ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 20

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 20
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 20

  

قسطنطنیہ کی فتح

تاہم اس کے بعد بھی مسلمانوں نے کئی دفعہ قسطنطنیہ پر حملہ کیا۔ اس کی وجہ شاید روایات میں آنے والی بعض پیش گوئیا ں ہوں ۔ جیسے ایک روایت بہت مشہور ہے کہ یقینا تم قسطنطنیہ فتح کرو گے اور وہ امیر کیا ہی خوب ہو گا اور وہ لشکر کیا ہی خوب لشکر ہو گا۔ مگر یہ روایت ضعیف ہے ۔تاہم بعض دیگر روایات میں فتح قسطنطنیہ کی پیش گوئی موجود ہے ۔ مگر اس کے باوجود قسطنطنیہ کی فتح پہلے حملے کے کم و بیش آٹھ صدی بعد ہی ممکن ہوئی جب 1453میں سلطان محمد فاتح نے اسے فتح کیا۔مسلمانوں کی تمام تر فوجی قوت وطاقت کے باوجود اس فتح میں تاخیر کا سبب اس شہر کا جغرافیہ تھا۔

قسطنطنیہ محض ایک شہر نہ تھا۔یہ ایک تاریخ تھی۔ ایک مذہب تھا۔ عظمت کی ایک علامت تھی۔مگر ان سب کے ساتھ یہ ایک آہنی حصار بھی تھا۔ یہ ایک ناقابل تسخیر شہر تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ دنیا کی عظیم ترین سلطنت یعنی رومی ایمپائر جو بعد میں بازنطینی ایمپائر کہلائی ، اس کا دارالخلافہ تھا۔ قدرت نے اس شہر کو ایسا جغرافیہ عطا کیا تھا کہ اس کو فتح کرنابہت مشکل تھا۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 19 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس بات کو سمجھنے کے لیے استنبول کا جغرافیہ سمجھ لیجیے ۔ موجودہ استنبول کا ایک حصہ ایشیا میں ہے اور دوسرا یورپ میں ۔یورپی حصے میں دور تک آبنائے باسفورس کے پانی کی ایک خلیج بنی ہوئی ہے ۔ جو گولڈن ہارن کہلاتی ہے ۔اس کے ایک طرف گلاطہ ٹاور اور ٹاکسم کا علاقہ ہے اور دوسری طرف سلطان احمدکا وہ علاقہ جس میں توپ کاپی اور آیا صوفیہ وغیرہ موجود ہیں ۔

قسطنطنیہ کا قدیم شہراس حصے میں واقع تھا جسے اب ہم سلطان احمد کہتے ہیں ۔سلطان احمد کے ایک طرف یہی گولڈن ہارن کا پانی ہے ۔ باقی دو اطراف بحیرہ مرمرہ کا سمندر ہے ۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا کہ سلطان احمد ایک پہاڑ ی علاقہ ہے ۔ یہ پہاڑ ی علاقہ اصل زمین سے آگے ایک جزیرہ نما کی طرح باہر نکلا ہوا ہے جس کے تین طرف پانی ہے ۔پہاڑ ی ہونے کی بنا پر یہاں کوئی ساحل نہیں جہاں کوئی فوج لنگر انداز ہوکر اس پر حملہ کرسکے ۔اس جزیرہ نما کی چوتھی سمت مغرب میں بازنطینی ایمپائر کی پوری سلطنت موجود تھی جو بلقان اورمشرقی یورپ میں پھیلی ہوئی تھی۔

اب یا تو کوئی فاتح پوری بازنطینی سلطنت کو مغربی سمت سے فتح کرتا ہوا بالکل آخر میں آ کر اس شہر کا محاصرہ کرے یا پھرسمندر کی سمت سے اس کا محاصرہ کر کے اس کی واحد بندرگاہ جو گولڈن ہارن میں واقع تھی اس پر قبضہ کر کے شہر میں داخل ہو۔مگر سوال تھا کہ یہ کیسے کیا جائے ۔رومی سلطنت کا اپنا بحری بیڑ ہ تھا۔شہر کی حفاظت کے لیے ایک بہت بڑ ی دیوار بنی ہوئی تھی جس پر متعین فوجیوں کے تیروں سے بچ کر نکلنا بہت مشکل تھا۔وہ اوپر کھڑ ے ہوکر جب نیچے گولڈن ہارن میں موجود حملہ آوربحری بیڑ ہ پر تیروں کی بوچھاڑ کرتے تو ان کا بچنا بہت مشکل تھا۔دوسرے یہ کہ خشکی کے راستے کسی طرح محاصرہ کربھی لیں تب بھی یورپ کے سخت جاڑ ے میں یہ محاصرہ ہرحال میں ختم کرنا پڑ تا کیونکہ برفباری کسی بھی فوج کو تباہ کرنے کے لیے کافی تھی۔جبکہ قلعے کی موٹی دیواریں اور سپلائی لائن ایسے کسی بھی محاصرے کو کئی ماہ تک آسانی سے جھیل سکتی تھی۔

ان سب حقائق کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف جو چیز جاتی تھی وہ یہ کہ مسلمان تاریخ میں زیادہ تر قسطنطنیہ کے مشرق میں ایشیا میں موجود تھے ۔ ان کے لیے یہاں تک پہنچنے کی ایک ہی شکل تھی کہ بحری راستے سے یہاں تک آ کر اس کا محاصرہ کرتے ۔ ایسے کسی محاصر ے سے فتح کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔

تاہم سلطان محمد فاتح کے تخت نشین ہونے تک صورتحال اس پہلو سے تبدیل ہو چکی تھی کہ مسلمانوں کی ایک بہت طاقتور سلطنت یعنی سلطنت عثمانیہ قسطنطنیہ کے بالکل برابر میں قائم ہو چکی تھی۔ رفتہ رفتہ یہ سلطنت پھیل کر بلقان کی سمت میں پہنچ گئی تھی۔گویا مسلمان پہلی دفعہ بازنطینی سلطنت کے عقب میں خشکی پر موجود تھے ۔دوسری طرف بازنطینی سلطنت اپنی طبعی عمر پوری کر کے قریب المرگ تھی۔

اسی پس منظر میں سلطان محمد نے انیس سال کی عمر میں تخت نشین ہونے کے دو برس بعد ہی قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا۔ تاہم قسطنطنیہ اس حالت میں بھی کوئی تر نوالہ نہیں تھا۔اول تو شہر کی دیواریں بہت مضبوط تھیں دوسرے قیصر نے گولڈن ہارن کے دہانے پر آرپار ایک موٹی آہنی زنجیر لگوا کر بحری جہازوں کا داخلہ بند کر دیا تھا۔ جس کے بعد بندرگارہ کسی حملے سے بالکل محفوظ ہوگئی۔ چنانچہ شہر میں داخلے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا تھا۔

سلطان نے ان دونوں مسائل کا علاج کر لیا۔ شہر کی دیواروں کو ڈھانے کے لیے اپنے زمانے کی سب سے بڑ ی توپ بنوائی گئی ۔ جبکہ بحری جہازوں کو آبنائے باسفورس سے گولڈن ہارن پہنچانے کے لیے اس نے خشکی میں جہازوں کے لیے ایک راستہ بنوایا۔ یہ راستہ تیل ملے ہوئے لکڑ ی کے تنوں پر مشتمل تھا۔ ان پر رکھ کر بحری جہازوں کو موجودہ گلاطہ ٹاور کے علاقے سے ہوتے ہوئے گولڈن ہارن میں اتاردیا گیا۔

اب صورتحال عثمانیوں کے حق میں ہو چکی تھی، مگر شہر کی دیواروں کو توڑ نا بہت مشکل ثابت ہورہا تھا۔محاصرہ گرما کے آغاز پر 6اپریل کو شروع ہوا تھا اور مئی کا آخر آ گیا تھا، مگر دیوار ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی، گرچہ کمزور پڑ چکی تھی۔ عثمانیوں کا مسلسل جانی نقصان ہورہا تھا۔سلطان نے قیصر کو صلح کی آخری پیشکش کی کہ پرامن طور پر شہر حوالے کر دیا جائے تو قیصر کو سلطنت کے ایک حصہ کا گورنر مان کرخودمختاری دے دی جائے گی اور تمام لوگوں کو جان مال آبرو کا مکمل تحفظ دیا جائے گا۔ قیصر نے یہ پیشکش رد کر دی۔ آخر کار 29مئی کو فیصلہ کن حملہ کیا گیا ۔ رومیوں نے جان توڑ مزاحمت کی۔ مگر فصیل شہر کے ایک کمزور حصے سے سلطان کی فوج اندر داخل ہوگئی۔جس کے بعد شہر فتح ہو گیا۔  (جاری ہے)

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 21 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

سیرناتمام -