دیار غیر میں قید پاکستانیوں کی آواز کون سنے؟

دیار غیر میں قید پاکستانیوں کی آواز کون سنے؟
دیار غیر میں قید پاکستانیوں کی آواز کون سنے؟

  


بے شمار دوست ایسے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ جی ہاں دوستو بے شمار پاکستانی دوست حصول روزگار کے سلسلے میں دیار غیر میں بھی مقیم ہیں۔

ہمارے پاکستانی بھائی دنیا میں ہر جگہ ہی موجود ہیں۔ جی ہاں یو اے ای، سعودی عرب، برطانیہ، امریکہ، جی ہاں شاید ہی دنیا کا کوئی کونا ایسا ہو جہاں پاکستانی آباد نہ ہوں جی ہاں آپ کہیں بھی چلے جائیں آپ کو پاکستانی ضرور نظر آئیں گے۔ جی ہاں دوستو۔ لیکن یہ بھی بتلاتے چلیں کہ ہمارے پاکستانی بھائی دیار غیر میں حصول رزق کی خاطر موجود ہیں انہیں بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جی ہاں سیانے کہتے ہیں کہ پردیس کاٹنا آسان نہیں۔ یقیناًًپردیس میں رہنے والے پردیسیوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ اور بے شمار شکایات بھی ہیں۔ اور بہت سے مسائل بھی درپیش۔ جی ہاں دوستو ہم آپ کو بتلاتے چلیں کہ بے شمار پاکستانی دوست جو ہیں وہ غیرممالک کی جیلوں میں بھی قید ہیں۔ جی ہاں دوستوہمیں بھی ہمارے ایک مہربان اور پیارے پاکستانی بھائی کا پیغام موصول ہوا جس میں انہوں نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ وہ میرے محلے دار ہیں مجھ سے مل بھی چکے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ بھی زیادتی ہوئی کسی نے انہیں بھی دھوکے سے پکڑوایا خیر ہمارے پاکستانی دوست جو کہ سعودی عرب جیل میں قید ہیں اور سعودی جیل سے ہی بذریعہ سوشل میڈیا اپنی آواز میں پیغام ہم تک پہنچا دیا۔ جی ہاں دوستو دیار غیر میں سعودی جیلوں میں قید بے شمار پاکستانی قیدیوں کی ترجمانی کرتے ہوئے ہمیں بھیجے گئے پیغام میں بتایا کہ بے شمار دوست جو ہیں وہ بے گناہ قید ہیں اور بہت سے تو ایسے ہیں کہ جن کی سزائیں بھی مکمل ہو چکی ہیں لیکن وہ تاحال قید میں ہیں انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اور رہائی نہ ملنے کی وجہ کے انکے کاغذات تاحال نامکمل ہیں جسکی بڑی وجہ جو ہے وہ وہ ایک یہ بھی ہے کہ پاکستانی سفارت خانے کاعملہ پاکستانی قیدیوں سے کسی قسم کا کو ئی رابطہ روا نہیں رکھتا۔ جبکہ دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کا انکے ملک کے سفارتی عملے کی طرف سے بھرپور خیال رکھا جاتا ہے۔ سفارتخانے کی طرف سے باقاعدگی سے خرچا بھی دیا جاتا ہے اور ان کی خوراک و دیگر سہولتوں کا بھی خیال رکھا جاتا ہے جبکہ پاکستانی سفارتی عملے کی طرف سے کوئی خاطر داری نہیں ہوتی انہیں ان کے حال پہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ہمیں ملنے والے پاکستانی قیدی کے پیغام میں بیشمار گلے شکوے پاکستانی سفارت خانے کے عملے اور حکومت سے کئے گئے ہیں۔ جی ہاں پاکستانی قیدیوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت پاکستان جو ہے وہ ان کے مسائل کو نہ صرف سنے بلکہ ان کے حل کے لئے مناسب اقدامات بھی کرے۔ تاہم ہمارے پاکستانی قیدی بھائی جو طویل عرصہ سے بے گناہ نہ صرف سعودی قید میں بلکہ دیگر ممالک میں بھی ہیں ان کے حالات پر رحم کیا جائے اور ان کی رہائی کا بندوبست کیاجائے۔ تو دوستو یہ تو تھیں چند شکایات ہمارے ان دوستوں کی جو دیار غیر میں مقید ہیں۔ بہر حال اب اخلاقی طور سے بھی اور انسانی ہمدردی کے ناطے بھی ہمارا فرض ہے کہ دیار غیر میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لیے بھرپور اقدامات اٹھائیں۔تاہم دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں کے اہلکاروں کو چاہیے کہ دنیا بھر میں پاکستانیوں کے مسائل اور ان کی پریشانیوں کو سمجھے اور جہاں تک ہوسکے ان کی پریشانیوں کو حل کرنے کی کوشش کرے۔بہر حال اب حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ از خود دنیا بھر کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کے کوائف حاصل کرے اور پاکستانیوں کی رہائی کے لئے بھی عالمی سطح پر آواز اٹھائے تاکہ دیار غیر میں قید پاکستانی بھائی بھی نہ صرف آزادی کا سورج دیکھ سکیں بلکہ حکومت کی مضبوطی و ترقی کے لئے بھی دعا کرسکیں اجازت چاہتے ہیں دوستو ملتے ہیں حلد آپ سے ایک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا۔

مزید : کالم