کنٹرول لائن ،بھارتی فائرنگ سے 3جوانوں سمیت 15شہری شہید،دشمن کے 7فوجی جہنم واصل

کنٹرول لائن ،بھارتی فائرنگ سے 3جوانوں سمیت 15شہری شہید،دشمن کے 7فوجی جہنم واصل

نکیال /نیلم،شاہ کوٹ،تتہ پانی/راولپنڈی(اے این این،آن لائن )جنگی جنون میں مبتلا بھارتی فوج کنٹرول لائن پرجارحیت کی تمام حدیں پارکرگئی، وادی نیلم میں مسافربس پرراکٹ حملے اور تتہ پانی ،کیرالہ،شاہ کوٹ،بٹل،جوڑا اورپونچھ سیکٹروں میں بلااشتعال فائرنگ اورگولہ باری کے نتیجے میں پاک فوج کے کیپٹن اوردوجوانوں سمیت 15شہری شہید،27زخمی ،پاک فوج نے بھرپور جوابی وارکرتے ہوئے سات بھارتی سورماؤں کوجہنم رسیدجبکہ کئی چوکیاں تباہ کردیں،ادھر بھارتی اشتعال انگیزی باعث کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کے قریب مقیم لوگ خوف وہراس میں مبتلا ، کئی علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی۔ تفصیلات کے مطابق مودی سرکار جنگی جنون میں اس قدراندھی ہوگئی ہے کہ اب اس نے مقامی آبادی کیساتھ ساتھ مسافربسوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا ہے اوربدھ کی صبح بے لگام بھارتی فوج نے وادی نیلم کے علاقے لوات میں ایک مسافربس کو راکٹ سے نشانہ بنایااورپھرہلکے ہتھیاروں سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں بس میں سوار 10 افراد شہید اور 17 زخمی ہوگئے ،بعدمیں بھارتی فوج نے زخمیوں کو ہسپتال لے جانے والی ایمبولینس پر بھی فائرنگ کی جس سے مزید چار افراد زخمی ہو ئے۔ بھارتی جارحیت کا نشانہ بننے والی کوسٹر مظفرآباد جارہی تھی۔ ایس ایس پی نیلم پولیس کے مطابق بھارتی فوج نے لالہ اور راوٹہ کے قریب بھی گولہ باری کی ۔ واقعے کے بعد وادی میں تعلیمی ادارے غیرمعینہ مدت کے لیے بند کردیئے گئے ۔ وزیراعظم آزاد کشمیرراجا فاروق حیدر نے بھارتی فوج کی جانب سے مسافربس کو نشانہ بنانیکی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج معصوم شہریوں کونشانہ بنارہی ہے، مسافربس کونشانہ بنانا بھارتی فوج کی دہشت گردی کا کھلا ثبوت ہے، عالمی برادری بھارتی فوج کی جارحیت کانوٹس لے۔ کیرل سیکٹر میں کنٹرول لائن پارسے داغاگیاگولہ ایک مکان پر گرنے سے ایک شخص شہید اور پانچ افراد زخمی ہوگئے جبکہ کوٹلی سیکٹر میں فائرنگ سے ایک شہری شہید ہوا ۔ اس کے علاوہ بھارتی فوج کی جانب سے داغے گئے 3 مارٹرگولے تحصیل ہیڈ کوارٹراسپتال تتہ پانی کے قریب گرنے سے ایک خاتون نازیہ دخترطفیل شاہ زخمی ہوگئیں۔فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر)کے مطابق کنٹرول لائن پر بھارت کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے کیپٹن سمیت تین جوان شہید ہوگئے۔ شہید ہونے والوں میں کیپٹن تیمور علی، حوالدار مشتاق حسین اور لانس نائیک غلام حسین شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائی میں 7بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوئے جبکہ دشمن کی کئی چوکیاں تباہ کردی گئی ہیں۔ آئی ایس پی آرکے بٹل، کیرالہ، شاہ کوٹ ، باگسر، جورا، نکیال سمیت دیگرسیکٹروں میں بلااشتعال گولہ باری اورفائرنگ کی گئی جس میں مقامی آبادی کو نشانہ بنایا ۔دریں اثناء بھارتی فوج کی گولہ باری سے شہید ہونیوالے نوجوان عدنان خالد کی نمازِ جنازہ نکیال کالج گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔واضح رہے کہ کنٹرول لائن اور ورکنگ بانڈری پر بھارتی کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں حالیہ کچھ عرصے سے ایک معمول بن چکی ہیں ایک اندازے کے مطابق بھارت حالیہ مہینوں کے دوران 230 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرچکا ہے، 19 نومبر کو ایل او سی کے مختلف سیکٹرز پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں چار پاکستانی شہری جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہوگئے تھے جوابی کارروائی میں 6 بھارتی فوجیوں کوہلاک کردیاگیاتھا ۔ 18 نومبر کو بھارتی بحریہ کی جانب سے بھی پاکستانی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کی گئی، تاہم پاک بحریہ نے پاکستانی سمندری علاقے میں بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگا کر انھیں اپنی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا۔ 14نومبر کو بھی لائن آف کنٹرول پر بھارتی فورسز کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں پاک فوج کے 7 جوان شہید ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہاتھا کہ ہمارے سات جوانوں کی شہادت کے دن بھارت کیگیارہ فوجی مارے گئے تھے، ہم اپنے جوانوں کی شہادت کو تسلیم کرتے ہیں، بھارتی فوج بھی مردانگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہلاک فوجیوں کا بتایا کرے۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں 18 ستمبر کو ہونے والے اڑی حملے کے بعد سے کشیدگی پائی جاتی ہے، جب کشمیر میں بھارتی فوج کے اڈے پر حملے میں 18 فوجیوں کی ہلاکت کا الزام نئی دہلی کی جانب سے پاکستان پر عائد کیا گیا تھا، جسے اسلام آباد نے سختی سے مسترد کردیا تھا۔ بعد ازاں 29ستمبر کو بھارت کے لائن آف کنٹرول کے اطراف سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوے نے پاک بھارت کشیدگی میں جلتی پر تیل کا کام کیا، جسے پاک فوج نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اس رات لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی اور بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 2 پاکستانی فوجی شہیدہوئے جبکہ پاکستانی فورسز کی جانب سے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا گیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کی طرف سے بٹل، کیرن، باغسر، جورا، کیریلہ، شاہ کوٹ، باغ، نکیال اور تتہ پانی سمیت مختلف سیکٹروں میں بلااشتعال گولہ باری اور فائرنگ سے مقامی آبادی خوف وہراس میں مبتلاہے اورشیلنگ کی وجہ علاقہ مکین گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

بھارتی دہشت گردی

اسلام آباد،راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) مودی سرکار کی جانب سے مسلسل سرحدی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ڈی جی جنوبی ایشیا اینڈ سارک ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو 24 گھنٹے میں دو بار دفتر خارجہ طلب کیا اور کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے فوجی جوانوں اور شہریوں کی شہادتوں پر احتجاج ریکارڈ کروایا۔ احتجاجی مراسلہ بھی جے پی سنگھ کے حوالے کیا گیا۔ دوسری طرف پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا ہے پاکستان نے بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی پرشدیداحتجاج کیا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا ہے،پاکستان کے ڈی جی ایم او شمشاد علی نے ایک نکاتی ایجنڈے پر بات کی ہے،پاکستان کے ڈی جی ایم اونے پاکستانی بس پربھارتی فوج کی فائرنگ پرشدیداحتجاج کیا ہے۔لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی کا معاملہ اٹھایا گیا ہے،معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے پر شدید احتجاج کیا گیا ہے۔ڈی جی ایم او نے مزید کہاہے کہ پاکستان بھارتی جارحیت کے مقابلے میں جوابی کارروائی کا حق رکھتا ہے ۔اس کیلئے جگہ اور وقت کا چناؤ خودکریں گے ۔

احتجاج ،رابطہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر جاری بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں،کشمیری بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ وادی نیلم میں بھارتی فوج کی طرف سے عام لوگوں کی بس پر بلااشتعال فائرنگ کی سخت مذمت کرتے ہیں،قوم مادروطن کی حفاظت کے لیے جانوں کا نذرانہ دینے والے پاک فوج کے جوانوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی،کوئی بھی ذمہ دار ملک معصوم شہریوں اور زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینسز کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا،بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اور مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے کشمیری بھائیوں کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ایل او سی کے قریب وادی نیلم آزاد کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے عام لوگوں کی بس پر بلااشتعال فائرنگ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج کا یہ اقدام قابل مذمت ہے کہ وادی نیلم میں معصوم شہریوں کو لے جانے والی بس کو نشانہ بنایا گیا، وزیر اعظم نے شہید ہونے والے شہریوں کی مغفرت اور ان کے لواحقین کے لیے صبر کی دعا کی ہے۔وزیر اعظم نے کہا ہے کہ پاک فوج کے جن جوانوں نے شہادت پائی ہے وہ ہمارے لیے قابل احترام ہیں ہم انکی قربانی کو سراہتے ہیں پوری قوم پاک فوج کے ان جوانوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی جو اپنے پیارے مادروطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کی بھی پرواہ نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ بھارتی ننگی جارحیت اور ایل او سی پر معصوم شہریوں کی شہادتوں پر ہم تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں جبکہ بھارت صورتحال کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ذمہ دار ملک معصوم شہریوں اور زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینسز کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا، درحقیقت بھارت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اور مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے، پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑے گا اور انکی مبنی برحق تحریک آزادی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا۔

نوا زشریف

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک)آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہاہے کہ بھارتی فوج کا شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور غیر پیشہ وارانہ عمل ہے ،دشمن کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی پر بھر پور اور فوری جواب دیا جائے۔آرمی چیف جنر ل راحیل شریف کی زیر صدارت کور ہیڈ کواٹر میں خصوصی اجلاس جاری ہے جس دوران وادی نیلم میں بھارتی فوج کی جانب سے مسافر بس پر حملے سے ہونے والی شہادتوں اور کنٹرول لائن کی صورتحال کا جائزہ لیاگیا جبکہ آرمی چیف نے بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزی پر پاک فوج کے جوانوں کی بھر پور اور موثر جواب دینے پر تعریف بھی کی۔اس موقع پر آرمی چیف نے واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ سیز فائر کی خلاف ورزی پر بھر پور اور فوری جواب دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں پر فائرنگ ناقابل قبول ہے اور غیر پیشہ وارانہ عمل ہے۔

راحیل شریف

مزید : صفحہ اول