وہ ملک جس کے بادشاہ نے لوگوں کے نہانے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا

وہ ملک جس کے بادشاہ نے لوگوں کے نہانے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا
وہ ملک جس کے بادشاہ نے لوگوں کے نہانے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سٹاک ہوم(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر کے ممالک موسمیاتی تبدیلی کو روکنے اورماحولیاتی آلودگی کے انسداد کے لیے حتی الوسع اقدامات کر رہے ہیں مگر سویڈن کے بادشاہ کارل گوسٹف نے اس مقصد کے لیے اپنے عوام سے ایک انوکھا مطالبہ کر دیا ہے۔ کارل گوسٹف نے عوام سے کہا ہے کہ ہمیں ماحولیاتی آلودگی سے بچنے کے لیے نہانے پر پابندی عائد کرنی ہو گی کیونکہ ملک بھر میں لوگوں کے روز نہانے سے بہت سی توانائی اور پانی کا ضیاع ہوتا ہے جو ماحول کو آلودہ کرتے ہیں۔69سالہ بادشاہ کا کہنا تھا کہ انہیں کچھ دن کے لیے بغیر نہائے رہنا پڑا جس سے انہیں احساس ہوا کہ نہانا ترک کرکے بہت سی توانائی اور پانی بچایا جا سکتا ہے۔کارل گوسٹف کی نہانے پر پابندی کی بات بظاہر مذاق لگتی ہے مگر وہ جس طرح آج کل ماحولیات کے تحفظ کے لیے کٹرپن کی حد تک متحرک ہیں اس سے لگتا ہے کہ وہ واقعی سویڈن میں نہانے پر پابندی لگا دیں گے۔سویڈن کے ایک اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’’مجھے یہ سوچ کر ہی شرم آتی ہے کہ آج تک میں بھی نہاتا رہا ہوں اور بہت سی توانائی اور پانی ضائع کرتا رہا ہوں مگر اب ہمیں نہانے پر پابندی لگانی ہوگی۔‘‘انہوں نے کہا کہ’’ بہت جلد ملک میں ایک ماحول دوست ہائبرڈ کار بھی متعارف کروائی جائے گی جس سے ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی ہو سکے گی۔‘‘ کارل گوسٹف خود ساری عمر کاروں کے بہت رسیا رہے ہیں اور نت نئے ماڈلز کی کاروں پر گھومتے تھے مگر اب ان کا کہنا ہے کہ وہ آج کل جو کار استعمال کر رہے ہیں وہ پٹرول کی بجائے بجلی پر جلتی ہے۔انہوں نے اپنے شہریوں کو بھی کہا کہ وہ بھی بجلی پر چلنے والی کاریں استعمال کریں تاکہ آلودگی پر زیادہ سے زیادہ قابو پایا جا سکے۔

مزید : صفحہ آخر