مسئلہ افغانستان اور امریکہ کی بے جا مداخلت

مسئلہ افغانستان اور امریکہ کی بے جا مداخلت

  

مسئلہ افغانستان نہ صرف پاکستان، بلکہ مسلم ممالک کے لئے بہت اہم ہے ۔امریکہ کئی برسوں سے افغانستان پر قبضہ جمائے ملک کے وسائل کو استعمال کررہاہے اورقدرتی ذخائرپرقابض ہو کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہتاہے،اب اگر امریکہ مسئلہ افغانستان حل کروانے کے لئے بظاہر جدوجہد اور کوشش کرتانظر آرہا ہے، مگر عملی طور پر وہ کیا کرتاہے آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ موجود ہ حکومت یمن سمیت تمام مسلم ممالک کے اتحاداور ان کے مسائل کے حل میں مخلص نظر آتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان یمن اور دیگر مسلم ممالک کے سفیروں کے ساتھ ملاقاتیں کرکے مسلم امہ میں اتحاداور یکجہتی کی کوشش میں مصروف ہیں،امریکہ کی بے جا مداخلت کو افغانستان میں ہر صورت میں ختم کرکے افغانستان کی مکمل آزادی اور خودمختاری کو بحال کرنا ہو گا۔امریکہ نائن الیون کے بعد سے افغانستان میں برسرپیکار ہے، لیکن آج تک کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکا، اپنی معیشت تباہ اور سینکڑوں فوجی جانیں افغانستان میں لڑتے ہوئے گنوادیں اب اعتراف کیا ہے کہ مسئلہ افغانستان میں پاکستان کا کردار اہم ہے، طالبان بھی موقع ضائع نہ کریں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے ملاقات کے بعد دونوں ممالک نے بیان جاری کئے ۔ پاکستان نے کہا کہ پاکستان اور امریکا نے دوطرفہ اور علاقائی مشترکہ مقاصد کے حصول کے لئے رابطے استوار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نیورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکا پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔

وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ افغان مسئلے کے حل میں پاکستان اہم کردار ادا کر سکتاہے، افغان مسئلے کے حل کے لئے افغان طالبان بات چیت کا موقع ضائع نہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے، خطے میں مسائل کے حل اور مشترکہ مفادات کے حصول کے لئے پاک امریکا بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ اس سے پہلے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکہ میں قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن سے ملاقات کی۔ دونوں راہنماؤں کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور جنوبی ایشیائی خطے کی صورت حال سمیت افغانستان کے تنازع کے پُرامن حل پر گفتگو ہوئی۔واشنگٹن میں پاکستان کے سفارت خانے کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے اس موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔

دوسری جانب روسی صدر کے ایلچی ضمیر کابلوف نے روسی دارالحکومت ماسکو میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ طالبان افغانستان سے فوج کے انخلا کا شیڈول دیں، امریکہ اور نیٹو افغان مسئلہ حل کرنے کے بجائے بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ طالبان افغانستان بارے ماسکو میں ہونے والے آئندہ اجلاس میں شرکت پر بھی آمادہ ہیں۔ وہ اصولی طور پر بات چیت کے لئے تیار ہیں اور افغانستان کے مسئلے کے بات چیت کے ذریعے حل کو پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس 17 سال کی طویل مدت تھی جس میں وہ اپنے بنیادی مقاصد حاصل کر سکتا تھا، 2001ء میں افغانستان میں طالبان کا نام و نشان تک نہیں تھا، لیکن اب ملک کا 30فیصد سے زیادہ حصہ ان کے کنٹرول میں ہے۔ماسکو میں 9نومبر2018ء کو افغان تنازعہ کے حوالے سے عالمی کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس (ماسکو فارمیٹ) کانفرنسوں کے سلسلے میں دائر کی گئی تھی۔جس میں اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے رکن ممالک چین، روس اور امریکی نمائندوں سمیت وسطی ایشیا کے پانچ ممالک اور پاکستان، ایران اور بھارت کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔کانفرنس میں کابل انتظامیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے پانچ رکنی وفد بھی موجود رہا،اسی طرح امارت اسلامیہ کی جانب سے سیاسی دفتر کے سربراہ شیرمحمد عباس ستانکزئی نے بھی پانچ رکنی وفد کی قیادت کرتے ہوئے کانفرنس میں شرکت کی۔

سابقہ کانفرنسوں کی نسبت اس کانفرنس کا امتیاز یہ رہا کہ خطے کے تقریباً تمام ممالک اور کانفرنس کے شرکاء کی اکثریت نے امارت اسلامیہ کے اس مؤقف سے ہم آہنگی کا اظہار کیا ،جو اس مجلس میں تحریری شکل میں شرکاء میں تقسیم کیا گیا۔کانفرنس کے شرکاء جن کی اکثریت ہمارے ہمسایہ ممالک تھے، بہ یک آواز کہا کہ افغانستان کا مسئلہ فوجی پالیسی کے ذریعے حل نہیں ہو سکتا۔ امریکی افواج کی موجودگی خطے میں امن وامان اور سلامتی کو ختم کردیتی ہے۔ افغان عوام کو حق ہے کہ اپنا نظام خود ہی قائم کریں، افغانستان کو اجنبی مداخلت اور جارحیت کا میدان نہیں ہونا چاہیے،افغانوں کو عالمی مداخلت کے بغیر اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے دیا جائے ،تاکہ ہونے والے نقصانات کا ازالہ ہو سکے۔کانفرنس میں امارت اسلامیہ کے دلائل پر استوار اور محکم مؤقف سے شرکاء کا استقبال یہ بات ثابت کرتا ہے کہ اب خطے اور دنیا کے عوام کی اکثریت اورحکومتیں افغان تنازعہ کی حقیقت سے باخبر ہیں

اور یہ جانتی ہیں کہ یہاں جنگ کی اصل علت کیا ہے اور امن کس طرح قائم ہو سکتا ہے؟اس کانفرنس نے اس حقیقت کو ثابت کردیا کہ افغانستان میں امریکی غاصبوں کی موجودگی، جس طرح افغان عوام کی خودمختاری اورمذہبی و ملی اقدار پر تجاوز ہے، اسی طرح خطے کے حقائق سے بھی متصادم ہے اور بحران کا سبب ثابت ہوسکتا ہے۔امارت اسلامیہ افغانستان اس طرح کانفرنسوں کے انعقاد کو تنازعہ کے حل کی جانب مثبت قدم سمجھتی ہے اور امید کرتی ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے، کیونکہ جنگ کا مسئلہ ہمیشہ افہام وتفہیم اور سیاسی تعامل کے ذریعے ہی حل ہوتا ہے۔امریکی حکومت نے بھی اس کانفرنس میں اپنا نمائندہ بھیجا تھا، تو یہ بہترین اقدام ہے۔ امید ہے کہ مخالف پہلو مستقبل میں اس سے اعلیٰ سطح اور موثر طور پر اس افہام وتفہیم کے منصوبے میں شرکت کریں اور آخر میں اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے،تاکہ اپنی قابض افواج کر خروج سے اس جنگ کو ختم کردے، جسے سترہ سال قبل نامعلوم دلائل اور غلط محاسبہ کی بنیاد پر شروع کی تھی۔ وہ لڑائی جس سے امریکہ کو بھاری جانی و مالی نقصانات کے علاوہ اور کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا۔

مزید :

رائے -کالم -