پولیس اصلاحات۔۔۔ چند گزارشات

پولیس اصلاحات۔۔۔ چند گزارشات

  

1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برصغیر میں لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لئے1861ء میں ایک پولیس ایکٹ انگریز کی حکومت نے متعارف کروایا، جس میں سخت ترین قوانین بنائے گئے۔1947ء کے بعد اس ایکٹ میں چند تبدیلیاں کر کے اسے ریاست پاکستان میں لاگو کر دیا گیا، اس کے بعد اس ایکٹ میں چیدہ چیدہ تبدیلیاں ہوتی رہیں، مگر کچھ بہت ہی اہم اور بنیادی تبدیلیاں 2002ء کے ایکٹ میں سامنے آئیں جو گزشتہ پولیس ایکٹ سے خاصا مختلف اس لحاظ سے تھا کہ اس میں سیاسی اثرو رسوخ نہ ہونے کے برابر رہ گیا،بلکہ پہلا ایکٹ تو مقتدر حلقے کی طاقت کا منبع سمجھا جاتا تھا اور دیگر تبدیلیوں کے ساتھ ایک اہم تبدیلی یہ بھی ہوئی کہ محکمے کے اندر دو اہم شعبے آپریشن اور انویسٹی گیشن بنا دیئے گئے،ان کے ساتھ پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلینٹ کے نام سے اور پبلک پولیس رابطہ کمیٹیاں بنانے کی منظوری لی گئی۔

یہ کمیٹیاں جاپان کی کمیونٹی پولیس کی طرز پر تھیں تاکہ عوام اور پولیس میں فاصلے کم کئے جائیں، مگر صد افسوس! ابھی یہ ایکٹ مکمل طور پر فعال بھی نہیں ہوا تھا کہ 2004ء میں اس ایکٹ میں ترمیم کر کے پھر سے سیاست دانوں کا کردار محکمۂ پولیس میں بڑھا دیا گیا اور جن مقاصد کے حصول کے لئے یہ ایکٹ بنایا گیا، وہ ادھورے ہی رہ گئے۔خیبرپختونخوا میں 2017ء میں نیا پولیس ایکٹ متعارف کروایا گیا۔ اس ایکٹ میں بھی 2002ء کے پولیس ایکٹ کی طرز پر پبلک پولیس رابطہ کمیٹیاں بنانے کی سفارشات منظور کرائی گئیں،جو کہ خِرد مندی ہے۔ اب یہ خیبرپختونخوا میں کام کر رہی ہیں،جس سے عوام کے مسائل کم ہو رہے ہیں اور عوام کے روابط پولیس کے ساتھ بڑھ رہے ہیں،جو عوام کے لئے اچھی نوید ہے،اس عمل سے کمیونٹی پولیس کے نظام کو فروغ ملا، تھانہ کی سطح پر ملازمین کے مسائل حل کئے بغیر، کوئی بھی اصلاحاتی بل کارآمد نہیں ہو گا، کیونکہ پولیس کا 80فیصد دارو مدار تھانہ کی ورکنگ پر ہوتا ہے اور اگر تھانے کے ملازمین خود ہی مسائل میں اُلجھے رہیں گے تو وہ عوام کو مصائب سے چھٹکارا کیسے دلائیں گے؟تھانہ کی سطح کے ملازمین پر سخت سے سخت چیک ضررو لگائیں،مگر خدارا! انہیں سہولتوں سے بھی نوازیں۔

پنجاب میں آج کل نیا پولیس آرڈر لانے کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں،ایسے میں چند تجاویز اِس حوالے سے پیشِ خدمت ہیں۔ محکمے میں ملازمین کو آج بھی ویسی ہی سخت سزائیں دی جاتی ہیں،جو 1861ء ایکٹ کے تحت وقتِ غلامی میں انگریز دیا کرتا تھا۔انگریز کی حکومت میں سخت سزائیں مثلاً معطلی، تنخواہ کی بندش، کواٹر گارد نظر بندی، ریورشن اور محکمے سے برخاستگی اِس لئے تھیں کہ جیسا ظلم و ستم حکومت عوام پر کروانا چاہے، پولیس بغیر حیل و حجت کے عوام پر روا رکھے۔اب ان ناروا سزاؤں پر نظرثانی کی اشد ضرورت ہے۔رشوت جیسے ناسور کا مکمل خاتمہ ہونا چاہئے،اس کے لئے تھانے کی سطح پرسٹیشنری فراہم کی جائے،اچھی حالت کی گاڑیاں دی جائیں،

موجودہ گاڑیوں کی حالت اس درجہ ابتر اور بالخصوص انویسٹی گیشن شعبے کی اکثریت تو خراب ہی کھڑی رہتی ہیں۔شہر سے باہر ملزموں کو پکڑنے اور چھاپے مارنے کے لئے ہر تھانے میں علیحدہ گاڑی ہر وقت موجود ہونی چاہئے اور سرکاری گاڑی میں ڈیزل/پیٹرول ڈلوانے کے لئے سہولت ہونی چاہئے،تاکہ بغیر دِقت کے کارِ سرکار میں مصروف و مشغول رہا جائے۔ آئی ڈی کارڈ کی کاپی کا حصول، سی ڈی آر اور موبائل ٹریکنگ کا نظام، ضلع کی سطح سے تھانے کی سطح پر منتقل کیا جائے،جس سے ملازمین جلد از جلد معلومات حاصل کر سکیں اور بروقت ملزموں تک پہنچ سکیں۔

تھانوں میں ملازمین کو سازگار ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بہتر طور پر فرائض انجام دے سکیں۔ان میں سرکاری سطح پر باورچی، دھوبی، حجام اور خاکروب ہونے چاہئیں، ملازمین کی اکثریت ہیپاٹائٹس اور ذیا بیطس کے امراض میں مبتلا ہے، کیونکہ اکثر تھانوں میں صاف پانی تک میسر نہیں، ملازمین کی پروموشن کا خود کار طریقہ متعارف کروایا جائے اور کارکردگی کی بنا پر ترقی دی جائے۔ یہاں اعلیٰ افسران کے لئے کوئی مناسبPromotion Structure ہی نہیں ہے۔ کانسٹیبل سے انسپکٹر تک اکثر و بیشتر 12سے 18سال تک ایک ہی رینک میں گزار دیتے ہیں۔

پولیس ایکٹ2002ء سے پہلے کسی بھی ماتحت کو محکمے سے برخاست کرنے سے پہلے باقاعدہ بورڈ بیٹھتا تھا،لیکن اس ایکٹ کے بعد یہ اختیارات ایک ایس پی کی سطح کے افسر کو تفویض کر دیئے گئے اور بورڈ کی بجائے اب ایس پی ماتحت کو ادنیٰ سے ادنیٰ غلطی پر بھی برخاستگی کا پروانہ تھما دیتا ہے۔اس نکتے پر غور کرنا چاہئے اور بورڈ کا نظام بحال کیا جائے اس سے ملازمین کا اعتماد بحال ہو گا۔ 1861ء کے پولیس ایکٹ سے لے کر اب تک جتنے بھی پولیس ایکٹ آئے ان میں پولیس کی ڈیوٹی کا وقت چوبیس گھنٹے ہی ہے،جس پر نظرثانی کی اشد ضرورت ہے،ملازمین کے اوقات کار دیگر محکموں کے ملازموں کی طرح آٹھ گھنٹے ہونے چاہئیں اور اگر اضافی ڈیوٹی لی جائے تو اس کا اوور ٹائم ملنا چاہئے تاکہ ملازمین خوش دِلی سے فرائض انجام دے سکیں۔اس کے ساتھ ساتھ ملازمین کو ملزموں کو عدالت لے جانے اور پھر وہاں سے جیل پہنچانے کا الاؤنس بھی ملنا چاہئے تاکہ ملازمین آمدورفت کے اخراجات بآسانی برداشت کر سکیں، تفتیشی افسران کو جو تفتیشی بل ملتا ہے اس کے حصول کا طریقہ بھی آسان ہونا چاہئے۔ اول تو ضابطۂ فوج داری کی تمام دفعات کے جرائم پر تفتیشی افسر کو بل نہیں ملتا اور جو ملتا ہے وہ اصل خرچ کا تیسرا حصہ ہوتا ہے، پھر بل بھی اگر تفتیشی افسر خود پاس کروانے جائے تو وہ نہیں ہوتا، پھر اسے چارو ناچار ٹھیکیدار کا سہارا لینا پڑتا ہے،اس طرح جو بل تفتیشی افسر کے حصے میں آتا ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے،جبکہ ہونا تو یوں چاہئے کہ اوور ٹائمنگ کا بل، عدالتی سفری الاؤنس اور مکمل چالان جمع ہونے کے بعد اگلے مہینے کی تنخواہ کے ساتھ یہ بل بھی جمع ہو کر ملازم کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل ہو جائے۔ اس سے کرپشن میں کمی کے ساتھ ساتھ ملازمین کے مسائل بھی کم ہوں گے۔

ملازمین کا مورال اور ان کی عزتِ نفس بحال کرنے کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں،جب سپیشل ڈیوٹی جیسے محرم، میچ یا کسی اور ہنگامی صورت حال سے نپٹنے کے لئے سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور ملازمین کی دو تین دن پہلے ریہرسل ڈیوٹی لگ جاتی ہے اور ’’صحیح ایونٹ‘‘ والے دن کے علاوہ کبھی کسی ملازم کے کھانے پینے کا انتظام محکمہ نہیں کرتا۔ صبح سے ہی تقریباً سٹینڈ اَپ کر دیا جاتا اور رات گئے کہیں جا کر سٹینڈ ڈاؤن ہوتا ہے۔ اس دوران کوئی ملازم اپنا پوائنٹ کسی صورت بھی نہیں چھوڑ سکتا۔ اس کے لئے آرمی کی طرز کا نظام رائج ہونا چاہئے اور جہاں ملازم جتنے دن تعینات ہو، وہاں اس کے کھانے پینے کا انتظام و انصرام محکمے کے ذمہ ہو۔اس سے ملازمین کا محکمے پر اعتماد بحال ہو گا۔ملازمین کے علاج معالجہ کے لئے ضلع کی سطح پر پولیس ملازمین کے لئے ہسپتال ہو، جہاں وہ اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا علاج کروا سکیں، پولیس ملازمین کا کوٹہ ہر تھانے کی حدود میں قائم اچھے سکولوں اور کالجوں میں ہونا چاہئے، تاکہ ملازمین کے بچے سرکاری طور پر مفت تعلیم حاصل کر سکیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہر پولیس سٹیشن کے ساتھ ملازمین کے لئے سرکاری فیملی رہائشیں بھی بنائی جائیں،اسی طرح پولیس ملازمین کو سال بعد ’’لانگ لیو‘‘ بھی دی جانی چاہئے، جو کم از کم ایک ماہ پر محیط ہو تاکہ ملازمین بغیر کسی بندش کے اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزار سکیں۔

Back to Conversion Tool

مزید :

رائے -کالم -