سانحہ کوٹ رادھاکشن، مسیحی میاں بیوی کو زندہ جلانے پر 5مجرموں کو سزائے موت کا حکم

سانحہ کوٹ رادھاکشن، مسیحی میاں بیوی کو زندہ جلانے پر 5مجرموں کو سزائے موت کا ...

لاہور(نامہ نگار )انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کوٹ رادھا کشن میں بھٹہ خشت کی بھٹی میں محنت کش2میاں بیوی کو زندہ جلانے کے مقدمہ میں ملوث 106ملزمان میں سے 93کو بری کردیاجبکہ 5مجرموں کو سزائے موت اور8ملزمان کو 2،2سال قید کی سزا کا حکم سنا دیا ہے۔انسداد دہشت گردی کی عدالت میں کوٹ رادھا کشن پولیس نے بھٹہ خشت کی بھٹی میں مسیح جوڑے صائمہ اور سجاد کو زندہ جلا کر ہلاک کرنے اور ہنگامہ آرائی کرنے کے الزام میں 106ملزمان کا چالان عدالت میں پیش کررکھا تھا، عدالت میں ملزمان کے خلاف پولیس کی طرف سے وقارعابدبھٹی ڈپٹی پراسکیوٹرجنرل نے 2014ء میں چالان پیش کیا،عدالت میں 100سے زاہد گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گے ،عدالت نے وکلا ء کی بحث کے بعد 5مجرموں حافظ اشتیاق، حنیف، عرفان، ریاض کمبوہ اور رانا مہندی کو سزائے موت ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزاؤں کا حکم سنا دیا ہے جبکہ مقدمہ میں شریک8مجرموں مولوی محمدحسین ،نورحسین ، ارسلان، حارث بشیر، منیر کمبوہ، محمد رمضان، حافظ شاہد اور محمد عرفان کو 2،2سال قید اور 2،2ہزارروپے جرمانے کی سزا سنائی ہے جبکہ عدالت نے دیگر 93 ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا ہے ،واضح رہے کہ کیس کے تمام ملزمان ضمانت پر تھے، فیصلے کے بعد پولیس نے 13مجرموں کو حراست میں لے لیاگیا۔مذکورہ مجرموں پرپر الزام تھا کہ انہوں مقدس اوراق کی توہین کی تھی اس پر کوٹ رادھا کشن میں اشتعال پھیلا جس پر مشتعل ہجوم نے بھٹہ خشت میں کام کرنے والے مسیح جوڑے کو بھٹی میں پھینک کر زندہ جلا دیا تھا۔

مزید : صفحہ آخر