54ارکا ن پالیمنٹ اور سیاسی رہنماؤں کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئیں

54ارکا ن پالیمنٹ اور سیاسی رہنماؤں کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئیں

لاہور(نیوز رپورٹر)ملک بھر میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران 54اراکین پالیمنٹ اور سیاسی رہنماؤں کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئیں۔ اسرار اللہ زہری، ہمایوں کرد ، اکبر مگسی ، سیمل کامران ، شمائلہ رانا ، صفدر گل ، میر بادشاہ قیصرانی ، سفینہ کھر اور دیگر کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئیں۔جمشید دستی ،کشور کمار اور عاقل شاہ کوعدالتوں نے سزائیں سنائیں۔معلوم ہوا ہے کہ سابق صدر جنرل (ر ) پرویز مشرف نے 12اکتوبر 1999کو اقتدار میں آنے کے بعد 2002میں ملک میں عام انتخابات منعقد کروائے۔ جن میں ملکی تاریخ میں پہلی بار شرط رکھی گئی کہ صرف بی اے پاس امیدوار ہی قومی وصوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کے الیکشن لڑ سکتے ہیں۔اس پر کم تعلیم یافتہ اور ان پڑھ امیدواروں کی بڑی تعداد نے ملکی و غیر ملکی یونیورسٹیوں کی جعلی ڈگریاں بنا لیں۔اور ان کا یہ عمل ہی مخالفین کے لیے ترپ کا پتہ بن گیا اور وہ اس کمزوری کو لیکر عدالتوں اور الیکشن کمیشن جاپہہنچے جس پر 54اراکین پارلیمنٹ کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئیں۔ ان میں سے پنجاب سے جمشید دستی، چوہدری شفیق ، صائمہ عزیز ، احمد گجر ، صفدر گل ، ذولفقار علی ،میر بادشاہ قیصرانی ،افشاں فاروق ، فرح دیبا۔شمائلہ رانا ، وسیم افضل گوندل ، سفینہ کھر، اعجاز نون ،ثمینہ خاور، سیمل کامران اور ماجدہ زیدی، کے پی کے سے عاقل شاہ ،مولوی عبید اللہ ، قیوم خان ، سردار علی ، کشور کمار ،بلوچستا سے اسرار اللہ زہر ی، ہمایوں کرد ،شمعٰ مگسی ، صمد اخونزادہ ، محمد طور، یار رند ، روبینہ عرفان اور طارق مگسی وغیرہ شامل ہیں۔سینیٹرز میں اکبر مگسی ، اسرار اللہ زہر ی ، گل لاٹ ، ولی بادینی ، محبت مری اور ریحانہ یحیٰ شامل ہیں۔متذکرہ بالا کے علاوہ جے یو آئی کے ایم پی اے یاسر رضا ،دیوان سید عاشق حسین بخاری ،ناصر علی شاہ ، مولوی آغا محمد ، غلام دستگیر ، ناصر محمود ، فیصل زمان ، سمیرا ملک ، عائلہ ملک جیسے دیگر رہنماؤں کی ڈگریاں جعلی نکلیں۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...