امریکی صدارتی امیدوار کا اسلام دشمن مطالبہ، نوجوان مسلم لڑکی نے جواب میں ایک ایسی بات کہہ دی کہ پوری دنیا عش عش کر اٹھی

امریکی صدارتی امیدوار کا اسلام دشمن مطالبہ، نوجوان مسلم لڑکی نے جواب میں ایک ...
امریکی صدارتی امیدوار کا اسلام دشمن مطالبہ، نوجوان مسلم لڑکی نے جواب میں ایک ایسی بات کہہ دی کہ پوری دنیا عش عش کر اٹھی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں مسلمانوں کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی مسلمانوں کی نگرانی مزید سخت کی جانی چاہیے اور وہ اس مقصد کے لیے حکومت میں آ کر ایسا اقدام کریں گے جو اس سے پہلے کسی نے نہیں کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ”شاید کچھ لوگ میری اس بات پر پریشان ہوں لیکن میرے خیال میں امریکی مسلمانوں کے لیے الگ شناختی کارڈ بنائے جانے چاہئیں اور انہیں پابند کیا جانا چاہیے کہ وہ ہر وقت کارڈ گلے میں پہنے رکھیں، تاکہ ان کی موثر انداز میں نگرانی کی جا سکے۔“ ڈونلڈ ٹرمپ کی اس بات کے جواب میں کیلیفورنیا کے شہر کورونا کی 22سالہ مسلمان لڑکی مروا بالکر نے اپنے لیے ایک کارڈ بنانے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں ان کے بیان کا شاندار جواب دیا ہے۔

مروا نے خط میں لکھا ہے کہ ”میرا نام مروا ہے اور میں ایک مسلمان ہوں۔ میں نے سنا ہے کہ آپ ہمارے گلے میں شناختی کارڈ پہنانا چاہتے ہیں۔لہٰذا میں نے اپنے لیے ایک کارڈ منتخب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔میرے چہرے مہرے سے کوئی شخص آسانی سے نہیں پہچان سکتا کہ میں مسلمان ہوں، اس لیے میں اپنا یہ کارڈ فخر کے ساتھ گلے میں پہنوں گی تاکہ لوگ پہچان سکیں کہ میں مسلمان ہوں۔میں نے اپنے کارڈ کے لیے ”امن“ کی علامت منتخب کی ہے کیونکہ یہ میرے مذہب اسلام کی نمائندگی کرتی ہے۔ وہی اسلام جس نے مجھے ناانصافی کی مخالفت کرنا اور اتحادویگانگت سے رہنا سکھایا ہے۔ وہی اسلام، جس نے مجھے سکھایا ہے کہ ایک انسان کو قتل کرنا پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔“

مزید جانئے: بھارت کا بیلسٹک میزائل کو ہوا میں ہی تباہ کرنے والے انٹر سیپٹر میزائل کے تجربے کا دعویٰ

مروا مزید لکھتی ہے کہ ”میں نے سنا ہے کہ آپ ہر وقت مسلمانوں کو ٹریک کرنا چاہتے ہیں۔ بہت خوب! آپ اس مقصد کے لیے میرے ساتھ میری منعقد کی ہوئی کینسر بارے آگہی واکس میں شامل ہو سکتے ہیں جو مقامی مڈل سکول میں ہوتی ہیں۔ یا پھر آپ میری نوکری کی جگہ پر میرا تعاقب کر سکتے ہیں جہاں میں لوگوں میں خوشیاں بانٹنے کے فرائض سرانجام دیتی ہوں۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح میری مقامی مسجد بے گھر افراد کے لیے کھانے کا اہتمام کرتی ہے اور بین المذاہب تقاریب اور ڈنرز کا اہتمام کرتی ہے جن میں کسی بھی مذہب کے لوگوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔شاید آپ یہ سب دیکھنے کے بعد محض میرے مسلمان ہونے کی وجہ سے مجھے کسی بھی امریکی سے کمتر خیال نہیں کریں گے۔ شاید تب آپ سمجھیں گے کہ میں آپ سے کم امریکی نہیں ہوں، اگر آپ میرے نقش قدم پر چلیں گے تو شاید آپ سمجھ پائیں گے کہ میں آپ سے کم درجے کی انسان نہیں ہوں۔آپ پر سلامتی ہو۔“

مروا نے اپنا خط فیس بک پر پوسٹ کیا ہے جہاں اسے اب تک 92ہزار لوگ لائیک اور 80ہزار افراد شیئر کر چکے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی