Free Masons کے بارے میں آپ نے اکثر سنا ہوگا، لیکن یہ لوگ دراصل کون ہیں؟ پہلی مرتبہ بدنام ترین گروہ میں شامل شخصیات کے نام سامنے آگئے

Free Masons کے بارے میں آپ نے اکثر سنا ہوگا، لیکن یہ لوگ دراصل کون ہیں؟ پہلی مرتبہ ...

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) فری میسن (freemason) ایک پر اسرار بین الاقوامی تنظیم ہے جس کے متعلق مسلم دنیا میں مشہور ہے کہ اس کا مقصد دنیا میں دجال اور دجالی ریاست کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اس میں 20 برس سے بڑی عمر کے لوگوں کو ممبر بنایا جاتا ہے۔ بظاہر یہ سوشل رابطوں ،فلاحی کاموں، ہسپتالوں، خیراتی اداروں، فلاحی اداروں اور یتیموں کے تعلیمی اداروں کی ایک تنظیم ہے اورخیرات کرنا اس کے ممبران کے فرائض میں شامل ہے۔اس تنظیم کے پاس لاکھوں یا اربوں نہیں بلکہ کھربوں ڈالرز کے فنڈ ہیں۔ اس کے پیروکار دنیا کے تمام ممالک میں موجود ہیں۔صرف امریکہ میں اس کے اراکین کی تعداد 80 لاکھ سے زیادہ ہے۔ اس کے اراکین کی طاقت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ امریکہ کے سابق صدر جارج واشنگٹن اور گوئٹے اس کے سربراہان میں شامل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سابق برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل، آسکر وائلڈ اور روڈیارڈ کپلنگ جیسے مشہور انسانوں نے بھی اس کی سربراہی کی۔ یہ تنظیم1771ءمیں برطانیہ میں قائم ہوئی تھی۔ اس کا ہیڈ آفس اب بھی برطانیہ میں ہی ہے۔ اس تنظیم کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا مقصد خیراتی اور فلاحی اداروں کی آڑ میں مسلم دشمنی کرناہے۔

مزید جانئے: کینیڈین جوڑے نے اپنی شادی کی تقریب منسوخ کردی، وجہ ایسی کہ جان کر آپ بھی داد دینے پر مجبور ہوجائیں گے

ڈیلی ٹیلیگراف کی رپورٹ کے مطابق اس تنظیم کا 1733ءسے 1923ءتک کا ممبرشپ کا ریکارڈ ڈیجیٹل شکل میں منتقل کرکے فیملی ہسٹری ویب سائٹ Ancestryپر شائع کر دیا گیا ہے۔ ریکارڈ میں اس کے اراکین کے نام، پیشے، رہائش و دیگر تفصیلات شامل ہیں۔ اس ریکارڈ کے مطابق ونسٹن چرچل نے یہ تنظیم 1901ءمیں 26سال کی عمر میں جوائن کی۔ آسکر وائلد نے 1875ءمیں محض 20سال کی عمر میں اس تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی، اس وقت وہ کیمبرج یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔رپورٹ کے مطابق اس فہرست میں 5500پولیس افسران، 170جج، 169اراکین برطانوی پارلیمنٹ، 16بشپ(عیسائی مذہبی پیشوا) اور ایک بھارتی شہزادہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ انجینئرز، تاجر، کلرک، کسان و دیگر شعبہ ہائے زندگی کے نمایاں افراد اس تنظیم کا حصہ رہ چکے ہیں۔ روڈیارڈ کپلنگ نے 1886ءمیں اس میں شمولیت اختیار کی، تب ہندوستان برطانیہ کے زیرتسلط تھا اورکپلنگ کو اس تنظیم کی لاہور برانچ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...