سندھ کے مداراس میں 5لاکھ سے زائد غیر ملکی طلباء تعلیمن ہیں:آئی جی

سندھ کے مداراس میں 5لاکھ سے زائد غیر ملکی طلباء تعلیمن ہیں:آئی جی

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس بدھ کو سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم نمبر ون میں منعقد ہوا ۔آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے سندھ فرانزک لیب کے قیام اور دیگر امور کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی ۔آئی جی سندھ نے بتایا کہ گزشتہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں فرانزک لیب کے قیام معاملہ زیر غورآیا تھا۔کور کمانڈر کراچی نے فرانزک لیب کراچی میں ہی بنانے کی تجویز دی تھی۔لیب کے لیے چار ہزار ایکڑ زمین ڈی ایچ اے کراچی لی جائے گی ۔کور کمانڈر کراچی زمین کے لیئے ڈی ایچ اے حکام سے بات کریں گے۔آئی جی سندھ نے کہا کہ سندھ میں 10 ہزار 33 مدرسے ہیں۔2309مدرسے بند جبکہ 7 ہزار 724 کام کررہے۔ان مدراس میں غیر ملکی طلبا کی تعداد 5 لاکھ 47 ہزار 645 ہے ۔سندھ بھر کے 7 ہزار 724 مدرسے کی مکمل کوائف پولیس کے پاس موجود ہیں۔غیر ملکی طلبا کی آمدنی کے ذریعے اور دیگر معلومات ہمارے پاس ہے ہیں ۔مدرسوں کی رجسٹریشن کمپنی ایکٹ کے تحت ہورہی ہے ۔مدرسے کی رجسٹریشن کی ذمہ داری محکمہ صنعت کے پاس ہے ۔کراچی اور سندھ کے دیگر حصوں کو مذہبی انتہا پسندی سمیت دیگر چیلنجز کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ سند ھ میں پو لیس کے ماتحت ہائی وئے پیڑولنگ فورس کی تشکیل ہونی چاہیے ۔قانونی سازی کا اختیار اسمبلی جبکہ عمل درآمد حکومت کی ذمہ داری ہے ۔کمیٹی کے چیئرمین اویس قادرشاہ نے اجلاس کے دوران پابندی کے باوجود انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں بھرتیوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ اے ٹی سی کورٹس میں کس قانون کے تحت بھرتیاں کی گئی ہیں ۔کیا اے ٹی سی کورٹس پنجاب میں ہیں جہاں پابندی کا قانون عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ہائی کورٹ بھی بھرتیوں سے متعلق صوبائی حکومت کی پابندی کا خیال کررہا ہے ۔آئی جی سندھ نے کہا کہ ایس ایچ اوز کی تعیناتی میری خواہشات پر نہیں بلکہ افسران کی سفارشات پر ہوتی ہے۔ایس ایچ اوز کی تعیناتی میں پولیس کے ضلعی افسران کا اہم کردار ہوتا ہے ۔امن و امان کی صورتحال کو مد نظر رکھتے میں ایس ایچ اوز تعینات کرتا ہوں۔اویس قادر شاہ نے کہا کہ رکن سند ھ اسمبلی سمیتا افضال کو تھانے میں تین گھنٹے سے زائد انتظار کرنا پڑا اس وقت تھانے میں کوئی متعلقہ افسر موجود نہیں تھا۔ارکان اسمبلی کے ساتھ پولیس کا یہ رویہ ہے تو عام لوگوں کے ساتھ کیسا ہوگا۔ سنیتا افضال کی شکایت پر آئی جی سندھ نے معذرت کرتے ہوئے تحقیقات کرنے کے یقین دہانی کرائی ۔سنیتا افضال نے ڈی آئی جی بے نظیر آباد کے دفتر کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ پولیس نے جرائم پیشہ افراد سے ادارہ برائے ترقی خواتین کی بلڈنگ خالی کرانے کے بعد اس پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔ا س پر آئی جی سندھ نے کہا کہ قبضہ کا لفظ مناسب نہیں ہے ۔سرکاری امور کیلئے دفتر زیر استعمال ہے۔پولیس نے اس عمارت کی خوبصورت بنانے کے لیئے خطیر رقم خرچ کی ہے۔ایک سرکاری عمارت کا قبضہ ختم کرکے ایک سرکاری ادارہ اسے استعمال کررہا ہے۔جیسے ہی ہمارے دفتر تعمیر ہوگا ہم اسے ادارہ ترقی برائے خواتین کے حوالے کردیں گے۔قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پولیس کو تحریر اجازت نامہ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے اپنی بلڈنگ کی تعمیر تک رہنے کی اجازت دے دی۔سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ سندھ میں شیشہ کے استعمال سے متعلق بل قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو موصول ہوا ہے۔اس پر قائمہ کمیٹی کے ارکان تیمور تالپور اور سمیتا افضال نے تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق شیشے کے استعمال کی پابندی سے متعلق قانونی سازی کی جائیگی۔شیشے کے استعمال سے زیادہ سگریٹ اور گھٹکا نوشی زیادہ سے اموات رپورٹ ہورہی ہیں۔شیشہ کلبز میں اٹھارہ سال کم عمر کے افراد کی داخلہ پر بابندی عائد کرنی چاہیے ۔شیشہ کلب پر مکمل پابندی عائد کرنا ٹھیک نہیں محدود کرانا چاہیے ۔بل میں شیشہ کے استعمال سے متعلق سزاؤں میں کمی کی جائے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر