ساڑھے 4برس گزرنے کے باوجود 32لاکھ سرکاری مالازمین کی ڈگریوں کی تصدیق نہ ہو سکی

ساڑھے 4برس گزرنے کے باوجود 32لاکھ سرکاری مالازمین کی ڈگریوں کی تصدیق نہ ہو سکی

 لاہور(شہباز اکمل جندران) ملک بھر کے32لاکھ وفاقی اور صوبائی سرکاری ملازمین کی تعلیمی اسناد جعلی ہیں یا اصلی ، حقیقت سے پردہ نہ اٹھ سکا۔ سیاستدانوں اور اراکین پارلمینٹ کے بعد او جی ڈی سی ایل ، ای او آئی بی ، ٹریفک پولیس،پی ٹی وی ،پی آئی اے جیسے سرکاری اداروں میں جعلی ڈگری کے سینکڑوں کیس سامنے آگئے۔سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے 5فروری 2011کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو حکم جاری کیا تھا کہ ہائرایجوکیشن کمیشن کے ذریعے ملک کے تمام وفاقی اور صوبائی اداروں کے سرکاری ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق کرائی جائے۔لیکن ساڑھے 4برس گزرنے کے بعد بھی اس حکم پر عمل در آمد ممکن نہیں بنایا جاسکا۔ جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ترجمان نے ایسے کسی حکم سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ سابق وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے 5 فروری 2011کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے ملک بھر کے وفاقی اور صوبائی اداروں میں کام کرنے والے تمام ملازمین کی ڈگریاں چیک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور اس ضمن میں اسٹیبلمشنٹ ڈویژن کو حکم جاری کردیا گیا ہے۔لیکن ساڑھے 4برس گزرنے کے بعد بھی وزیر اعظم کا یہ حکم تعمیل طلب ہے۔ذرائع کے مطابق سابق صدر مملکت جنرل (ر) پرویز مشرف نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کے لیے گریجویشن کی شرط مقرر کی توبہت سے ان پڑھ یا کم تعلیم یافتہ سیاستدانوں اور امیدواروں نے ملکی اور غیر ملکی یونیورسٹیوں کی جعلی ڈگریاں بنوالیں۔ لیکن یہ جعلسازی ان کے گلے پڑ گئی۔ اور ان کے مخالفین ان کی اس کمزوری کو لیکر عدالتوں اور الیکشن کمیشن کے پاس جاپہنچے۔جس کے نتیجے میں بیسیوں وزرااور اراکین پارلیمنٹ کو اپنی سیٹوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔قانون سازوں پر زد آئی تو انہوں نے بھی سول بیوروکریسی ، عدلیہ اور افواج پاکستان سے متعلقہ افرادکی ڈگریاں چیک کرنے پر زور دینا شروع کردیا۔ اور بلآخر فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھر کے وفاقی اور صوبائی ملازمین کی ڈگریوں کی ایچ ای سی سے تصدیق کروائی جائے۔بتایا گیا ہے کہ ملک میں وفاقی اور صوبائی ملازمین کی مجموعی تعداد 32لاکھ سے زائد ہے۔ ان میں سے 27لاکھ ملازمین کا تعلق صوبائی محکموں سے ہے۔جبکہ 4لاکھ 91ہزار ملازمین وفاق اور مختلف وفاقی محکموں کے ملازم ہیں۔جن میں سے 95فیصد 4لاکھ 67ہزار ملازمین گریڈ ایک سے 16تک جبکہ 24ہزار سے زائد ملازمین گریڈ17سے 22کے عہدوں پر کام کررہے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اب تک او جی ڈی سی ایل ، ای او آئی بی ، ٹریفک پولیس،پی ٹی وی ،پی آئی اے جیسے سرکاری اداروں میں جعلی ڈگری کے سینکڑوں کیس سامنے آچکے ہیں۔پی آئی اے میں ائیر ہوسٹس ، مہر نگار ، انجنئیرنگ سپروائزرراحیلہ طارق ، فزیو تھراپسٹ ایرک جانسن ،ٹریننگ سپورٹ اسسٹنٹ صلاح الدین ، سٹور اسسٹنٹ امجد سعید ،عرفان شاہ شیڈولنگ اسسٹنٹ ، عارف مفتی ٹیلی فون آپریٹر ،عبدالکریم سٹور اینڈ پرچیزاسسٹنٹ ، کیڈٹ پائلٹ وقاص انور ،پیکس سروس اسسٹنٹ کامران خان زئی ، فلائٹ سٹیورٹ محمد فرید ، سینئر فلائٹ سٹیورٹ شاہد احمد واحدی ،ائیر ہوسٹس عذرا پروین بٹ ، کیڈٹ پائلٹ زاہد حنیف بٹ ، کیڈٹ پائلٹ محمد جہانزیب ، کیڈٹ پائلٹ عصمت محمود فوڈ سروس افسر سلمان سعید سمیت 3سو سے زائد، پی ٹی وی میں 82، ٹریفک پولیس میں ایک سو سے زائد ، او جی ڈی سی ایل میں جعلی ڈگری کے حامل ڈپٹی چیف برائے قانونی مبین اختر سمیت پانچ افراد گرفتار ہوئے ۔جبکہ ایک سو 9کے خلاف اسی الزام کے تحت تحقیقات شروع کی گئیں۔ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ اور یگر سرکاری اداروں میں بھی جعلی ڈگری کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے سرکاری ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق کے حکم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ترجمان و جوائنٹ سیکٹری مسعود اختر چوہدری کا کہنا ہے ۔وہ سا بق وزیراعظم کے ایسے کسی حکم کے حوالے سے کچھ نہیں جانتے۔

مزید : صفحہ اول