اسرائیلی سائنسدانوں نے نادر”مفکر“مورتی کا کھوج لگالیا

اسرائیلی سائنسدانوں نے نادر”مفکر“مورتی کا کھوج لگالیا
اسرائیلی سائنسدانوں نے نادر”مفکر“مورتی کا کھوج لگالیا

  


مقبوضہ بیت المقدس(ویب ڈیسک)تل ابیب کے مشرقی علاقے میں زمین کی کھدائی کے دوران اسرائیلی سائنسدانوں نے تقریباً3ہزار800سال قدیم ایک ایسی نادر مورتی کا کھوج لگا یا ہے جو ایک نشست پر بیٹھے اپنی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے کسی گہری سوچ میں گم ہے۔

’میں جہاز کی ٹکٹیں بالکل مفت کرنے والا ہوں۔۔۔‘ دنیا کی بڑی ائیرلائن کے سربراہ نے تہلکہ خیز اعلان کردیا، کمائی کیسے ہوگی؟انتہائی انوکھا طریقہ پیش کردیا کہ سب حیران رہ گئے

اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کے ادارہ برائے نوادرات نے کہا ہے کہ یہ مورتی،انگریزی ٹوپی(ہیٹ)پہنے ہوئے اوراپنی ٹھوڑی کو اپنے ہاتھ سے سہارا دیئے ہوئے ہے جس کی کھوج اس وقت لگائی گئی جب تل ابیب کے مشرقی علاقے یاہودکے مقام پر نئی بستیوں کی تعمیرات کے لئے ماہرین آثارقدیمہ کی جانب سے کھودائی کی جارہی تھی۔ایک گھڑے پر بیٹھا 18سینٹی میٹر(سات انچ)لمبا مجسمہ ایک قبرسے مردے کے ساتھ دفنائی جانے والی دیگراشیا بشمول خنجر،تیراورکلہاڑے کے سروں،کے ساتھ تلاش کیا گیا ہے۔ اسرائیلی ادارہ برائے نوادرات کے آثار قدیمہ سے متعلق کھدائی کے عمل کے سربراہ گیلا داتاش نے اے ایف پی کو بتایا کہ مٹی سے بنا ایک منفرد گھڑا نما برتن، جسے ہم نے اس قبر کے احاطے میں پہلے دریافت کیا، اس بات کا اشارہ دے سکتا ہے کہ یہاں کسی اہم شخصیت کو دفنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دریافت تقریباً 2 ہزار قبل مسیح کے زمانے جسے کنعانی دور کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، کی ہے تاہم یہ کہنا ناممکن ہے کہ ان اشیاءکو بنانے والے اور اس مقام پر دفن شخص کون تھے کیونکہ اس حوالے سے کوئی تحریر موجو دنہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مجسمے کی جنس معلوم نہیں لیکن بظاہر یہ مرد دکھائی دیتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس