گلگت بلتستان میں اصلاحات کیلئے کمیٹی قائم کر دی، خطے میں ائیرپورٹ اور بجلی کے منصوبے لگائیں گے: وزیراعظم

گلگت بلتستان میں اصلاحات کیلئے کمیٹی قائم کر دی، خطے میں ائیرپورٹ اور بجلی ...
گلگت بلتستان میں اصلاحات کیلئے کمیٹی قائم کر دی، خطے میں ائیرپورٹ اور بجلی کے منصوبے لگائیں گے: وزیراعظم

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

گلگت بلتستان (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی خوشحالی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کیلئے اصلاحی کمیٹی بھی تشکیل دیدی ہے۔ عطاءآباد ٹنل مکمل ہو چکی، لواری ٹنل آئندہ سال مکمل ہو جائے گی،گلگت میں ایکسپریس ہائی وے، ائیرپورٹ اور بجلی گھر بنائیں گے، اس خطے میں خصوصی معاشی زون کے قیام سے یہ کراچی اور لاہور سے آگے نکل جائے گا، سڑکیں بننے سے فاصلے کم ہوتے ہیں اور دل ملتے ہیں، کاش کہ ماضی میں بھی اس خطے کو اتنی ہی اہمیت دی جاتی۔

تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان کے گورنر کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے میرغضنفر علی کو گورنر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ میر غضنفر کی اپنے علاقے کیلئے خدمات قابل فخر ہیں اور ہم سب گلگت بلتستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اصلاحات چاہتے ہیں اور اس مقصد کیلئے کمیٹی قائم کر دی ہے جس کے ذریعے یہاں کے عوام کے مسائل حل ہوں گے۔

انہوں نے خواہش کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان جمہوری انداز میں اپنے معاملات چلائے جبکہ عوام سے وعدہ بھی کیا کہ وہ گلگت بلتستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سکردو سے گلگت شاہراہ پر جلد کام شروع کیا جائے گا جس پر 50 ارب روپے لاگت آئے گی۔ گلگت کو خنجراب سے ملانے والی عطاءآباد ٹنل بنائی ہے جس پر 27 ارب روپے خرچ آیا ہے جبکہ لواری ٹنل منصوبہ آئندہ سال مکمل ہو جائے گا اور وفاقی حکومت یہاں کے اہم منصوبوں کی تکمیل کیلئے اپنا کردار ادا کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خنجراب، سوست اور گلگت والی سڑک حویلیاں تک جائے گی،گلگت سے سکردو تک ہائی وے بنایا جائے گا اور یہی سڑک اقتصادی راہداری سے بھی ملائی جائے گی۔ رائے کوٹ سے حویلیاں تک بھی بہترین سڑک بنائی جائے گی کیونکہ جب سڑکیں بنتی ہیں تو فاصلے کم ہوتے ہیں اور دل ملتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے انتخابات سے قبل بھی گلگت بلتستان کا دورہ کیا تھا اور آئندہ بھی وہ تسلسل کے ساتھ آتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطہ میں خصوصی معاشی زون بنیں گے تویہ کراچی اور لاہور سے آگے نکل جائے گا کیونکہ جتنا پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے اتنی خوشحالی بھی آئے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھاشا ڈیم، منگلا اور تربیلا سے بھی بڑا منصوبہ ہو گاجو اسی خطے میں بن رہا ہے، گلگت بلتستان کیلئے بجلی کا نیا منصوبہ لگنا چاہئے، گلگت بلتستان میں جیٹ سروس شروع ہونی چاہئے، ائیرپورٹ کی تعمیر سے متعلق سروے کراﺅں گا اور یقینا اس کی تعمیر کو ترجیح دی جائے گی۔ بونجی اور داسو ڈیم منصوبے پر بھی کام ہو رہا ہے اور اگر تمام منصوبے مکمل ہو جاتے ہیں تو بجلی کی پیداوار 15000 میگاواٹ تک جا سکتی ہے۔

مزید : قومی /Headlines