نمائشی کلچر

نمائشی کلچر
نمائشی کلچر

  

ڈاکٹر کا انکار سن کر مریض نے دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دیا، بلکہ مریض اٹھا اور ڈاکٹر کے قدموں سے لپٹ گیا، ڈاکٹر صاحب میں انتہائی غریب ہوں، میرا کوئی نہیں ہے، میں کئی دنوں سے تڑپ رہا ہوں خدا کے لئے میری مدد کریں، پچھلے کئی دنوں سے میرا پیشاب بند ہے، قطرہ قطرہ آتا ہے، میں مرض الموت کا شکار ہوں، خدا کے لئے میرا علاج کریں یا مجھے موت دے دیں میں اور تکلیف برداشت نہیں کرسکتا، ڈاکٹر فرعونی لہجے میں بولا جب ہسپتال میں بیڈ ہی خالی نہیں تو میں کیسے آپ کا علاج کروں؟ ڈاکٹر مسلسل انکار اور مریض مسلسل منتیں ترلے کر رہا تھا، مریض کی درد ناک حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی، میں سفارشی پرچی کے ساتھ لاہور کے معروف گورنمنٹ ہسپتال میں آیا ہوا تھا، میرے مریض کی حالت اتنی درد ناک نہیں تھی، میں آگے بڑھا اور ڈاکٹر سے کہا ڈاکٹر صاحب آپ میری سفارشی پرچی پر اس غریب کو دیکھ لیں، ہم بعد میں آجائیں گے۔

میں یہ کہہ کر کمرے سے نکل آیا، باہر آیا تو چاروں طرف ایم ایس صاحب اور حکمرانوں کے نمائشی بینر جابجا لگے نظر آئے، ایم ایس صاحب نے حکمرانوں سے مل کر یہ کر دیا، وہ کر دیا نمائشی کلچر کی بکواسیات دیکھ کر میں ہسپتال سے نکل کر سڑک پر آگیا، وہاں پر بھی ہر کھمبے درخت عمارت پر حکمرانوں کے فلاحی تاریخی کا رناموں کے اشتہار لٹک رہے تھے۔

خاد م اعلیٰ مسیحا اعظم آپ جب ٹی وی یا اخبارات میں درباری دانشوروں اور حکمرانوں کے چمچوں کے بیانات دیکھتے ہیں تو لگتا ہے پورے پاکستان میں سنہراانقلاب آچکا ہے ہم ترقی یافتہ دور میں داخل ہوچکے ہیں، عمران خان نواز شریف شہباز شریف، آصف علی زرداری کا تجزیہ کریں تو ایک بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہمارا معاشرہ پوری طرح نمائش کے سمندر میں غرق ہوچکا ہے، نفسیاتی طور پر ہم نمائشی کلچر کے غلام ہوچکے ہیں۔

آپ کسی بھی صوبے کے حکمرانوں یا لیڈروں کو دیکھ لیں وہ صرف انہی کاموں پر زور دیں گے، جن سے اُن کی واہ واہ ہو زندہ باد کے نعرے گونجیں آپ اِن کی نفسیات کو دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ یہ ہر اُس منصوبے کو زیر التوا رکھتے ہیں جو دوررس ہو یا اُن کی حکومت کے لئے فوری باعث رنجش نہ بنتا ہو، جیسے ہی کسی حلقے میں الیکشن آجائے تو سرد خانوں سے پرا نے منصوبوں کو نکال لایا جاتا ہے، آپ حکمرانوں کی نفسیات کا پہلو ملاحظہ فرمائیں کہ چند لاکھ سے لے کراربوں روپے سے معرض وجود میں آنے والے منصوبوں کا افتتاح یہ خود کرنا چاہتے ہیں اور جب یہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ افتتاح کرنے آتے ہیں تو اِن کی چال آنکھوں کی چمک اور گالوں پر سرخی کے ڈورے دیکھنے والے ہوتے ہیں اور پھر جب یہ ہاتھ میں قینچی اٹھاکر فیتہ کاٹ کر اپنے نام کی نصب شدہ تختی کا نقاب اٹھاتے ہیں تو کارکن کس طرح ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے اور ہاروں کے انبار صرف نمائشی کلچر اور افتتاح کے بعد اِس طرح دیکھتے ہیں، جیسے کوئی ملک فتح کیا ہو یا انسانیت کی بہت بڑی خدمت کی ہو۔

حکمرانوں کی خوش فہمی کالیول دیکھیں کسی عمارت کی پیشانی پر ان کا نام لکھا جائے تو سمجھتے ہیں کہ تاریخ میں امر ہوگئے ہیں، پورے شہر کی سڑکوں عمارتوں پر ان کے نام کے لہراتے بینر اِن کو تسکین دیتے ہیں، اِن کی فضو ل تقریروں کے دوران ابھرنے والے نعروں اور گونجنے والی تالیوں کو یہ حاصل زندگی اور شہرت دوام سمجھتے ہیں، اِن کی طفلگی دیکھیں کہ اِن باتوں کا حقیقت سے کوئی بھی تعلق نہیں ہوتا یہ تو پا نی پر بننے والے بلبلے ہوتے ہیں جو چند لمحوں میں ہی ختم ہو جاتے ہیں اور یہ تالیاں برف کی ٹکیاں ہوتی ہیں جو وقت کی دھوپ میں پگھل جاتی ہیں اور نعرے گردش لیل و نہار میں گھل جاتے ہیں اور تختیوں پر لکھے نام ریت کی لکیریں ہوتے ہیں جو ہوا کے جھونکوں سے اڑ جاتے ہیں، اگر یہ زندہ باد کے نعرے، بھنگڑے قصیدے باجے تمغے جلسے تاریخ کے اوراق میں معتبر ہوتے تو آج غلام محمد سکندر غلام اسحاق ایوب خان یحییٰ خان شوکت عزیز مشرف فراموشی کے طا قچے میں سجے نظر نہ آتے، آج ما ضی کا غبار انہیں گمنامی کی چادر میں نہ لپیٹ لیتا، بلکہ تاریخ آسمان پر یہ روشن ستاروں کی طرح چمک رہے ہوتے، اِن حکمرانوں کی نفسیات کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ اپنے اردگرد انہی لوگوں کی بارات اکٹھی کرتے ہیں جو اِن کی زیادہ سے زیادہ خوشامد احسن طریقے سے کرسکے۔

حکمران نمائشی لت میں اِس طرح ڈوبے ہیں کہ چھوٹے سے چھوٹا کام بھی کر نا ہو تو اِس کے لئے نمائش اور تشہیر کا پہلو نکال لیتے ہیں، نمائشی کلچر نے ہمارے معاشرے کو بھی چاٹ لیا ہے، ہم اپنے مرنے والوں کی قل خوانی بھی اِس شان سے کرتے ہیں کہ لوگ داد و تحسین کے نعرے لگاتے رخصت ہوتے ہیں ۔

ہم کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، اگر کوئی بیمار ہے تو پرائیوٹ مہنگے ہسپتال سے علاج کراتے ہیں اور پھر اُس کا اشتہار لگاتے پھرتے ہیں کہ فلاں پرائیوٹ ہسپتال سے آپریشن کرایا ہے، فلاں مہنگے ڈاکٹر سے اپنا چیک اپ کراتا ہوں اور تو اور نمائشی کلچر نے اب مذہبی عبادات کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے جو لوگ سرکاری حج پر جاتے ہیں، وہ شرمندہ اور شرمسار پھرتے ہیں، بتانے سے گریز کرتے ہیں جو لوگ پرائیوٹ حج کرتے ہیں، وہ بلا بلا کر سب کو بتاتے ہیں اور پھر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قریب ترین ہوٹلوں کی نمائش بتائی جاتی ہے، پھر عمرے کے پیکیج کس گروپ سے۔ یہاں تک کہ مرنے والے کو کس قبرستان میں دفن کرنا ہے۔

میں ایک جنازے پر گیا تو ورثا نے جنازے کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھے ہوئے تھے یہ مرنے والے کی بھی خواہش تھی کہ رش اتنا زیادہ تھا کہ جنازے کو بانس باندھنے پڑے اور پھر مرنے کے بعد پورے علاقے میں اعلان کرائے جاتے ہیں، مرنے کے ساتھ ہی گھر والے مہنگے ترین ٹینٹ اور کھانوں کا اہتمام کرتے ہیں جو لوگ کھانوں میں بوفے لگا دیں، ان کی شہرت چاروں طرف پھیل جاتی ہے پھر مرنے پر معاشرے کے بااثر لوگوں کو بلایا جاتا ہے اور گھنٹوں لاش کو رکھ کر خاص لوگوں کا انتظار کیا جاتا ہے، اخبارات میں بڑے بڑے اشتہار شائع کئے جاتے ہیں۔

سوگواران مرنے والے کے بعد اپنی امارت کے اشتہار چلاتے ہیں، اِس مرض میں ہمارا سارا معاشرہ ڈوبا نظر آتا ہے ہم چام کے دام چلا کر سیٹھ بننا چاہتے ہیں، شیرِ پنجاب شیر پاکستان شیر بنگال ثانی قائداعظم محافظ جمہوریت خطیب پاکستان خطیب اسلام عالمی مبلغ اسلام پیر طریقت سرتاج الاولیاء مفتی اعظم مفتی پاکستان یہ لوگ اپنی نگرانی میں اشتہار اپنی مرضی سے چھپواتے ہیں، نام کے ساتھ ہوش اڑادینے والے حشر اٹھا دینے والے القاب و خطابات پھر جلسے میں اپنے آدمی بھیج کر فقید المثال اور پر جوش استقبال کرانا سٹیج سیکرٹری کو چٹ بھیج کر اپنا نام مجوزہ القابات کے ساتھ پکارنے کی تاکید کرتے ہیں یہ سب نمائشی اقدامات ہی تو ہیں۔

مزید :

کالم -