وہی ہوا جس کا ڈر تھا، روس نے شام میں اب تک کا سب سے بڑا قدم اٹھالیا، دنیا میں کھلبلی مچادی

وہی ہوا جس کا ڈر تھا، روس نے شام میں اب تک کا سب سے بڑا قدم اٹھالیا، دنیا میں ...
وہی ہوا جس کا ڈر تھا، روس نے شام میں اب تک کا سب سے بڑا قدم اٹھالیا، دنیا میں کھلبلی مچادی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) داعش کی طرف سے اپنا مسافر طیارہ مارگرانے کے بعد روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے شدت پسند تنظیم کے خلاف جنگ میں تیزی لانے کا اعلان کیا تھا جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے روس نے اب اپنی زمینی فوج میں شام میں داخل کر دی ہے۔ اس سے قبل روس صرف فضائی حملے کر رہا تھا۔ کویتی اخبار ”الراعی“ کی رپورٹ کے مطابق روسی فوجی دستے شام کے صدر بشار الاسد کے لیے اہمیت کے حامل شہروں اور دیگر مقامات سے داعش کے شدت پسندوں کوماربھگانے کی حکمت عملی پر لڑیں گے۔

رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ روس نے پچھلے ایک روز اور اس سے پہلے کے عرصے کے دوران دو ٹینک لینڈنگ کشتیاں اوراضافی طیارے شام میں بھیجے ہیں اور اس کے علاوہ تھوڑی تعداد میں بحری انفنٹری فورسز بھی تعینات کی گئی ہیں۔امریکی عہدیدارنے خبررساں ایجنسی رائٹرز سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ روسی فوج کی شام میں اس نقل وحرکت کے ارادے ابھی تک غیر واضح ہیں۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ان روسی فوجیوں کی توجہ شامی صدر بشار الاسد کے مضبوط گڑھ ساحلی شہر الاذقیہ کے قریب ایک نئے فضائی اڈے کی تعمیر پر ہے۔

مزید جانئے: طالبان داعش سے زیادہ طاقتور ہیں ،ملاعمر کی وفات کے بعد تحریک کمزور ضرور ہوئی‘ مگر ثابت قدم ہے : ملا احمد متوکل

شام میں جاری سیاسی اور فوجی پیش رفت سے واقف لبنانی ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز شام کے وقت روسی فوجیوں نے شام میں جاری آپریشنز میں حصہ لیا مگر آپریشنز میں حصہ لینے والے روسی فوجیوں کی تعداد ابھی تک کم ہی ہے۔حالانکہ شام میں روس کی افواج کافی بڑی تعداد میں موجود ہیں مگر تاحال انہوں نے عملاًجنگ میں حصہ نہیں لیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روسی فوجی شامی فوجیوں کے ساتھ مل کر لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں مگر ان کا کردار فی الحال ایک مشیر کی حیثیت کا ہے لیکن مستقبل قریب میں ان روسی فوجیوں کے بڑی تعداد میں جنگ میں حصہ لینے کا امکان ہے۔

مزید : بین الاقوامی