جمعرات کو پیپلزپارٹی کے بڑے، زرداری کے سامنے پیش ہوں گے

جمعرات کو پیپلزپارٹی کے بڑے، زرداری کے سامنے پیش ہوں گے

تجزیہ:چودھری خادم حسین

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر زرداری بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران سندھ میں رونما ہونے والے حالات سے پریشان سے محسوس ہوتے ہیں کہ انہوں نے پارٹی کے سینئر راہنماؤں کو دوبئی بلا لیا ہے حالانکہ یہ تجویز کیا گیا تھا کہ یہ میٹنگ 5 دسمبر کو ہونے والے تیسرے مرحلے کے بعد بلائی جائے تاکہ انتخابات مکمل ہو جائیں اور اس پر سیر حاصل غور کر لیا جائے لیکن انہوں نے یہ تجویز نہیں مانی اور 26 نومبر کو پارٹی رہنماؤں کو دوبئی میں بلا لیا ہے۔ اسی روز متحدہ عرب امارات میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹی 20 سیریز بھی شروع ہو گی اسی بہانے یہ راہنما میچ بھی دیکھ لیں گے کہ ان کے پاس کہنے کے لئے تو کچھ نہیں ہے کیونکہ دکھ تو خود آصف علی زرداری کے ہم جماعت ذوالفقار مرزا نے دیا ہے اور سندھ والے ان کی سرگرمیوں اور ان سرگرمیوں کے پس منظر کا اندازہ کر کے کوئی تیاری نہیں کر سکے اور ان کے ہاتھوں بری طرح پٹ گئے ہیں۔ اب ذوالفقار مرزا اپنی جماعت بناتے یا کسی بڑی جماعت میں شامل ہونے کی بات کر رہے ہیں۔ ان کی طرف سے تحریک انصاف میں جانے کی مکمل تردید کر دی گئی اور اپنا رجحان فنکشنل لیگ کی طرف ظاہر کیا لیکن یہ بھی بڑی پارٹی نہیں ہے۔ اب ذرا غور کیا جائے تو پھر پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے بعد مسلم لیگ (ن) ہی بچتی ہے۔

آصف علی زرداری نے 5 دسمبر کے تیسرے مرحلے سے پہلے بلا لیا تو ٹھیک ہی ہے کہ 5 دسمبر کو تو کراچی کے چھ اضلاع میں الیکشن ہونا ہے اور لیاری میں پارٹی کی حیثیت ختم ہو جانے کے بعد کراچی میں پیپلزپارٹی کی پوزیشن کچھ بھی نظر نہیں آتی۔ ممکن ہے کہ شہر کے باہر کے اضلاع میں چند نشستیں مل جائیں ورنہ ایم کیو ایم بلا چیلنج ہے۔ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف نے کمر کسی ہے یا پھر سہراب گوٹھ جیسے علاقے میں اے۔ این۔ پی کو کچھ پذیرائی مل سکتی ہے۔ البتہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی مل کر ٹف ٹائم دے سکتی ہیں۔

یہ تو ضمنی طور پر بات کرنا پڑی اصل مسئلہ تو ذوالفقار مرزا نے پیدا کیا۔ وہ پیپلزپارٹی کو چیلنج کر کے بدین شہر مکمل طور پر جیتے اور چند نشستیں باہر سے بھی لیں۔ ان کی انتخابی مہم میں ان کی اہلیہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور ان کے بیٹوں نے کھل کر حصہ لیا، دوسرے معنوں میں پارٹی فیصلوں کی نفی ہی نہیں کی پارٹی سے مقابلہ کر کے اسے شرمندگی سے بھی دو چار کیا۔ یہ نظم و ضبط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اصول اور انصاف کی بات کرتے ہیں تو پھر ان کی اہلیہ اور صاحبزادے کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ پارٹی کی نشستیں واپس کر دیں۔ مستعفی ہو جائیں کہ پولٹیکل پارٹیز ایکٹ کی خلاف ورزی والا کیس تو طویل ہوگا۔ اگر ماں بیٹا مستعفی ہوں تو ایک مرتبہ پھر بدین میں ضمنی انتخابات کا میدان سجے گا اور موجودہ رجحان کے مطابق مرزا خاندان یہ نشستیں پھر سے جیت سکتا ہے اور اس طرح کسی قانونی اور اخلاقی قدغن کے بغیر ماں بیٹا بھی ذوالفقار مرزا کے ساتھ ہی اس کشتی میں سوار ہو سکتے ہیں جس میں ذوالفقار مرزا ہوں گے کہ یہ فرمانبردار ہیں۔ پیپلزپارٹی کو پھر سے مقابلے اور مرزا کو برتری جتانے کا موقع ملے گا۔

پاکستان کے سیاسی اور عوامی حلقوں سمیت پیپلزپارٹی میں اب یہ یقین پختہ ہو چکا کہ آصف علی زرداری پارٹی کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتار کر بلاول کے سپرد کر دیں تاکہ پارٹی کی تنظیم نو ہو ورنہ جو تصور آصف علی زرداری کا ہے وہ ٹھیک ہے۔ ان کو چاہئے کبوتر بلی والاکھیل نہ کھیلیں۔ آنکھیں بند کر لینے سے خطرہ نہیں ٹلے گا اس کے لئے عوامی جدوجہد اور مقبولیت کی ضرورت ہے جو اب شاید بلاول اور آصفہ کی ہمت سے مل جائے ۔

مزید : تجزیہ