وہ ایک قسم کے مرد جنہیں انٹرنیٹ پر فحش مواد سے ہر قیمت پر دور رہنا چاہیے، سائنسدانوں نے انتہائی حیران کن انکشاف کردیا، خبردار کردیا

وہ ایک قسم کے مرد جنہیں انٹرنیٹ پر فحش مواد سے ہر قیمت پر دور رہنا چاہیے، ...

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) اس میں کوئی شک نہیں کہ انٹرنیٹ پر موجود فحش مواد سب کے لئے نقصان دہ ہے مگر کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین نے تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ فحش مواد کے رسیا نوجوانوں کے لئے انٹرنیٹ پر دستیاب وافر مواد سب سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس کی وجہ سے وہ اس شرمناک لت سے کبھی بھی باہر نہیں آ پاتے ۔

ماہرین نے ایک تحقیقاتی سروے کے ذریعے بتایا ہے کہ آج کے دور میں ہر 25میں سے ایک نوجوان شہوت پرستی کی لت میں مبتلا ہو چکا ہے اور اس کا سب سے بڑا سبب انٹرنیٹ پر وافر مقدار میں موجود فحش ویڈیوز اور تصاویر ہیں۔ ماہرین نے تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ یہ فحش مواد لڑکوں کی نسبت لڑکیوں پر زیادہ اثرانداز ہوتا ہے اور ان میں اس لت کے عادی ہونے کی شرح بہت زیادہ ہے۔

مزید جانئے: ایک آدمی اور 298 لڑکیاں۔۔۔ جیل بھیج دیا گیا۔۔۔

ماہرین نے کچھ شہوت پرستی کی لت میں مبتلا اور کچھ صحت مند افراد پر تجربات کیے اور انہیں فحش تصاویر دکھائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب اس لت کے عادی افراد کو یہ تصاویر دکھائی گئیں تو ان کے دماغ کے تین حصے بہت زیادہ متحرک ہو گئے جس پر ان کا خود پر اختیار نہ رہا اور ان میں مزید تصاویر دیکھنے کی خواہش بیدار ہو گئی۔ ماہرین نے اس کو کافی سے تشبیہہ دی۔ انہوں نے کہا کہ جیسے لوگ ایک کپ کافی سے شروع ہوتے ہیں اور پھر عادی ہونے پر ایک کپ ان کی طلب پوری نہیں کرتا اور مزید کی جستجو کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جو لوگ فحش مواد کے عادی ہو جائیں وہ زیادہ سے زیادہ مواد دیکھنے کی خواہش کرتے ہیں اور ان کی یہ خواہش وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر وون کا کہنا تھا کہ شہوت پسندی کی لت میں پڑے افرادنے جب فحش مواد دیکھا تو ان کے دماغ کے وہی تین حصے متحرک ہوئے جو منشیات کے عادی افراد کے نشہ آور چیز کو دیکھ کر ہوتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فحش مواد دیکھنے کی عادت بھی نشے کی لت کی طرح ہوتی ہے اور اسے چھوڑنا بھی اسی قدر مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آن لائن فحش مواد کے حوالے سے تحقیق کی ہے۔ ان عادی افراد میں ابتدائی طور پر اس لت میں مبتلا ہونے کا کیا محرک تھا اس کے متعلق کچھ واضح نہیں۔ مگر تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آن لائن فحش مواد کا بڑی مقدار میں مہیا ہونے کی وجہ سے یہ لوگ اس لت میں مزید مبتلا ہوتے جاتے ہیں اور اس سے نجات حاصل نہیں کر پاتے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...