معاون خصوصی کی افسروں کو ترقیاتی منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت

معاون خصوصی کی افسروں کو ترقیاتی منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت

پشاور( سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معا ون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے متعلقہ محکموں افسران سے کہا ہے کہ وہ حلقہ پی کے۔ 82 میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کریں تاکہ عوام کی محرومیوں اور مشکلات کا جلد ازالہ ہوسکے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کے روز پشاور میں حلقہ پی کے۔82سوات میں جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔جس میں آبپاشی سمیت دیگر محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں مختلف منصوبوں خاص طور پر شموزئی ، لڑا کئی اور شاہ ڈھیری میں تعمیر ہونے والے حفاظتی پشتوں پر جاری کام کی جائزہ لیا گیا اور اور ان کی جلد تکمیل سے متعلق تجاویز پیش کی گئیں۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ محکمہ آبپاشی کے تحت تقریبا13 کروڑ30لاکھ روپے کی لاگت کے حفاظتی پشتوں پر کام جاری ہے۔ڈاکٹر امجد علی نے قومی تعمیر کے محکموں کے سربراہان سے کہا کہ وہ صوبائی حکومت کی جانب سے کروڑوں روپے کی لاگت سے شروع کئے گئے مفاد عامہ کے منصوبوں کی جلد تکمیل کو یقینی بنائیں اور اس سلسلے میں درپیش کسی قسم کی دشواری کو ان کے نوٹس میں لایا جائے تاکہ عوامی فلاح و بہوبود کے منصوبے تاخیر کا شکار نہ ہوں انہوں نے واضح کیا کہ سکیموں کی تکمیل میں وہ فنڈز کی کمی کو آڑے نہیں آنے دیں گے۔ اجلاس میں ڈاکٹر امجد علی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ شعبہ آبپاشی کے تحت بیشتر منصوبے مکمل ہو چکے ہیں اور باقی ماندہ پر کام تیزی سے جاری ہے ۔جس پر معاون خصوصی نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت ترقیاتی عمل عوام کی امنگوں اور ضرورتوں کے مطابق مکمل کرنے کے لئے کوشاں ہے اس لئے تمام محکموں کو باہمی روابط کے تحت جاری اورنئے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے اور کام کے معیار میں شفافیت کیلئے قومی جذبی سے کام کرنا چاہئیے ۔انہوں نے کہاکہ سیلابوں سے بچاؤ کے لئے حفاطتی پشتوں کی تعمیر اور آبپاشی کے منصوبے نہایت توجہ کے متقاضی ہیں کیونکہ سیلابوں کے دوران نہ صرف لوگوں کی قیمتی زرعی اراضی سیلاب کی نذر ہو جاتی ہے بلکہ نہری نظام کے تباہ ہونے سے زرعی پیداوار بھی متاثر ہوجاتی ہے اور اس سلسلے میں وہ ہر فورم پر حتی المقدور اقدامات اٹھائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے حلقہ میں جاری منصوبوں کا مسلسل معائنہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے متعلق اجلاسوں کا بھی انعقاد کریں گے تاکہ ان کی بروقت تکمیل یقینی ہو۔

مزید : پشاورصفحہ آخر