ظالمانہ پھانسیاں ،بنگلہ دیش کی وزیراعظم اپنے باپ ہی سے بھی غداری کرگئیں

ظالمانہ پھانسیاں ،بنگلہ دیش کی وزیراعظم اپنے باپ ہی سے بھی غداری کرگئیں

لاہور(سعید چودھری )بنگلہ دیش میں نام نہاد عالمی جنگی جرائم کے ٹربیونل قائم کرکے پاکستان سے محبت کے "جرم "کی پاداش میں سیاستدانوں کو پھانسیاں دینے کا سلسلہ شروع کرکے بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے اپنے والد بنگلہ بندھوشیخ مجیب الرحمن کی روح کو بھی شرمندہ کردیا ۔حسینہ واجد نے اپنے والد کے وعدوں سے رو گردانی کرکے یقینی طور پر ان کی روح سے غداری کی ہے ۔حسینہ واجد وہ تمام وعدے توڑنے پر تلی ہوئی ہیں جو ان کے والد نے زبانی اورتحریری طور پر کئے تھے ۔دہلی میں5اپریل سے 9اپریل 1974ءتک پاکستان ،بنگلہ دیش اور بھارت کے وزراءخارجہ کے درمیان جاری ہونے والے مذاکرات کے بعد جو سہ فریقی معاہدہ طے پایا تھا اس میں شیخ مجیب الرحمن کی حکومت کے وزیرخارجہ کمال حسین نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ انسانی ہمدردی کے تحت بنگلہ دیش کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 1971ءکے واقعات کی بنا پر کسی کے خلاف بھی مقدمہ نہیں چلایا جائے گا ۔اس سے قبل بنگلہ دیش کی حکومت نے 195پاکستانیوں کو جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال رکھا تھا ۔سہ فریقی معاہدہ کے نتیجہ میں بنگلہ دیش کی حکومت نے ان پاکستانیوں کو رہا کرکے دیگر قیدیوں کے ہمراہ واپس بھیج دیا تھا ۔اس معاہدہ کے پیرا گراف نمبر14میں بنگلہ دیش کے وزیراعظم شیخ مجیب الرحمن کے اس اعلان کو بھی نوٹ کیا گیا ہے جس میں انہوں نے اپنے عوام سے اپیل کی تھی کہ 1971ءمیں روا رکھی جانے والی چیرہ دستیوں اور تباہی کو بھلا کر نئے سرے سے سفر کا آغاز کیا جائے ۔حسینہ واجد کے والد نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ بنگلہ دیش کے عوام جانتے ہیں کہ معاف کیسے کیا جاتا ہے ،دوسری طرف اس معاہدہ کے پیرا گراف نمبر15میں پاکستانی وزیراعظم کی اپیل کا بھی ذکرہے جس میں انہوں نے بنگلہ دیش سے اپیل کی تھی کہ ماضی کو بھلا کر غلطیوں کو معاف کردیا جائے ،اس کے جواب میں بنگلہ دیشی وزیرخارجہ نے اپنی حکومت کے اس فیصلے سے پاکستان اور بھارت کو آگاہ کیا کہ 1971ءکے واقعات کی بنا پر کسی کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔اس معاہدہ میں وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی اس خواہش کا بھی ذکر موجود ہے کہ وہ شیخ مجیب الرحمن کی دعوت پر بنگلہ دیش کا دورہ کرنے کے لئے تیار ہیں ۔حسینہ واجد جن سیاسی راہنماﺅں کو پھانسیاں دے رہی ہیں ،وہ کئی مرتبہ وہاں کی پارلیمنٹ کے ممبر حتیٰ کہ وزیر تک رہ چکے ہیں جس کا مطلب ہے کہ بنگلہ دیش کے عوام نے انہیں کبھی اپنا دشمن نہیں سمجھا بلکہ انہیں منتخب کرکے اپنا لیڈر تسلیم کیا ۔حسینہ واجد نے اپنے والد کے وعدوں سے رو گردانی کرکے یقینی طور پر ان کی روح سے غداری کی ہے ۔ 2010ءمیں ایک مقامی قانون کے ذریعے جنگی جرائم کے ٹربیونل قائم کئے گئے جنہیں عالمی جنگی جرائم کے ٹربیونل کا نام دیا گیا ۔یہ ٹربیونل شہادتوں کے بغیر اور انصاف کے عالمی تقاضوں کے برعکس اندھا دھند سزائے موت کے حکم سنا رہے ہیں لیکن اس پر پاکستانی حکومت کی طرح عالمی برادری کی طرف سے بھی بھرپور آواز نہیں اٹھائی جارہی ۔پاکستان اگر تھوڑی بہت آواز اٹھاتا بھی ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت اس پر سیخ پا ہوکر سفارتی سطح پر احتجاج شروع کردیتی ہے ۔عدم شہادتوں کی بناپر پھانسی دینے کی ایک بڑی مثال 21اور22نومبر کی درمیانی شب پھانسی چڑھ جانے والے بنگلہ دیشن نیشنل پارٹی کے راہنما صلاح الدین قادر چودھری کا کیس ہے ۔پنجاب یونیورسٹی کے ریکارڈ کے مطابق صلاح الدین قادر چودھری نے اگست 1971ءمیں سیاسیات کے مضمون میں بی اے کی ڈگری حاصل کی جبکہ صلاح الدین قادر چودھری پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ تمام 4سے 13اپریل 1971ءکے واقعات سے متعلق ہیں ۔ایسی ٹھوس زبانی ، واقعاتی اور دستاویزی شہادتیں موجود ہیں کہ صلاح الدین قادر چودھری ان دنوں لاہور میں زیر تعلیم تھے ۔انہوں نے بنگلہ دیش واپسی کے بعد 1979ءمیں بنگلہ دیش مسلم لیگ کے ٹکٹ پر وہاں الیکشن بھی لڑا تھا اور ان پرجنگی جرائم میں ملوث ہونے کا کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا تھا ۔

مزید : لاہور

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...