ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو بینک ڈیفالٹرز کی گرفتاریوں سے تاحکم ثانی روک دیا

ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو بینک ڈیفالٹرز کی گرفتاریوں سے تاحکم ثانی روک دیا

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہورہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو بینک ڈیفالٹرز کی گرفتاریوں سے تاحکم ثانی روک دیا، عدالت نے اٹارنی جنرل اور ڈائریکٹر ایف آئی اے کونوٹس جاری کرتے ہوئے 9 دسمبر کو جواب طلب کرلیا۔ جسٹس شمس محمود مرزا نے نصیراحمد سمیت دیگرز کی جانب سے ایف آئی اے کے بنک ڈیفالٹرز کی گرفتاریوں کے خلاف دائر کی گئی درخواست پرسماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے شاہد اکرام صدیقی ایڈووکیٹ نے موقف اختیارکیا کہ مختلف بنک اپنے قرضوں کی وصولی کے لئے ایف آئی اے کے ذریعے نادہندگان کی گرفتاریاں کروارہے ہیں۔ وکیل کا کہناتھا کہ جب تک بینکنگ کورٹ کسی شخص یا ادارہ کو مقروض ہونے کے حوالہ سے ڈگری جاری نہ کرے اس وقت تک اس شخص یا ادارہ کو نادہندہ قرارنہیں دیا جاسکتا، ان کا کہناتھا کہ بنک اپنے قرضوں کی وصولی کے لئے بینکنگ ریکوری ایکٹ 2001 کے سیکشن 20 کے تحت صرف بینکنگ کورٹس سے ہی رجوع کرسکتے ہیں کسی وفاقی یا صوبائی حکومتی ادارے یا پولیس کے پاس بینک نادہندگان کے خلاف کارروائی کا کوئی قانونی اختیارنہیں ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ ایف آئی اے کو بینک ڈیفالٹرز کے خلاف مقدمات درج کرنے اورانہیں گرفتارکرنے سے روکا جائے۔عدالت نے ایف آئی اے کو بینک ڈیفالٹرز کی گرفتاریوں سے تاحکم ثانی روکتے ہوئے اٹارنی جنرل اور ڈائریکٹر ایف آئی اے سے 9 دسمبر تک جواب طلب کرلیاہے۔

مزید : لاہور

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...