پولیس کے مبینہ طور پر قائم نجی ٹارچر سیل سے 3روز سے محبوس شہری کو برآمد

پولیس کے مبینہ طور پر قائم نجی ٹارچر سیل سے 3روز سے محبوس شہری کو برآمد

لاہور(نامہ نگار )عدالتی بیلف نے نولکھا کے علاقہ میں ایک ہوٹل میں پولیس کے مبینہ طور پر قائم نجی ٹارچر سیل سے 3روز سے محبوس شہری کو برآمد کرکے عدالت میں پیش کردیا،جہاں عدالت نے اسے رہا کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا حکم جاری کردیاہے۔ایڈیشنل سیشن جج سیف اللہ سوہل کی عدالت میں میاں عبدالوحید نے فرقان کو نجی ٹارچر سیل میں محبوس رکھنے پر تھانہ نولکھا پولیس کے خلاف حبس بے جا کی درخواست دائر کی تھی ،عدالت نے فوری بیلف افتخار احمد کو مقرر کیا جس نے نولکھا سبحان ہوٹل کے کمرہ نمبر 403میں چھاپہ مارا تو فرقان وہاں پر موجود تھا اس کے ہاتھ میں ہتھکڑی لگی تھی اور ایک کانسٹیبل اس کی نگرانی پر مامور تھا بیلف نے فرقان کو اپنی تحویل میں لے لیا بیلف نے رپورٹ دی کہ جب فرقان کو برآمد کیا گیا تو وہ پرائیویٹ کمرے میں موجودتھا، تھانے میں ریکارڈ چیک کیا تو اس کی کوئی گرفتاری نہیں تھی اور نہ ہی کوئی ایف آئی آر تھی۔

عدالت میں پیشی کے وقت فرقان زاروقطار روتا رہا ،اس کا کہنا تھا کہ مجھے الفلاح بینک سے 83 لاکھ جعل سازی نے نکالنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جبکہ اس کا اس سے کوئی واسطہ نہیں، عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد محمد فرقان کو آزاد کرتے ہوئے دیا پولیس کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4