دشمن نئے آرمی چیف کو یہ سرپرائزدینا چاہتا ہے

دشمن نئے آرمی چیف کو یہ سرپرائزدینا چاہتا ہے
دشمن نئے آرمی چیف کو یہ سرپرائزدینا چاہتا ہے

  


پاک بھارت سرحدوں پر بڑ ھتی ہوئی کشیدگی امن پسند لوگوں کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ ہم بڑے افسوس سے کہنا چاہتے ہیں کہ بھارت کی غیر سنجیدہ اور غیر پیشہ وارنہ حرکت سے10 نہتے لوگ شہید ہو چُکے ہیں۔ موجودہ صورتِ حال کے پیش نظر افواج پاکستان کے ہیڈ کواٹر ارولپنڈی میں رات کے وقت ہنگامی طور پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اجلاس بُلایا۔ جس میں سرحدوں کی صورتِ حال پر غور کیا گیا ۔ علاوہ ازیں، بھارت کی ایسی اشتعال انگیز کاروائیوں کا مناسب جواب دینے کے لئے مختلف تجاویز پرغور کیا گیا۔ جارحیت کو روکنے کے لئے بھارت کے ڈائریکٹر آف آپریشن سے ہارٹ لائین پر رابطہ کرکے بھارت کو صورتِ حال کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ اور پاکستان کے ڈائریکٹرآف آپریشن نے افسوس کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی آ ئیندہ ایسے حملوں کا مُنہ توڑ جواب کا عندیہ دیا۔ علاوہ ازیں، بھارت پر واضع کیا کہ پاکستان حالیہ حملوں کا بدلہ لینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وُہ بدلہ لینے کے لئے وقت اور جگہ کا خُود تعین کرے گا۔ تاہم، بھارت کی جارحیت پاکستان کے لئے اِس نازک موڑ پر اِس لئے بھی اہم ہے کہ جنرل راحیل شریف تھوڑے دنوں تک ریٹا ئر ہو رہے ہیں ۔ بے شک فوج کے ماتحت آفیسرز مناسب کاروائی کرنے لئے ہر وقت موجود ہوں گے، بھیر بھی جنرل راحیل کے جانے بعد، نئے چیف آف سٹاف کو نئی ذ مہ داری سنبھالتے ہوئے کُچھ وقت لگے گا۔ لیکن دُشمن نے وار کرنے کے لئے ایسے ہی وقت کا جان بُوجھ کر انتخاب کیا ہے۔ تاکہ پا کستانی افواج کو سراپرئز دیا جائے۔ لیکن پا کستانی افواج بھارت کی کسی بھی جارحیت کا معقول اور بر وقت جواب دینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے ایسی کاروائی کا ادارک کرتے ہوئے پہلے ہی سے افواج کو سرحدوں پر چوکس کر رکھا ہے۔

فوجی اعتبار سے پاکستانی افواج گو تیار اور مستعد ہیں کہ لیکن ایک ذمہ دار مُلک اور قوم ہوتے ہوئے حکومت اور افواج حتیٰ الوسع کو شش کر ر ہی ہیں کہ بھارت سے جنگ نہ کی جائے۔پاکستان کی حکومت نے افہام و تفہہیم سے معاملات کو طے کرنے کے لئے کئی بار بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی ہے لیکن وُہ پاکستان کو تباہ کرنے پر تُلا ہوا ہے۔وُہ اپنے مذموم ارادوں کو کامیاب بنانے کے لئے ہر مُمکن طریقہ استعمال کر رہا ہے۔ بلوچستان ،سرحد اور سندھ میں اپنے جاسوسں کی مد دسے پاکستان میں بد امنی پھیلانے کو ششوں میں مصروف ہے۔ اُسکی کوشش ہے کہ پاکستان میں مشرقی پاکستان کے سے حالات پیدا کر دئے جائیں۔ بھار ت نے کُلبھوش جیسے جا سو سوں کے ذریعے ایک نیٹ ورک تیار کر رکھا ہے تاکہ پاکستان کو نیست و نابُود کر دیا جائے۔ لہذا وُہ پاکستان کی اساس کے دُشمنون کو لالچ دیکر اُن کو تخریب کاری پر لگاتا ہے اور بھاری رقوم سے اُن کی فنڈنگ کرتا ہے۔ خاص طور پر وُہ بلوچستان میںیہ کھیل کھیل کر بلوچستان کو پاکستان سے علیحٰدہ کر دینا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل راحیل نے دہشت گردی اور مُلک دشمن عناصر کو ختم کرنے کے لئے بھر پُور کوشش کی۔ وُہ اپنی کو شش میں بہت حد تک کامیاب بھی رہے۔ جنرل راحیل بھارت کی حکومت اور افواج کے لئے خوف اور ڈر کی علامت بن چُکے تھے۔ کیونکہ جنرل راحیل بھارت کی عیارانہ اور مکارانہ چالوں سے واقف ہو چُکے تھے۔ لہذا انہوں نے چیف آف سٹاف بننے کے بعد اپنی پُوری توجہ بلوچستان، سر حد اور کراچی میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کو پکڑنے پر مرکوز کی۔ اور ساتھ ہی پاکستان کی افواج کو روائتی جنگ کے تربیت سے بھی لیس کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی فوج دُنیا کی ا فواج میں، پیشہ وارانہ تربیت کے لحاظ سے اعلیٰ مقام رکھتی ہے۔ بھارت پاکستان کی ا فواج کی مہارت اور تربیت سے پُوری طرح آگا ہ ہے۔ لیکن بھارت اپنی دیرنہ خواہش کو ہر صورت پایہء تکمیل تک پہنچانا چاہتا ہے۔ وُہ پاکستان کو اپنے دباؤ میں رکھنا چاہتا ہے تاکہ خطے میں اُسکی بالادستی قائم رہے۔ اور اِس دباؤ کی وجہ سے وُہ کشمیر کو بھول جائے۔ بھارت کی خواہش ہے کہ کشمیری عوام کے حقوق کو سلب کرلے۔ لیکن اُسکی یہ خواہش اِس لئے پوری نہیں ہوسکتی کہ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی اور سیاسی حمائت کرتا ہے۔ پاکستان کشمیر کو مسئلہ کو اقوام متحدہ کا نا مکمل ایجنڈا تصور کرتا ہے۔ جبکہ بھارت اِس کو طاقت کے بل بُوتے پر ہمیشہ کے لئے دبا دینا چاہتا ہے۔۔

پاکستان بھارت سے جنگ کرنے سے بو جوہ کترا رہا ہے۔ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے۔

پا کستان کی خواہش ہے کہ بھارت کے جنگی جنون کو گُفت و شیند سے لگام ڈا لی جائے۔ پا کستان اور بھارت دونوں ہی ایٹمی ممالک ہیں۔ خطرہ ہے کہ جنگ کی وجہ سے ایسی صورت حال نہ پیدا ہو جائے کی دونوں ممالک کو ایٹمی ا سلحہ استعمال کر نا پڑ ے۔ ایسی صورت حال میں سارے خطے کی سلامتی کئی صدیوں تک خطرے میں پڑ جائے گی۔ اب بھی وقت ہے کہ بھارت کوذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے بچگانہ اور احمقانہ جارحیت سے اجتناب کرنا چاہئے۔ معمولی سی انداز ے کی غلطی دونوں مُلکوں کو آسانی سے نیست ہ نابُود کر سکتی ہے۔لیکن مُشکل یہ ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو دونوں ممالک نے اپنی انا کا مسئلہ بنا رکھا ہے۔ تیسرے مُلک کی ثالثی بھی بھارت کو قبول نہیں۔ وُہ ایسے

حا لات پیدا کر دینا چاہتا ہے کہ پاکستان کشمیر کو بھُول جائے۔ پاکستان کے لئے کشمیر شہ رگ کی حییثت رکھتا ہے لیکن دونوں ممالک کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جنگ کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوا کرتی ۔ جنگ سے مزید مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ معامالات بالاآخر گفت و شنید ہی سے طے پاتے ہیں۔ پھر صورتِ حال کو بگاڑنے کی بجائے مذاکرات کو کیوں نہ ترجیح دی جائے؟۔ دھو نس اور دباؤ کی پالیسی کو ختم کرکے آج بھی مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ صرف نیت صاف ہونی چاہیے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

.

مزید : بلاگ