سانحہ پیرس،برطانیہ کا ’سٹرائیک بریگیڈز‘ کی تیاری کا منصوبہ

سانحہ پیرس،برطانیہ کا ’سٹرائیک بریگیڈز‘ کی تیاری کا منصوبہ

لندن، برسلز(خصوصی رپورٹ)سانحہ پیرس کے تناظر میں برطانیہ نے ’سٹرائیک بریگیڈز‘ کی تیاری کا منصوبہ بنا لیا ہے ۔Image caption نئے حملہ آور دستے برطانیہ کے موجود فوجیوں پر مبنی ہوں گے،برطانوی حکومت نے پانچ پانچ ہزار فوجیوں پر مشتمل دو حملہ آور فوجی دستے (سٹرائیک بریگیڈز) تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اس بارے میں ایوان نمائندگان کو مطلع کرنے والے ہیں کہ ان دستوں کا قیام سنہ 2025 تک عمل میں آئے گا اور یہ برطانیہ کو لاحق ’متنوع خطرات‘ کے پیش نظر تیزی کے ساتھ تعینات کیے جا سکیں گے۔ایس ڈی ایس آر کا پیش لفظ لکھتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ’تازہ حکمت عملی اس بات کے پیش نظر ہے کہ ہم ملک پر مبنی خطرات کی صورت میں روایتی دفاع پر اکتفا نہیں کر سکتے اور ہمیں ان خطرات کا جواب دینے کی ضرورت ہے جو کسی سرحد کو تسلیم نہیں کرتے۔’اس لیے رواں پارلیمان کے دور میں ہماری ترجیحات میں ملک پر مبنی خطرات، دشت گردی سے نمٹنا، سائبر سکیورٹی میں عالمی رہنما رہنا اور اس بات کو یقینی بنانا شامل ہے کہ ہم کسی بحران کے پیدا ہونے کی صورت میں تیزی کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔دوسری جانب بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں سکیورٹی ہائی الرٹ کو آئندہ پیرتک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ممکنہ دہشتگردی کے پیش نظر برسلز میں سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی۔ برسلز اور اس کے گردو نواح میں اب بھی خوف و ہراس کی صورتحال ہے اور سکولوں میں حاضری 50فیصد سے کم ہے اس لئے اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سکولوں کے باہر فوج کو تعینات کیا جائے تاکہ سکولوں میں حاضری بڑھ سکے۔برسلز میں سکول اور ٹرانسپورٹ سروس بدھ سے دوبارہ کھل جائے گی پیرس حملوں کے بعد سے اب تک برسلز میں پبلک ٹرانسپورٹ سروس اور سکول بند ہیں۔

مزید : صفحہ اول