خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کا اجلاس

خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کا اجلاس

پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کا ایک اجلاس بدھ کے روز کمیٹی کی چےئر پرسن و صوبائی وزیر برائے محنت و معدنی ترقی انیسہ زیب طاہر خیلی کی زیرصدارت صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا جس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے جیل خانہ جات ملک قاسم خٹک کے علاوہ کمیٹی کے ممبران و اراکین صوبائی اسمبلی زرین گل، قربان علی خان، محمود جان، سردار حسین بابک، محمد علی شاہ باچہ سردار اورنگزیب نلوٹھا، سیکرٹری محکمہ داخلہ شکیل قادر ، سیکرٹری صوبائی اسمبلی امان اﷲ، آئی جی جیل خانہ جات عزیز خان خٹک، ایڈیشنل سیکرٹری صوبائی اسمبلی غلام سرور اور محکمہ داخلہ اسٹیبلشمنٹ ، قانون،اے جی آفس و دیگر متعلقہ محکمہ جات کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ جیل خانہ جات خیبر پختونخوا میں وارڈرز کی بھرتیوں کے حوالے سے مختلف امور پر غور و خوض ہوا اور اس ضمن میں معزز ممبران نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔اجلاس میں کمیٹی کی چےئرپرسن نے ممبران کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ اجلاس میں اس سلسلے میں اپنی سفارشات پیش کریں اور ان کی روشنی میں کمیٹی اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ کمیٹی کی تشکیل کا مقصد جیل خانہ جات میں بھرتیوں کے طریقہ کار کو بہتر بنانا ہے تاکہ جیلوں کی سیکورٹی کو بہتر بنانے کیلئے اہل اور میرٹ پر اترنے والے افراد کی بھرتی کو یقینی بنایا جا سکے جس میں کسی بھی قسم کے سیاسی اثر و رسوخ کا ابہام موجود نہ ہو۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ جیل خانہ جات میں بھرتیوں کے عمل میں جیل قواعد و ضوابط اور حکومت پالیسی کے مطابق طریقہ کار اپنایا جائے جس میں کسی بھی سرکل کی حق تلفی نہ ہو ۔ اس حوالے سے جیل خانہ جات اور محکمہ اسٹیبلشمنٹ کے حکام نے بھی اپنی آراء پیش کیں۔کمیٹی کی چےئرپرسن کا کہنا تھا کہ محکمہ جیل خانہ جات نے پرزنز رولز کے حوالے سے جو تجاویز متعلقہ محکمے کو ارسال کی ہیں ان کی کاپی کمیٹی ممبران کوبھی فراہم کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا بنیادی مقصد جیل خانہ جات کے محکمے میں اہل افراد کی بھرتی کو یقینی بنانا ہے تاکہ ہمارے یہ ادارے زیادہ محفوظ اور مضبوط ہوں۔ واضح رہے کہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں صرف معززممبران شریک ہو کر اپنی سفارشات پیش کریں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر