بنگلہ دیش میں سیاسی پھانسیاں ، پاکستان سہ افریقی معاہدے پر عملدرآمد اور رہنماؤں کی قانونی و سفارتی مدد ناکام رہا

بنگلہ دیش میں سیاسی پھانسیاں ، پاکستان سہ افریقی معاہدے پر عملدرآمد اور ...

لاہور(سعید چودھری )نام نہاد عالمی جنگی جرائم کے ٹربیونل کے احکامات پر پاکستان سے محبت کے "جرم "میں سیاسی رہنماؤں کو بنگلہ دیش میں پھانسیاں دینے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ پاکستانی حکومت 1971ء کی جنگ میں متحدہ پاکستان کی حمایت کرنے والے ان لوگوں کی نہ صرف قانونی اورسفارتی سطح پرمدد کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے بلکہ 1974ء کے اس معاہدے پر بھی عمل درآمد ممکن نہیں بنا سکی جس کے تحت بنگلہ دیش کی حکومت نے یقین دہانی کروائی تھی کہ 1971ء کے واقعات کی بنا پر کسی کے بھی خلاف مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔ذرائع کے مطابق ان مقدمات میں عدم مداخلت کی پالیسی کے تحت پاکستانی حکومت ان ملزموں کی صفائی میں دستیاب ثبوت بھی بنگلہ دیشی عدالتوں کو فراہم کرنے پر آمادہ نہیں ہے جس کی ایک مثال 21اور22نومبر کی درمیانی شب پھانسی چڑھ جانے والے بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے راہنما صلاح الدین قادر چودھری کا کیس ہے ۔صلاح الدین قادر چودھری مشرقی پاکستان میں پاکستان مسلم لیگ کے ممتاز راہنما فضل القادر کے صاحبزادے ہیں ،صلاح الدین قادر چودھری پرجن واقعات کی بنا پر فرد جرم عائد کی گئی ہے وہ واقعات اس وقت پیش آئے جب وہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش)میں موجود ہی نہیں تھے ،وہ ان تاریخوں پر پنجاب یونیورسٹی لاہور میں بی اے آنرز کا امتحان دے رہے تھے جس کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں ،علاوہ ازیں ڈھاکہ ہائی کورٹ کے جسٹس شمیم حسین بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ صلاح الدین قادر ان دنوں فاضل جج کے ساتھ لاہور میں مقیم تھے اور پنجاب یونیورسٹی میں ان کے ساتھ زیرتعلیم تھے ۔ذرائع کے مطابق جسٹس شمیم حسین نے صلاح الدین قادر چودھری کے حق میں شہادت قلمبند کروانے کے لئے چیف جسٹس سے اجازت طلب کی جو انہیں نہیں دی گئی ۔پنجاب یونیورسٹی کے ریکارڈ کے مطابق صلاح الدین قادر چودھری نے اگست 1971ء میں سیاسیات کے مضمون میں بی اے کی ڈگری حاصل کی جبکہ صلاح الدین قادر چودھری پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ تمام 4سے 13اپریل 1971ء کے واقعات سے متعلق ہیں ۔ایسی ٹھوس زبانی ، واقعاتی اور دستاویزی شہادتیں موجود ہیں کہ صلاح الدین قادر چودھری ان دنوں لاہور میں زیر تعلیم تھے ۔ تحریک انصاف کے راہنما اسحاق خاکوانی سمیت صلاح الدین قادر چودھری کے ساتھ اس وقت پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم ان کے دوستوں نے خود کو ان کی صفائی میں گواہی کے طور پر پیش کیا ،انہیں بنگلہ دیشن جانے کی اجازت نہیں ملی جبکہ پاکستانی حکومت سرکاری سطح پر متعلقہ دستاویزات بنگلہ دیش کی حکومت کے سپرد نہیں کرسکی ۔علاوہ ازیں 9اپریل 1974ء کو دہلی میں پاکستان ،بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک سہ فریقی معاہدہ طے پایا تھا جس پر بنگلہ دیش کی طرف سے اس کے امور خارجہ کے وزیر کمال حسین ،بھارتی حکومت کی طرف سے سورن سنگھ جبکہ پاکستان کی طرف سے اس وقت کے وزیر برائے امور خارجہ و دفاع عزیز احمد نے دستخط کئے تھے ۔اس معاہدہ کی شق نمبر15میں بنگلہ دیش کی طرف سے یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے فیصلہ کرلیا ہے کہ (بنگلہ دیش کے قیام کی مخالفت پر )کہ کسی شخص کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں چلایا جائے گا ۔اس شق میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے بنگلہ دیشی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو بھول کر معاف کردیں ،جس کے جواب میں بنگلہ دیشی وزیر کمال حسین نے بتایا کہ بنگلہ دیشی حکومت فیصلہ کرچکی ہے کہ جذبہ رحم کے تحت کسی کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی اور نہ ہی کسی کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔صلاح الدین قادر چودھری کے علاوہ جماعت اسلامی کے 3رہنماؤں کو ایسے ٹربیونل کے حکم پر پھانسی دی جاچکی ہے جس کا کسی عالمی عدالت سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ ٹربیونل 1910ء میں بنگلہ دیش کی حکومت نے اپنے ہی ایک قانون کے ذریعے تشکیل دیئے اور ان کے ساتھ "عالمی "کا دم چھلہ لگا رکھا ہے ۔پاکستان حکومت نے 1974ء کے دہلی معاہدہ پر عمل درآمد کے لئے بھارت سمیت کسی بھی فورم پر یہ معاملہ نہیں اٹھایا تاہم مذکورہ پھانسیوں کے بعد "معاملے پر نظر رکھنے "جیسے بیانات ضرور دیئے ہیں۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...