہری تعاون شروع کرنے کے فرمان پر دستخط کردیئے۔ماسکو میں روسی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر پیوٹن کے جاری کردہ حکم کے تحت ایران اور روس مشترکہ جوہری منصوبوں میں سرمایہ کاری کرسکیں گے۔ اس حکم کے تحت ایران کو جوہری ٹیکنالوجی اور متعلقہ آلات کی برآمدات پر عائد پابندیاں بھی ختم کردی گئی ہیں۔صدر پیوٹن کے جاری کردہ فرمان میں ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان طے پانے والے جوہری اتفاق رائے کی بنیاد پر دونوں ممالک، اراک کے بھاری پانی کے ری ایکٹر کی تعمیر نو اور جدید کاری کے منصوبے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے جبکہ روس اور ایران کے درمیان افزودہ یورینیم کا تبادلہ بھی عمل میں آئے گا اور روس ایران سے کم افزودہ یورینیم حاصل کرے گا۔

مزید : صفحہ اول