نستہ پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر دیا

نستہ پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر دیا

چارسدہ (بیورو رپورٹ)نستہ پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر دیا ۔ ایس ایچ او طاہر خان کی قیادت میں درجنوں پولیس اہلکار رات گئے مقامی شہری رحمت اللہ کے گھر داخل ہو ئے اور خواتین کی بے حرمتی کرکے گھر میں موجود اشیاء توڑ دئیے۔ شیر دل پولیس 2ہزار سعودی ریال ، 2تولے سونا،2موبائل فون، 2جوسر ، 2بیٹریاں او ر دیگر قیمتی سامان اٹھا کر لے گئے ۔آئی جی انصاف دلائیں ۔ تفصیلات کے مطابق نستہ شپانہ کے رہائشی رحمت اللہ ولد پلیل نے اپنی بیوی مسماۃ (س) کی معیت میں میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے کہا کہ ا ن کے دو بھائیوں یونس اور نجیب پر سٹی تھانہ چارسدہ میں 11جون 2016کو قتل کی دعویداری ہو چکی ہے جبکہ واقعہ کے وقت وہ سعودی عرب میں موجود تھے ۔دو مہینے پہلے وہ سعودی عرب سے واپس آگئے تو نستہ پولیس نے ان کا جینا حرام کر دیا ہے اور ناکردہ گناہ کے پاداش میں تین بار مذکورہ کیس میں ضابطہ فوجداری کے تحت گرفتار کیا ۔انہوں نے مزید کہاکہ مذکورہ ملزمان ہم سے چار پانچ کلومیٹر دور رہائش پذیر ہیں اور ان سے ہمارا کوئی روزگار اور رابطہ تک نہیں اور نہ ہم ملزمان کی قانونی مدد کر رہے ہیں مگر اس کے باوجود نستہ پولیس بار بار رات گئے ہمارے گھر پر چھاپے لگا کر چادر اور چار دیورار ی کا تقدس پامال کر رہی ہے ۔ گزشتہ شب بھی پولیس کی بھاری نفری نے ایس ایچ اوتھانہ نستہ طاہر خان کی معیت میں ہمارے گھر پر چھاپہ مارا او ر خواتین کی بے حرمتی کرکے گھر میں موجود قیمتی سامان توڑ دئیے اورالماریوں اور صندوقوں کے تالے بھی کھول دئیے ۔ پولیس نے جاتے ہوئے 2ہزار سعودی ریال ، 2تولے سونا،2موبائل فون، 2جوسر ، 2بیٹریاں او ر دیگر قیمتی سامان اٹھا کر لے گئے جبکہ ایس ایچ او نے جاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ مفرروں کو پناہ دینا ہے تو تھانے کے اخراجات بر داشت کرنا ہو نگے ۔ متاثرہ شہری اور اس کی بیوی نے آئی خیبر پختونخوا ناصر خان درانی ، ڈی آئی جی محمد اعجاز خان اور ڈی پی او چارسدہ سہیل خالد سے مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے مکمل انکوائری کرکے ان کو پولیس گردی سے نجات دلا ئیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر