جنرل راحیل شریف: پاک فوج کا جمہوریت دوست چہرہ

جنرل راحیل شریف: پاک فوج کا جمہوریت دوست چہرہ
 جنرل راحیل شریف: پاک فوج کا جمہوریت دوست چہرہ

  


جنرل راحیل شریف اپنی شاندار اننگ کھیلنے کے بعد رخصت ہو رہے ہیں تو سوچ رہا ہوں کہ اس شخص نے کس قدر مشکل اننگ کھیلی ہے۔ شیخ سعدیؒ نے کہا تھا۔مومن کی سب سے بڑی جنگ ان ترغیبات سے ہوتی ہے، جو قدم قدم پر اسے بھٹکانے کے لئے موجود ہوتی ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے ایک جنگ تو دہشت گردوں اور ملک دشمنوں کے خلاف لڑی اور دوسری جنگ انہوں نے ان ترغیبات کے خلاف لڑی ہوگی جو قدم قدم پر ان کے سامنے آتی رہیں۔ یا اُن کے بعض نام نہاد مد احین ہیر پھیر کر ان کے سامنے لاتے رہے کبھی واقعات اور کبھی ان آوازوں کی صورت جو یہ کہتی تھیں کہ پنڈی والے لسی پی کر یوں سو رہے ہیں، اقتدار پر قبضہ کرکے جمہوریت کو چلتا کیوں نہیں کرتے۔ نوازشریف سے جان کیوں نہیں چھڑاتے ۔اس سے بڑی ترغیب اور کیا تھی جب دھرنے کے دنوں میں ٹی وی چینلز نے یہ بریکنگ نیوز چلا دی کہ جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم نوازشریف کو مستعفی ہونے کا پیغام بھجوا دیا ہے۔ لیکن اگلے ہی لمحے اس خبر کی تردید ہوگئی اس وقت سب کچھ تیار تھا، فضا بھی اور حالات بھی ، مگر سب نے دیکھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ جمہوریت ڈی ریل کرنے اور انگلی اٹھانے کے الزامات لگتے رہے، مگر فوج نے جمہوریت پر شب خون نہیں مارا، اس کے بعد بھی تقریباً ہر روز ہی ایسے حالات پیدا ہوتے رہے، جب یہ خدشات پیدا ہوئے کہ ملک میں کسی وقت بھی مارشل لاء لگ سکتا ہے۔ جنرل راحیل شریف کو کبھی بینرز لگا کر اور کبھی وال چاکنگ کے ذریعے بھی قوم کو جمہوریت سے ’’نجات‘‘ دلانے کی ترغیب دی جاتی رہی، مگر وہ سچے جنگجو جرنیل ثابت ہوئے۔ انہوں نے ترغیبات کو بھی شکست دی اور دہشت گردوں کو بھی پچھاڑا۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ جب وہ اپنی آخری ملاقاتوں کے بعد سبکدوشی کی طرف بڑھ رہے ہیں تو وہ لوگ ان کی تعریف میں رطب اللسان ہیں جو اس سے پہلے اُن کے بارے میں زیادہ فراخ دِل نہیں تھے۔

مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ جنرل راحیل شریف نے پاکستان میں کئی دہائیوں سے چلے موجود نظریہ ء ضرورت کو دفن کر دیا ہے۔ اس نظریہء ضرورت کی موت واقع ہو گئی ہے، جو جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے کام آتا تھا اور کبھی آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ ایک توسیع یافتہ آرمی چیف اس اخلاقی طاقت سے محروم ہو جاتا ہے، جو انسان کا سب سے بڑا وصف ہوتا ہے۔ اس کے فیصلوں میں وہ جرأت اور اعتماد نہیں ہوتا جو آرمی چیف جیسے اہم ترین عہدے کا تقاضا ہے۔پھر فیصلے مصلحت کے تحت ہوتے ہیں اور جرنیل اگر مصلحت کے تابع ہو جائے تو جنرل کیانی جیسا دور سامنے آتا ہے۔ جب دہشت گردوں کے خلاف کوئی بڑی جنگ نہ ہوئی اور ملک بدامنی کا شکارہوکر رہ گیا۔ جنرل راحیل شریف نے تقریباً گیارہ ماہ پہلے دوٹوک اس فیصلے کا اعلان کر دیا تھا کہ وہ اپنے مقررہ وقت پر ریٹائر ہو جائیں گے۔ سیاستدانوں کے تجربے میں چونکہ ایسے جرنیل آتے رہے ہیں، جنہوں نے 90دن کے لئے اقتدار سنبھالا اور گیارہ سال حکومت کرتے رہے، اس لئے انہیں اس امر پر یقین کرنے میں تامل تھا کہ جنرل راحیل شریف واقعی اپنی مدت کی تکمیل پر ریٹائر ہو جائیں گے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ عوام میں جنرل راحیل شریف کی بے پناہ مقبولیت تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر وہ اقتدار کے متلاشی جرنیلوں کی طرح سوچتے اور انتشار زدہ کمزور لمحوں میں اقتدار پر قبضہ کر لیتے تو ملک کے طول و عرض میں مٹھائیاں بانٹی جاتیں لیکن یہ اپنے حلف کی پیروی کرنے والا شخص ہے، جس نے فوج کو عزت و تکریم کے لحاظ سے بامِ عروج پر پہنچا دیا جنرل راحیل شریف نے فوج تو ایک طرف اس کے ایک ذیلی ادارے رینجرز کو اس قدر اعتماد اور عزت و تکریم سے نوازا کہ پورے ملک کے عوام ہر مشکل وقت میں یہ خواہش کرتے ہیں کہ ان کے علاقے میں رینجرز کو تعینات کیا جائے۔کراچی جیسے کئی دہائیوں سے انتشار زدہ شہر کو جنرل راحیل کی سپورٹ کے باعث رینجرز نے ایک پر امن شہر کی راہ پر ڈال دیا۔ یہ وہ سب کچھ تھا، جس نے عوام کی نظر میں جنرل راحیل شریف کو نجات دہندہ بنا دیا اور یہی وہ مقبولیت تھی جس کی وجہ سے جمہوریت کے وہ چیمپئن جو اسے صرف اپنی ذاتی خواہشات کے تحت چلانا چاہتے ہیں، اس خوف میں مبتلا تھے کہ کہیں جنرل راحیل شریف اقتدار پر قبضہ ہی نہ کر لیں۔ وہ اس بات کو بھول جاتے تھے کہ جس آدمی نے اتنی جدوجہد اور ثابت قدمی سے خود کو قوم کی نظر میں سرخرو کیا ہو، وہ بھلا ان جرنیلوں کی صف میں کیوں شامل ہونا چاہے گا، جنہوں نے خواہش اقتدار میں جمہوریت پر شب خون مارااور بعد ازاں تاریخ میں ایک معتوب کردار کے طورپر زندہ ہیں۔

جنرل راحیل شریف کو تاریخ میں زندہ رکھنے کے لئے تو ایک ضرب عضب ہی کافی ہے۔ آج دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا چرچا ہے۔ ایک ایسے علاقے میں جہاں امریکہ بھی دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں ناکام رہا، پاک فوج نے اپنی بے مثال جرأت و بہادری اور پیشہ وارانہ مہارت سے دہشت گردوں کا قلع قمع کر دیا۔ جنرل راحیل شریف کا یہ کارنامہ بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے دہشت گردوں کے حوالے سے بھی نظریۂ ضرورت کو پورے اعتماد کے ساتھ دفن کیا۔ اچھے اور برے طالبان یا دہشت گردوں کی تفریق ختم کر دی۔ سب کے خلاف ایک بڑا آپریشن کیا اور کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر اسے جاری رکھا۔ اس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔ شمال و جنوبی وزیرستان میں مکمل امن قائم ہو چکا ہے۔ دہشت گردی کے تمام اڈے اور فیکٹریاں ختم کر دی گئی ہیں پاک افغان سرحد کو سرزمینِ بے آئین نہیں رہنے دیا گیا۔ طورخم بارڈر پر بھی عالمی قوانین نافذ کر دیئے گئے ہیں اور بلا روک ٹوک نقل و حرکت نا ممکن بنا دی گئی ہے۔ جنرل راحیل شریف کے دل میں البتہ یہ حسرت ضرور رہ گئی ہو گی کہ نیشنل ایکشن پلان پر پورے ملک میں عملدرآمد کیا جاتا۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب کے ان علاقوں میں جن کے حوالے سے یہ شواہد موجود ہیں کہ ضرب عضب کے بعد دہشت گرد پناہ کی تلاش میں وہاں چھپے ہوئے ہیں، ایک بڑا آپریشن ضروری تھا اور آج بھی ہے، نئے سپہ سالار کی قیادت میں فوج اپنا دہشت گردی کے خلاف کردار جاری رکھے گی تاہم جنرل راحیل شریف کے دور میں نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ہو جاتا تو آج دہشت گردی کی جڑیں کٹ چکی ہوتیں۔ اس ایشو پر بھی بعض حلقوں کی طرف سے جنرل راحیل شریف کو اُکسانے کی بہتیری کوشش کی گئی۔ اُنہیں اپنے طور پر آپریشن لانچ کرنے کی ترغیب بھی دی جاتی رہی لیکن انہوں نے آئین کے تحت اپنے کردار کو محدود رکھا۔ حکومت کی طرف سے اس میں کیا مصلحتیں ہیں، اس سے قطع نظر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جنرل راحیل شریف نے بطور سپہ سالار اپنی تین سالہ مدت میں مسائل بڑھانے کی بجائے مسائل کو حل کرنے کی راہ اختیار کی۔ اپنے عہدے کی قدر و منزلت بھی بڑھائی اور یہ تاثر بھی نہیں دیا کہ فوج جمہوری اداروں کا احترام نہیں کر رہی یا اپنے مقاصد کے لئے جمہوری حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ 24سال بعد کوئی چیف آف آرمی سٹاف ملازمت میں توسیع لئے بغیر سبکدوش ہو رہا ہے، یہ بظاہر کوئی بہت بڑی بات نظر نہیں آتی، مگر درحقیقت یہ بہت اہم بات ہے۔ یہ ایک رجحان ساز واقعہ ہے اور اب آنے والے ادوار میں اس کی تقلید اس لئے ضروری ہو جائے گی کہ جنرل راحیل شریف نے مقبولیت کی انتہا پر ہونے اور پوری قوم کی اس خواہش کے باوجود کہ انہیں مدتِ ملازمت میں توسیع لینی چاہیے، اس آپشن کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ عدم مداخلت کی جو روایات چھوڑ کے جا رہے ہیں، ان کی وجہ سے فوج کا جمہوریت سے متحارب چہرہ تبدیل ہو کر جمہوریت کی حامی فوج کے تشخص میں بدل گیا ہے اور میرا نہیں خیال کہ اب مستقبل میں کوئی دوسرا جرنیل اس مضبوط روایت کو توڑنے کی کوشش کرے گا۔ دوسری طرف سیاستدانوں کو بھی اب اپنے رویے اور سوچ میں تبدیلی لانی چاہیے۔ انہیں یہ غور کرنا چاہیے کہ پچھلے تین برسوں میں فوج کا کردار کیا تھا اور ان کے خدشات اور وسوسے کیا رہے۔ فوجی قیادت کی واضح کمٹ منٹ کے باوجود کیوں یہ افواہیں پھیلائی جاتی رہیں کہ ملک میں جمہوریت کی بساط لپیٹی جا رہی ہے یا مارشل لا لگانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ جنرل راحیل شریف کے صاف ستھرے، شفافیت سے معمور پیشہ ورانہ کردار نے پورا منظر نامہ تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ قوم بجا طور پر اپنے اس دلیر سپوت کو سلام پیش کررہی ہے اور تاریخ میں وہ ایک عظیم سپہ سالار کے طور پر اپنا نام کندہ کرا چکے ہیں۔

مزید : کالم