مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے پر امام مسجد سمیت 5 کو سزائے موت

مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے پر امام مسجد سمیت 5 کو سزائے موت
مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے پر امام مسجد سمیت 5 کو سزائے موت

  


لاہور( ویب ڈیسک)انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے کوٹ رادھا کشن میں مسیحی میاں بیوی کو زندہ جلانے کے مقدمے میں 5 ملزموں امام مسجد حافظ اشتیاق، محمد حنیف، عرفان شکور، ریاض کمبوہ اور رانا مہدی کو دو، دو بار موت اور 2، 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی۔ 9 ملزموں محمد حسین، نوید اسلم، ارسلان، لطیف، حارث بشیر،منیر احمد،محمد رمضان،محمد عرفان اور حافظ شاہد کو دو، دو سال قید کی سزا دی گئی جبکہ 93ملزموں کو شک کا فائدہ دیکر بری کرنے کا حکم دے دیاگیا۔ ملزموں کے خلاف کوٹ رادھا کشن تھانے میں مقدمہ درج تھا۔

پشاور میں باپ نے غیرت کے نام پر بیٹی اور نوجوان کو قتل کر دیا

استغاثہ کے مطابق ملزموں نے 2014ئمیں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی پر کوٹ رادھا کشن کے چک نمبر 59 میں بھٹہ خشت کے مزدور مسیحی جوڑے 24سالہ شمع بی بی اور اس کے شوہر26سالہ شہزاد مسیح کو تشدد کے بعد دہکتی بھٹی میں پھینک کر زندہ جلا دیا تھا۔ فاضل عدالت نے گزشتہ روز مقدمے کی سماعت مکمل کرکے فیصلہ سنا دیا۔دوہرے قتل کا یہ مقدمہ لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر دو کے روبرو تقریباً دو سال تک زیر سماعت رہا۔کوٹ رادھا کشن پولیس نے واقعے کا مقدمہ پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعات 302، 436، 201، 148، 149، 353 اور 186 اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت درج کیا تھا۔

بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی سانحہ کوٹ رادھا کشن کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے وفاقی حکومت کو جامع رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

مزید : لاہور