تلس پورہ کے دو سکولوں کی مجموعی تعداد 228، سہولیات کی کمی ، طلباء کا مستقبل خطرے میں

تلس پورہ کے دو سکولوں کی مجموعی تعداد 228، سہولیات کی کمی ، طلباء کا مستقبل ...

لاہور(لیاقت کھرل) ہربنس پورہ کی نواحی بستی تْلس پورہ جہا ں بچوں اوربچیوں کی تعلیم کے لئے قائم گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول جو کہ کئی سالوں سے صرف 12 مرلے میں چار کمروں پر مشتمل، ساتھ ہی چند گز کے فاصلے پر ’’پیف‘‘ کے زیر اہتمام چلنے والے بچوں اور بچیوں کے پرائمری سکول کے باعث دونوں سکولوں کی انتظامیہ کے درمیان تعداد بڑھانے پر چھینا چھپٹی جسے غیر صحت مندانہ مقابلے کے باعث طلباء و طالبات کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا اس کے باوجود دونوں سکولوں میں تعداد انتہائی کم، جس میں گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول میں بچوں اور بچیوں کی تعداد 121 جبکہ پیف کے زیر اہتمام پرائمری بوائز سکول کی انتظامیہ کے تمام حربے استعمال کرنے کے باوجود اس سکول میں بھی تعداد صرف 107 سے نہ بڑھ سکی، گرلز پرائمری سکول جہاں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کی چشم پوشی کے باعث بنیادی سہولتوں سے محروم چلا آ رہا ہے وہاں پیف کے سکول کے سامنے اُبلتے گٹر، خالی پلاٹس جھاڑیوں کی شکل اختیار کرنے پر بچوں اور ٹیچرز میں خوف کی علامت بن کر رہ گئے ہیں۔ روزنامہ پاکستان کی جانب سے گزشتہ روز گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول تُلس پورہ کا سروئے کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ سکول 12 مرلے میں کئی سالوں سے قائم ہے اور اس سکول میں چار کمرے نیچے اوپر تعمیر کئے گئے ہیں جبکہ دو مرلے میں سکول کا صحن ہے، سکول کا ’’پیک‘‘ کا رزلٹ تو قابل تعریف ، لیکن محکمہ سکولز ایجوکیشن کے حکام کی عدم دلچسپی کے باعث اس سکول کو ایک قسم کا لاوارث بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ اس سکول سے چند گز کے فاصلے پر گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول بھی قائم ہے جو کہ محکمہ تعلیم نے تقریباً ایک سال قبل محکمہ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیف) کے حوالے کر رکھا ہے اور پیف کی انتظامیہ نے اس سکول کو خود چلانے کی بجائے ’’ کیئر‘‘ نامی ایک این جی او کے حوالے کر رکھا ہے ۔ علاقہ کے مکینوں کا کہنا ہے کہ گرلز پرائمری سکول کئی سالوں سے قائم ہے اس سکول کی عمارت انتہائی کم اور چار کمروں پر مشتمل ہے ۔ محکمہ تعلیم نے اس سکول کی کئی سال گزر جانے کے باوجود حالت زار کو نہیں بدلا ، اس کے ساتھ ہی سنٹرل گورنمنٹ کی جگہ پر لوگوں نے قبضہ کر کے اپنے گھر اور خالی پلاٹوں پر قبضہ کر رکھا ہے لیکن محکمہ تعلیم اس تنگ نما 12 مرلے کی عمارت میں قائم اس سکول کو کہیں کھلی جگہ منتقل تو نہ کر سکا لیکن اس کے ساتھ چند گز کے فاصلے پر بچوں کے پرائمری سکول کو پیف کے حوالے کر دیا گیا جہاں اس سکول میں بچوں کے ساتھ بچیوں کو بھی مشترکہ طور پر تعلیم دی جانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس کی بناء پر اس (گرلز) سکول کی انتظامیہ نے بھی اپنے سکول میں بچیوں کے ساتھ بچوں کو بھی تعلیم دینا شروع کر دی ۔ سروئے کے موقع پر علاقہ کے مکینوں منظور احمد، نذر حسین، اختر علی ، محمد یونس، اسلم علی، چودھری فیض احمد، افتخار احمد، محمد خاں اور محمد اسلم سمیت خورشید بیگم نے بتایا کہ گرلز پرائمری سکول میں تعلیمی معیار تو بہتر لیکن سکول کی عمارت چار نیچے اوپر دو دو تنگ کمروں پر مشتمل ہونے اور گراؤنڈ نہ ہونے پر سارا دن بچے قریب ہی واقع دربار کے تکیہ میں کھیلتے رہتے ہیں۔ محکمہ تعلیم کو چاہیے کہ اس سکول کے ساتھ ہی سرکاری زمین جس پر بااثر افراد قبضہ کئے جا رہے ہیں وہاں پر اس سکول کو شفٹ کیا جائے ، اس سے اس سکول میں تعلیمی معیار بہتر اور ڈراپ آؤٹ کی شرح کم ہو جائے گی۔ گرلز سکول کی ہیڈ مسٹریس فرحت شاہین کا کہنا تھا کہ سکول میں آبادی کے بڑے بڑے زمینداروں اور کاروباری لوگوں کے ملازمین کے بچے اور بچیاں پڑھتے ہیں، بڑے لوگوں کے بچے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھتے ہیں، کیونکہ سکول کی عمارت ہی صرف چار کمروں پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی پرائمری سکول جو کہ بوائز کا ہے اس کو پیف کے حوالے کرنے سے وہاں پر مفت تعلیم ملنے پر زیادہ رجحان والدین کا اس طرف ہے۔ محکمہ سکولز کی انتظامیہ کو اس سلسلے میں متعدد بار شکایت کر چکے ہیں اس میں ای ڈی او تعلیم لاہور اور ڈی ای او شالیمار وحیدہ ذوالفقار کو بھی الگ الگ خطوط ارسال کئے گئے ہیں، جبکہ پیف کے زیر اہتمام چلنے والے سکول کی ہیڈ مسٹریس صائمہ خورشید نے بتایا کہ پیف کے سکولوں میں سہولیات کا فقدان ہے، اس میں پیف کی انتظامیہ کو اساتذہ کو بنیادی سہولتیں دینی چاہئیں جس سے تعلیم کا معیار مزید بہتر ہو سکتا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1