برادرنسبتی کے قاتل5 سال سے آزاد گھوم رہے ہیں آج تک انصاف نہیں ملا

برادرنسبتی کے قاتل5 سال سے آزاد گھوم رہے ہیں آج تک انصاف نہیں ملا

لاہور(کامران مغل )دیرینہ دشمنی کی بنا ء پر باپ سمیت2بیٹوں نے میرے برادرنسبتی کو بھرے بازار میں سبزی خریدتے وقت فائرنگ کرکے قتل کردیا ۔انصاف کے لئے عدالتوں میں خوار ہوتے آج 5سال بیت گئے ، ابھی تک مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے ۔قتل میں ملوث ایک ملزم اعجاز عرف جج گزشتہ 5سال سے اشتہاری ہے جو مقدمہ واپس لینے کے لئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے لیکن پولیس اسے مبینہ طور پر ساز باز کی وجہ سے گرفتار نہیں کررہی ہے ۔ہمیشہ عدالت اسی جذبے کے ساتھ آتا ہوں کہ آج بھائی کے قاتلوں کو سزا دلواکرواپس جاؤں گا لیکن مایوس گھر لوٹنا پڑتاہے ۔پاکستان کی جانب سے "ایک دن ایک عدالت "کے سلسلے میں کئے جانے والے عدالتی سروے کے دوران باٹا پورہ ڈوگراں کلاں جھلو موڑ کا رہائشی یاسین بٹ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے بارے میں بتاتے ہوئے روپڑا، متاثرہ شخض نے بتایا کہ میرا برادر نسبتی رضوان عرف گوشی صبح10بجے کے قریب ڈوگراں کلاں میں مقامی دکان سے سبزی خرید رہا تھاکہ اسی دوران ہمارے مخالف فریقین نے اس پر حملہ کردیا ،ملزم اقبال عرف بالا نے اپنے 2بیٹیوں نواز عرف ناجا اور اعجاز عرف جج کے ساتھ مل کر اسے فائرنگ کرکے زخمی کردیا اور للکارے مارتے ہوئے موقع سے فرار ہوگئے ،مقامی افراد نے تشویشناک حالت میں اسے مقامی ہسپتال پہنچایا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکا۔بعدازاں پولیس نے میری مدعیت میں مذکورہ ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 256/10بجرم302درج کرکے 2ملزمان اقبال عرف بالا اور اس کے بیٹے نواز عرف جانا کو گرفتار کرلیا تھا۔متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ مذکورہ مقدمہ میں ملوث چوتھا ملزم اعجاز عرف جج گزشتہ 5سال سے اشتہاری ہے جس نے مبینہ طو رپر پولیس سے سازباز کررکھا ہے اور اسی وجہ سے پولیس اسے گرفتار نہیں کررہی ہے ،مذکورہ ملزم آئے روز مقدمہ واپس لینے کے لئے ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے جس کے بارے میں پولیس کو بھی آگاہ کیا جاتا ہے لیکن پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ مقدمہ مدعی یاسین بٹ نے نمائندہ "پاکستان"سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ عرصہ دراز سے عدالتوں میں انصاف کے حصول کے لئے پیش ہورہا ہے لیکن ابھی تک اسے کوئی امید کی کرن نظر نہیں آئی ہے کہ ملزمان کب پھانسی کے پھندے پر ہوں گے اور انہیں انصاف ملے گا ،مذکورہ مقدمہ کو عرصہ گزر چکا ہے لیکن عدالت میں ٹرائل ہی جاری ہے اور مقدمہ کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ہے ،میں ہر بار یہ ہی امید لئے عدالت آتا ہوں کہ آج اس مقدمہ کا فیصلہ ہوجائے گا اور ملزمان کو اپنے کئے کی سزا مل جائے گی لیکن میں ہر بار ہی عدالت سے بدقسمتی سے ناکام لوٹتا ہوں ،متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ قاتلوں کو سزا دلوائے بغیر سکھ کا سانس نہیں لوں گا چاہے ۔مذکورہ مقدمہ میں مقدمہ مدعی کے وکیل سید فرہاد علی شاہ نے بتایا کہ اس مقدمہ میں کافی حد تک ٹرائل مکمل ہوچکا ہے لیکن مخالف فریق کی جانب سے پیش ہونے والے وکلاء ہربار مقدمہ کو طول دینے کے لئے کوئی نہ کوئی ہربہ ڈھونڈ لیتے ہیں جس کے باعث مقدمہ اب تک التواء کا شکار ہے ۔اس کیس کی مزید سماعت 5دسمبر کو ہوگی ۔

ایک دن ایک عدالت

مزید : صفحہ آخر