دنیا بھر میں سیاستدان اور سرکاری ملازمین جعلی ڈگریاں استعمال کرتے ہیں

دنیا بھر میں سیاستدان اور سرکاری ملازمین جعلی ڈگریاں استعمال کرتے ہیں

لاہور(نیوز رپورٹر) دنیا بھر میں جعلی ڈگریوں کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔امریکہ ،برطانیہ ، روس ، جرمنی ، فرانس ، چین ، بھارت ، بنگلا دیش اورسوئٹزرلینڈ سمیت ہر ملک میں سیاستدان اور سرکاری ملازمین جعلی ڈگریاں استعمال کرتے ہیں۔معلوم ہواہے کہ جعلی ڈگریوں کا استعمال صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ لگ بھگ دنیا کے ہر ملک میں ہوتا ہے۔ اور جعلساز ، ملازمت ، ترقی یا فوائد کے حصول کے لیے بوگس ڈگریاں استعمال کرتے ہیں۔امریکہ ریاست واشنگٹن میں ایک ہزار افراد کو جعلی دستاویزات اور بوگس تعلیمی اسناد کی بنیاد پر بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔اسی طرح امریکہ میں سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے 69اور عرب امارات سے تعلق رکھنے والے 68افراد کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں ،برطانیہ ، سوئٹزرلینڈ ، بھارت ، بنگلا دیش ،ملائشیا ، ہانگ کانگ ، نیوزی لینڈ ،پرتگال ، جنوبی کوریا ، رومانیہ ، آسٹریلیا ، فن لینڈ ، اور جرمنی میں بھی جعلی ڈگری کے سینکڑوں کیس سامنے آچکے ہیں۔بھارت کی وزیر تعلیم سمرتی ایرانی ، وزیر مملکت جتندر راٹھور ،ایرانی وزیر داخلہ علی کردان ، سویڈن کے وزیر سن روٹو لٹورین ،برطانوی سیاسی رہنما اور کنزرویٹو پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین ھاورڈ آرچر، یونان کے رہنما کھوٹاپس مارگیرٹس، لبنان کی رکن پارلمنٹ ریسٹونی زہرا اور دیگر کو جعلی ڈگری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ۔ جب کہ ان میں سے زیادہ تر الزامات سچ ثابت ہوئے۔ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے 22محکموں میں6سو 20ملازمین کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئی ہیں۔اسی طرح پرتگال کے 15سو طلبا کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئی ہیں۔

مزید : صفحہ اول